• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ۸۱؍ واں اجلاس شروع، عالمی نظام پر اعتماد بحال کرنے پر زور

Updated: September 09, 2026, 2:09 PM IST | New York

بڑھتے تنازعات، غربت، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجز کے درمیان نئے اجلاس کا آغاز؛ بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

 Khalilur Rahman, newly-elected President of the eighty-first session of the General Assembly addresses the 85th plenary meeting of General Assembly. Picture: INN
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۸۱؍ ویں اجلاس کے نو منتخب صدر، خلیل الرحمٰن، جنرل اسمبلی کے ۸۵؍ ویں مکمل اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ۸۱؍واں اجلاس ۸؍ ستمبر ۲۰۲۶ءکو شروع ہوگیا، جس کا مرکزی موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام اور سب کے لیے نتائج دینے والی اقوام متحدہ‘‘ رکھا گیا ہے۔ اجلاس کے آغاز پر جنرل اسمبلی کے نئے صدر اور بنگلہ دیش کے خلیل الرحمان نے عالمی ادارے پر عوام اور رکن ممالک کا اعتماد دوبارہ قائم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔

خلیل الرحمان نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ۸؍دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیلنے سے بچانے میں کردار ادا کیا ہے اور یہی اس ادارے کے وجود کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ ہر روز لاکھوں افراد، خصوصاً مہاجرین اور بے گھر آبادیوں، کے لیے خوراک کی فراہمی، امن و سلامتی کے قیام، بیماریوں سے نمٹنے اور سرحدوں سے تجاوز کرنے والے پیچیدہ مسائل کے حل میں کام کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سیگریٹ کا سیکنڈ ہینڈ دھواں ۲۰۲۳ء میں دنیا بھر میں۱۷؍ لاکھ اموات کا سبب: مطالعہ

تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عالمی ادارہ کئی مواقع پر توقعات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق جنگوں سے انسانی مصائب میں اضافہ، ترقیاتی کامیابیوں کی کمزوری اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات نے اجتماعی کارروائی پر اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی اداروں اور اجتماعی اقدامات پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد دور کرنے کے لیے مکالمے، تعاون اور عملی نتائج ضروری ہیں۔

خلیل الرحمان نے کہا کہ ۸۱؍ویں اجلاس کے دوران ان کی کوشش صرف اقوام متحدہ کا دفاع کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط بنانا اور روزمرہ کے عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد حاصل کرنا ہوگی۔ انہوں نے خود کو رکن ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی نئے صدر کی ترجیحات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کثیرالجہتی نظام پر اعتماد بحال کرنا ’’ہمارے دور کا سب سے بڑا چیلنج‘‘ ہے۔ انہوں نے جنگوں، جوہری تصادم کے بڑھتے خطرات، غربت، موسمیاتی تبدیلی اور بے قابو مصنوعی ذہانت کو ان عوامل میں شمار کیا جو عالمی اداروں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اقوام متحدہ کے سربراہ کا عالمی تعاون کو درپیش مشکلات کے باوجود امن کے عزم پر زور

گوتریس نے سفارت کاری، مذاکرات اور تعاون کو عالمی اختلافات کم کرنے کا بنیادی ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ جنرل اسمبلی کے ذریعے دنیا اعتماد اور باہمی خیرسگالی دوبارہ قائم کرسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنرل اسمبلی کے ۸۱؍ویں اجلاس میں ۱۹۳؍ رکن ممالک شریک ہیں اور ہر ملک کو ایک ووٹ حاصل ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب اقوام متحدہ کو غزہ، یوکرین، سوڈان سمیت متعدد جنگوں، عالمی اقتصادی دباؤ، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے اثرات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ گزشتہ ۸۰؍ویں اجلاس کی صدر اینالینا بیئربوک نے اختتامی خطاب میں بھی اقوام متحدہ میں گہری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ گزشتہ اجلاس نے واضح کیا ہے کہ بنیادی اصلاحات کے بغیر یہ ادارہ طویل عرصے تک مؤثر نہیں رہ سکتا۔

۸۱؍ویں اجلاس کی اعلیٰ سطحی عمومی بحث ۲۲؍ سے ۲۶؍ستمبر اور پھر ۲۸؍ ستمبر ۲۰۲۶ءکو ہوگی۔ اس دوران پائیدار ترقی، موسمیاتی کارروائی، سطح سمندر میں اضافے، وباؤں سے نمٹنے اور جوہری ہتھیاروں کے خطرے سمیت کئی اہم عالمی موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK