Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ایس آئی آر کی بنیاد پر پاسپورٹ سے محروم کرنا درست ہے؟

Updated: June 30, 2026, 9:05 AM IST | Manu Sebastian | New Delhi

معروف روزنامہ’’ دی ٹیلی گراف‘‘ کے سابق مدیر آر راج گوپال کا یہ انکشاف کہ مغربی بنگال میں خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کے بعد ووٹر لسٹ سےنام کٹ جانے کی وجہ سے ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں ہو رہی،سنگین خدشات کو پیدا کرتا ہے۔

SIR.Photo:INN
ایس آئی آر۔ تصویر:آئی این این
معروف روزنامہ’’ دی ٹیلی گراف‘‘ کے سابق مدیر آر راج  گوپال کا یہ انکشاف کہ مغربی بنگال میں خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کے بعد ووٹر لسٹ سےنام کٹ جانے کی وجہ سے ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں ہو رہی،سنگین خدشات کو پیدا کرتا ہے۔ راج گوپال کے مطابق ان کا نام’’منطقی تضاد‘‘کی بنیاد پر حذف کیا گیا ہے۔ یہ وہ خصوصی زمرہ  ہے جسے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مغربی بنگال  میں  متعارف کرایا تھا۔اس  کے نتیجے میں۲۷؍ لاکھ سے زیادہ ووٹرس کے نام کٹ گئے  ہیں۔ راج گوپال  کے مطابق ان کا یا ان کے والد کا نام۲۰۰۲ء کی فہرست میں نہیں مل سکا۔ایسے کئی معاملات ہیں جن میں حقیقی ووٹرس کے نام معمولی مسائل، جیسے  املا کی معمولی غلطیوں یا دیگر معمولی تضادات کی بنیاد پر’’منطقی تضاد‘‘  قرار دے کرکاٹ دیئے  گئے۔
سپریم کورٹ نے بھی  سماعت کے دوران اس  پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ صرف املے کے فرق کی بنیاد پر لوگوں کو کیوں شک کے دائرہ میں لایا جا رہا ہےجبکہ مقامی نام انگریزی میں مختلف انداز سے لکھے جا سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس اعتراض  کے باوجود  سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کے پورے عمل کو برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے اپیلی ٹریبونل قائم کئے ، جنہیں ایس آئی آر کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی ۳۰؍ لاکھ سے زیادہ اپیلوں کی سماعت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ٹریبونل کے بعض فیصلوں سے اس پورے عمل کی من مانی بھی سامنے آئی۔ کانگریس امیدوار مہتاب شیخ کا معاملہ اس کی مثال ہے۔ ان کے پاس پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ موجود تھا مگر  والد کے نام کے املے میں معمولی فرق کی وجہ سے ان کا نام ووٹرلسٹ سے حذف کر دیا گیا۔  سپریم کورٹ کی ہدایت پر ٹریبونل نے ان کے مقدمہ کی ترجیحی بنیاد پر سماعت کی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی معقول وجہ پیش نہ کئے جانے پر  نام بحال کر دیا۔ بعد میں وہ نہ صرف اسمبلی الیکشن لڑے بلکہ کامیاب بھی ہوئے۔
مہتاب شیخ ان چند افراد میں شامل تھے جن کے مقدمات۲۵ء کے اسمبلی انتخابات سے پہلے نمٹ گئے جبکہ راج گوپال سمیت لاکھوں ووٹر اب بھی ٹریبونل کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔ ان کیلئے فی الحال  شاید سپریم کورٹ کی یہ بات تسلی کا باعث ہو  کہ وہ آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے۔
ایس آئی آر  میں نام کٹ جانے سے کسی شخص کا حق ِ رائے دہی  سے محروم ہوجانا تو کسی حدتک سمجھ میں آت ہے لیکن کیا اس کی بنیاد پر پاسپورٹ کی تجدید سے بھی انکار کیا جا سکتا ہے؟ راج گوپال کے مطابق پاسپورٹ کی تجدید کیلئے بایومیٹرک معلومات دیئے ۱۰۰؍ دن گزر چکے ہیں مگر کولکاتا پولیس نے منفی رپورٹ بھیج دی کہ ان کا نام ووٹر فہرست سے حذف ہو چکا ہے اوران کا پاسپورٹ روک دیا گیا۔
اس صورتحال نے انہیں اپنے مرحوم والد سے متعلق کئی دہائیوں پرانے دستاویزات تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک معروف صحافی اور بڑے اخبار کے سابق مدیر کو یہ مشکلات پیش آ سکتی ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لاکھوں غریب اور محروم شہریوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوگا۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ مغربی بنگال حکومت ووٹر فہرست سے خارج افراد کو راشن کی سہولت سے بھی محروم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
 
 
صرف ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے نام کٹ جانے کی بنیاد پر کسی شہری کو پاسپورٹ یا سرکاری فلاحی سہولتوں سے محروم کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر عمل کو برقرار رکھتے ہوئے بھی واضح کیا تھا کہ ووٹر لسٹ  سے نام حذف ہونا کسی شخص کی شہریت کے خلاف حتمی ثبوت نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو صرف ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا نہ کرنے کے محدود مقصد کیلئے شہریت کا ابتدائی جائزہ لینے کا اختیار ہے لیکن یہ شہریت کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ قانون الیکشن کمیشن کو شہریت کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔سپریم کورٹ نے زور دیکر کہاتھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ کسی شخص کی شہریت کو ختم نہیں کرتا اور نہ ہی اس بارے میں حتمی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا تھاکہ ووٹر لسٹ  سے نام حذف ہونے کا واحد نتیجہ یہ ہوگا کہ متعلقہ شخص ووٹ نہیں ڈال سکتا  تاہم شہریت سے وابستہ اس کے  دیگر حقوق خود بخود ختم نہیں ہوں گے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ’’ اس طرح کے شہریت کی تصدیق کا اثر صرف ووٹر لسٹ میں  نام شامل ہونے اور انتخابی عمل میں حصہ لینےتک محدود ہے۔ اس سے کسی شخص کا شہری ہونے کا  دعویٰ ختم نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت شہریت سے متعلق مجاز اتھاریٹی  میں سماعت کو پیشگی ختم کردیتا ہے۔‘‘
 
 
اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ الیکشن کمیشن خود کو شہریت کاحتمی فیصلہ کرنےوالا مجاز ادارہ نہ سمجھ لے، سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ اگر کمیشن کو کسی شخص کی شہریت  پرشبہ ہو تو وہ  قانون کے مطابق معاملہ مرکزی وزارت داخلہ کے مجاز ادارے  کے پاس  بھیجے۔ سپریم کورٹ کے الفاظ میں :’’ الیکشن کمیشن کا فیصلہ انتخابی مقاصد تک محدود ہوگا ،اسے شہریت کے سوال پر حتمی فیصلے کی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔‘‘ ہدایت جاری کرتے ہوئے کورٹ بہت واضح تھا کہ صرف وہی  نام وزارت داخلہ کو بھیجے جائیں  جن کی میں شہریت  واقعی مشکوک  ہو۔ اس لئے جب تک وزارت داخلہ کامجاز ادارہ شہریت کے تعلق سے حتمی فیصلہ نہ کردے  تب تک یعنی  صرف ووٹر لسٹ  سے نام کٹ جانے کی بنیاد پر کسی شخص کی شہریت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ شہریت صرف حق رائے دہی پر منحصر نہیں ہوتی۔
(مضمون نگارقانونی خبریں فراہم کرنے والی ویب سائٹ’’لائیو لا‘‘ کے ایڈیٹر ہیں۔ ان کا یہ مضمون لائیو لا میں شائع ہواہے جسے اسکے شکریہ کیساتھ یہاں پیش کیا جارہاہے)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK