Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر: ’بھوت‘ کی افواہ سے امراوتی کا قبائلی اسکول خالی، ۶۰۸؍طلبہ گھر لوٹ گئے

Updated: August 17, 2026, 9:04 PM IST | Amravati

مہاراشٹر کے امراوتی میں ’’بھوت‘‘ کی افواہ نے قبائلی رہائشی اسکول کے طلبہ میں ایسا خوف پھیلایا کہ۶۰۰؍سے زائد طلبہ اسکول کے کیمپس سے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ طبی ماہرین نے کسی مافوق الفطرت سرگرمی کے ثبوت سے انکار کرتے ہوئے واقعے کو اجتماعی بے چینی اور نفسیاتی اثرات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

Some students claimed they heard unusual sounds at night. Photo: INN
کچھ طلبہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے رات کے وقت غیر معمولی آوازیں سنیں۔تصویر: آئی این این

رپورٹس کے مطابق مہاراشٹر کے ضلع امراوتی میں واقع ایک سرکاری قبائلی رہائشی اسکول سے۶۰۰؍سے زائد طلبہ اس وقت فرار ہو گئے، جب کیمپس میں ’’بھوت‘‘ کی افواہوں نے طلبہ میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ یہ واقعہ امراوتی کے میل گھاٹ خطے کے چکھلدارہ تعلقہ میں واقع ڈوما گورنمنٹ ٹرائبل آشرم شالہ میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق ۳۴۵؍لڑکیوں اور۲۶۳؍ لڑکوں سمیت ۶۰۸؍ طلبہ نے مبینہ مافوق الفطرت سرگرمیوں کے خدشات بڑھنے کے بعد رہائشی اسکول چھوڑ دیا اور اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ 
اطلاعات کے مطابق خوف و ہراس اس وقت شروع ہوا جب کچھ طلبہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے رات کے وقت غیر معمولی آوازیں سنیں، جن میں پازیب کی آواز، رونے اور ہنسنے جیسی آوازیں شامل تھیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب کئی طلبہ میں غیر معمولی علامات ظاہر ہونے لگیں۔ رپورٹس کے مطابق کچھ طلبہ بے ہوش ہو گئے، کانپنے لگے، چیخنے، رونے یا بے قابو ہو کر ہنسنے لگے، جبکہ کچھ دیگر مبینہ طور پر جارحانہ رویہ اختیار کرتے یا پریشان اور بدحواس نظر آئے۔ جیسے جیسے مزید طلبہ نے ان واقعات کو دیکھا، ہاسٹل میں خوف تیزی سے پھیل گیا۔ بعض طلبہ کی ایسی حالتوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں، جس سے اسکول میں بھوت ہونے کے دعوؤں کو مزید تقویت ملی۔

یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں کے شہیدوں اور مجاہدین آزادی کے ناموں اور کارناموں پرمشتمل نمائش

طبی ٹیموں نے ’’بھوت‘‘ کے نظریے کو مسترد کر دیا
تاہم، طلبہ کا معائنہ کرنے کیلئے بلائی گئی طبی ٹیموں کو مبینہ طور پر کسی مافوق الفطرت سرگرمی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ڈاکٹروں نے ان واقعات کی وجہ اجتماعی بے چینی اور نفسیاتی اثرات کو قرار دیا۔ ایسے واقعات اس وقت رونما ہو سکتے ہیں جب شدید خوف یا ذہنی دباؤ ایک دوسرے سے قریبی طور پر جڑے ہوئے گروہ میں پھیل جائے۔ اس صورت میں افراد کسی مافوق الفطرت وجہ کے موجود نہ ہونے کے باوجود حقیقی جسمانی اور نفسیاتی علامات محسوس کر سکتے ہیں۔ اس پیش رفت نے ہاسٹل کے ’’بھوت زدہ‘‘ ہونے کے ابتدائی دعوے پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں اور طلبہ کی ذہنی و نفسیاتی بہبود کی جانب توجہ مرکوز کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق متاثرہ طلبہ میں سے کچھ کو طبی اور نفسیاتی معائنے کیلئے لے جایا گیا، جبکہ حکام نے طلبہ کی کونسلنگ اور ان کے اہل خانہ کو یقین دلانے کی کوششیں بھی شروع کر دیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے خود فرقہ پرست اور دہشت گرد ہیں‘‘

توہم پرستی کے خلاف تنظیم نے مداخلت کی
مہاراشٹر اندھ شردھا نرملن سمیتی (MANS) نے بھی اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے افواہوں کو دور کرنے اور طلبہ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ اسکول میں بھوت ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کونسلنگ اور بیداری مہم کے بعد ادارہ چھوڑ کر جانے والے کئی طلبہ اب واپس آنے کیلئے تیار ہیں۔ اس واقعے نے دور دراز قبائلی علاقوں کے رہائشی اسکولوں میں رہنے والے بچوں کو درپیش چیلنجز پر بھی سوالات اٹھا دیئے ہیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جب افواہیں اور خوف تیزی سے پورے کیمپس میں پھیل جائیں۔ حکام اب طلبہ کا اعتماد بحال کرنے، کونسلنگ کرنے اور غلط معلومات کو مزید پھیلنے سے روکنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ فی الحال اسکول کے ’’بھوت زدہ‘‘ ہونے کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور اس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ جو واقعہ ابتدا میں مافوق الفطرت سرگرمی کا معاملہ معلوم ہوتا تھا، اسے اب طبی ماہرین تیزی سے اجتماعی بے چینی اور نفسیاتی علامات سے جڑا ایک واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK