سرکاری کمپنیوں کے شیئر اور املاک کی فروخت میں غیر معمولی تیزی، ۱۲؍ ماہ کیلئے ۸۰؍ ہزار کروڑ کا ہدف تھا، ۵؍ماہ میں ہی ۷ء۵۵؍ہزار کروڑجمع کئے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 12:20 PM IST | Agency | New Delhi
سرکاری کمپنیوں کے شیئر اور املاک کی فروخت میں غیر معمولی تیزی، ۱۲؍ ماہ کیلئے ۸۰؍ ہزار کروڑ کا ہدف تھا، ۵؍ماہ میں ہی ۷ء۵۵؍ہزار کروڑجمع کئے۔
سرکاری کمپنیوں کی املاک اور حصص کو فروخت کرنے کے معاملے میں غیر معمولی تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودی سرکار نےنجکاری کیلئے مالی سال ۲۷ء میں ۱۲؍ مہینوں کیلئے جو ہدف طے کیاتھا اس کا ۷۸؍ فیصد ابتدائی ۵؍ مہینوں میں ہی حاصل کرلیا گیا۔ حکومت نے مالی سال۲۷ء-۲۰۲۶ء کے بجٹ میں نجکاری (سرکاری کمپنیوں کے شیئر اور املاک کی فروخت کر کے) ۸۰؍ہزار کروڑ روپے اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیاتھا جس میں سے اب تک۶۲؍ہزار ۱۲۴؍ کروڑ روپے حاصل کر لئے گئے ہیں۔ان میں سے ۵۵؍ ہزار ۷۵۷؍کروڑ روپے شیئرز کی فروخت سے حاصل ہوئے ہیں۔
کن کمپنیوں کے شیئر بیچے گئے
نجکاری سے حاصل ہونے والی نصف سے زیادہ رقم لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کے۵ء۶؍فیصد شیئرس کی فروخت سے حاصل ہوئی۔ اس سے حکومت کو۳۱؍ ہزار ۵۱۵؍کروڑ روپے ملے۔ اسی طرح کول انڈیا کے۲؍فیصد شیئرس کی فروخت سے تقریباً۵؍ ہزار ۵۴۲؍ کروڑ روپے جبکہ این ایچ پی سی میں۶ء۰۱؍فیصد حصص کی فروخت سے سرکاری خزانے کو۴؍۳۵۷؍کروڑ روپے حاصل ہوئے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں حکومت نے ہندوستان کاپر کے ۶؍ فیصد شیئر بیچ کر ۳؍ ہزار ۴۱؍ کروڑ روپے حاصل کئے۔ حکومت نے جن دیگر سرکاری کمپنیوں سےاپنے شیئر فروخت کئے ہیں، ان میں سینٹرل بینک آف انڈیا، این ایل سی انڈیا، جی آئی سی، آئی آر ایف سی، کوچین شپ یارڈ اور ہندوستان کاپر شامل ہیں۔
کن کمپنیوں کی املاک بیچی گئیں؟
اس کے علاوہ انفرا اسٹرکچر انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے ذریعے اثاثے فروخت کرکے ۶؍ ہزار ۳۶۷؍ کروڑ روپے حاصل کئے گئے۔نجکاری اور املاک کی فروخت کو ملا کر رواں مالی سال میں اب تک حکومت کو۶۲؍ہزار ۱۲۴؍ کروڑ روپے کی سرمایہ جاتی وصولیاں ہوئی ہیں، جو پورے مالی سال کیلئے بجٹ میں طے کئے گئے ۸۰؍ ہزار کروڑ روپے کےہدف کا تقریباً۷۸؍فیصد ہے۔
آئی ڈی بی آئی بینک کو بیچنے کی تیاری
آئی ڈی بی آئی بینک کی ’’اسٹریٹجک فروخت‘‘بھی حکومت کے زیر غور ہے۔ رواں سال کے اوائل میں اسے فروخت کرنے کی ناکام کوشش کے بعد حکومت کو دبئی کی ایمریٹس این بی ڈی اور پریم وٹسا کی قیادت والی فیئر فیکس فنانشل ہولڈنگز سے نظرثانی شدہ بولیاں موصول ہوئی ہیں۔
نجکاری پر ایک نظر
۲۴-۲۳ء میں ۳۰؍ ہزار کروڑ، ۲۵-۲۴ء میں ۳۳؍ہزار کروڑ روپے، ۲۵-۲۶ء میں ۳۳؍ ہزار ۸۳۷؍ کروڑ اور ۲۷-۲۶ء کے بجٹ میں ۸۰؍ ہزار کروڑ روپے نجکاری کے ذریعہ حاصل کرنے کا ہدف طے کیاگیا۔ دیکھا جاسکتاہے کہ اس میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔