Inquilab Logo Happiest Places to Work

تھائی لینڈ میں کام دلانے کے بہانے ۸۰۰؍ نوجوان یرغمال

Updated: June 30, 2026, 10:47 AM IST | Agency | Beed

میانمار کی سرحد پر مزدوری کروائی جا رہی ہے، نہ کرنے پر بجلی کے جھٹکے دیئے جا رہے ہیں،عالمی سائبر فراڈ کا معاملہ۔

The Golden Triangle On The Border Of Myanmar And Thailand. Photo: INN
میانمار اور تھائی لینڈ کی سرحد پر واقع گولڈن ٹرائینگل۔ تصویر:آئی این این
 مہاراشٹر کے ۲۵؍ نوجوانوں سمیت ہندوستان بھر کے ۸۰۰؍ نوجوانوں کے ساتھ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ ان نوجوانوں کو تھائی لینڈ میںاعلیٰ ملازمت اور عمدہ تنخواہیں دلانے کے نام پر لے جا کر میانمار کی سرحد پر یرغمال بناکر رکھا گیا ہے۔ ان لوگوں سے سے وہاں جبراً مزدوری کروائی جا رہی ہے۔  بیڑ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے اپنے گھر فون کرکے اس بات کی اطلاع دی تو یہ معاملہ سامنے آیا۔ 
 
 
  اطلاع کے مطابق  بین الاقوامی سائبر فراڈ مافیا نے جال بچھا کر ہندوستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو تھائی لینڈ میں اعلیٰ عہدوں پر عمدہ تنخواہیں دلانے کا وعدہ کیا اور انہیں جال میں پھانس کر میانمار لے گئے۔ یہاں انہیں بدنام زمانہ مقام گولڈن ٹرینگل ( سنہری مثلث) میں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ یہ جگہ تھائی لینڈ اور میانمار کی سرحد پر واقع ہے۔ ان نوجوانوں کو بندوق کے دم پر ۱۸؍۔ ۱۸؍گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انکار کرنے پر انہیں بجلی کے جھٹکے دیئے جاتے ہیں اور غیر انسانی طریقے مار پیٹ کی جاتی ہے۔ بیڑ پولیس نے اس بین الاقوامی سائبر ریکیٹ سے نوجوانوں کو بچانے کیلئے براہ راست وزارت خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہےکہ وہ علاقہ جہاں میانمار، تھائی لینڈ اور لاؤس کی سرحدیں ملتی ہیں اسے بین الاقوامی سطح پر سنہری مثلث( گولڈن ٹرینگل) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
 
 
بیڑ کے ایک نوجوان نے وہاں سے فون کیا ہے جس سے انسانی اسمگلنگ اور سائبر فراڈ کے بین الاقوامی ریکیٹ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ متاثرہ نوجوانوں کے مطابق انہیں بندوق کی نوک پر ۱۸؍ تا ۱۹؍ گھنٹےکام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ اگر وہ کام کرنے سے انکار کرتے ہیں تو انہیں مارا پیٹا جاتا ہے، بجلی کا جھٹکا دیا جاتا ہے اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس معاملے میں، بیڑ سائبر پولیس نے ایک کیس درج کیا ہے اور فوری طور پر وزارت خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔ تمام پھنسے ہوئے نوجوانوں کی بحفاظت رہائی کیلئے ریاستی اور مرکزی حکومت کی سطح پر جنگی بنیادوں پر کوششیں جاری ہیں۔فی الحال یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ ملزمین کا تعلق میانمار سے ہے، تھائی لینڈ سے یا پھر کسی اور ملک سے البتہ اس میں کسی منظم گروہ کی سازش کا امکان ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK