اس قانون کے تحت صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کا رجسٹریشن ضروری ہوگا، ہنگامی حالات میں مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا لازمی اور علاج سے منع کرنے والے طبی ادارے کےخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اس قانون کے مسودےکو کابینہ میں پیش کرنے کی وزیر اعلیٰ کی ہدایت۔
اس قانون کے ذریعہ تمام طبی اداروں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ (فائل فوٹو)
تمام قسم کے نجی اور سرکاری اسپتالوں، نرسنگ ہومز، کلینکس ،ڈے کیئر سینٹرز، ڈائیگنوسٹک لیباریٹریز اور دیگر طبی خدمات فراہم کرنے والوں کو ایک ہی ریگولیٹری فریم ورک میں شامل کرنے کیلئے حکومت مہاراشٹر کلینیکل اسٹیبلشمنٹس (رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن ) ایکٹ نافذ کرے گی ۔ اس قانون کا مسودہ تیار ہوچکا ہے ۔ اس کے مطابق ریاست میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کا رجسٹریشن ضروری ہوگا۔ ہنگامی حالات میں مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا لازمی ہوگا ،اس کے علاوہ مریض کی حالت مستحکم ہونے پر علاج سے منع کرنے پر متعلقہ ادارے کےخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ہائی سیکوریٹی نمبر پلیٹ نہ ہونے پر یکم جولائی سے جرمانہ عائد ہو گا
واضح رہے کہ موجودہ بامبے نرسنگ ہومز رجسٹریشن ایکٹ، ۱۹۴۹ء صرف نرسنگ ہومز تک محدود تھا جس سے صحت کے جدید نظام میں بہت سے ادارے قانون کے دائرے سے باہر رہ گئے تھے لہٰذا ریاست میں صحت کی خدمات میں شفافیت بڑھانے، جعلی طبی خدمات کو روکنے، معیاری علاج کو یقینی بنانے اور مریضوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کیلئے محکمہ صحت مذکورہ نیاقانون متعارف کرا رہا ہے۔ اس قانون کا ایک مسودہ تیار کیا گیا ہےجس کے مطابق ریاستی حکومت پورے صحت کے شعبے کیلئے یکساں، جدید اور مریض کی سہولت کے لئے ریگولیٹری نظام بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔
نئے قانون کے مطابق ہر طبی ادارہ کیلئے رجسٹریشن کرانا ضروری ہے ۔ موجودہ اداروں کو قانون کے نافذ العمل ہونے کے ۶؍مہینوں میں رجسٹریشن کرانا ہو گا جبکہ نئے اداروں کو ۳؍مہینوںمیں رجسٹر کرانا ہو گا۔ ابتدائی طور پر، عارضی رجسٹریشن دی جائے گی اور پھر مقررہ معیار پر پورا اترنے کے بعد مستقل رجسٹریشن دی جائے گی ۔ یہ قانون اسپتالوں، نرسنگ ہومز، میٹرنٹی ہومز، کلینکس، ڈے کیئر سینٹرز، ڈسپنسریوں، پیتھالوجی لیباریٹریز، ریڈیولوجی ،ٹرسٹوں، نجی اداروں یا صحت کی دیکھ بھال کے ادارے جو واحد ڈاکٹروں کے ذریعہ چلائے جاتے ہیں، اس طرح کے سبھی طبی اداروں پر نافذ ہوگا ۔ فوج کو اس ایکٹ کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’نالے صفائی کے نام پر آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے‘‘
اس قانون کو نافذ کرنے کیلئے ایک اسٹیٹ کونسل قائم کی جائے گی۔ وزیر صحت اس کونسل کے چیئرمین ہوں گے ۔ کونسل میں میڈیکل، نرسنگ، فارمیسی، آیوش اور صحت کے دیگر شعبوں کے نمائندے شریک ہوں گے ۔ اس میں ضلع کلکٹر چیئرمین جبکہ سول سرجن یا میونسپل ہیلتھ آفیسر ممبر سیکریٹری کے طور پر کام کریں گے۔ رجسٹریشن کیلئے ہر طبی ادارے کو کم از کم سہولیات، تربیت یافتہ افرادی قوت، آلات، صفائی، مریضوں کے ریکارڈ اور رپورٹ مینجمنٹ کے معیار پر پورا اترنا ہوگا ۔
نئےقانون کے مسودے کو ریاستی حکومت کے محکمہ قانون و انصاف نے ہری جھنڈی دے دی ہے ۔وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے مسودہ کو کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد اس مسودے کو کابینہ اجلاس میں منظوری کیلئے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد قانون سازی کے اجلاس میں ایک بل لایا جائے گا جس کو ایکٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔ محکمہ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اس بل کو مقننہ کے دونوں ایوانوں میں منظور ہونے کے بعد عملی طور پر نافذ کیا جائے گا۔