• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب کے متعدد شہروں پر حوثیوں کے حملے

Updated: September 09, 2026, 4:15 PM IST | Agency | Sanaa

۷۳؍ افراد زخمی ،سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے جوابی کارروائی میں یمن کے مآرب میں حوثیوں کے زیر کنٹرول الجوبہ کو نشانہ بنایا۔

A truck caught in a Houthi attack on the Saudi-Yemen border. Photo: INN
سعودی یمن سرحدپرحوثیوںکے حملے کی زدمیں آنے والاٹرک۔ تصویر: آئی این این

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے سعودی عرب پر حملوں میں کم از کم ۷۳؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران سعودی عرب کے نئے فضائی حملوں میں یمن کے مآرب گورنری کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کے تازہ فضائی حملوں میں یمن کے مآرب کے علاقے الجوبہ کو نشانہ بنایا گیا جو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمن کے حصے میں واقع ہے۔ حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں یا نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔واضح ہوکہ حوثی جنگجو یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر قابض ہیں۔ انھوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی عرب پر حملے کیے ہیں اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ۔یمن میں سعودی قیادت والے فوجی اتحاد کے ترجمان نے حالیہ لڑائی میں اضافے کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کے سربراہ کا عالمی تعاون کو درپیش مشکلات کے باوجود امن کے عزم پر زور

ان کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک اور اوپیک کے عملاً قائد سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔کر نل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’اتحاد ان دہشت گرد وں کو روکنے اور ان کے جارحانہ طرزِ عمل کا فیصلہ کن مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے جیزان اور نجران سمیت مختلف شہروں میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔فائنانشل ٹائمس نے گزشتہ روز رپورٹ کیا تھا کہ نئے حملوں میں جیزان میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور حکام نقصان کی شدت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آرامکو نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔سعودی وزارتِ خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے بیان میں ان حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ۷۳؍شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے خطرہ پیدا کر رہی ہے۔وزارت کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب یمن اور اس کے عرب و اسلامی ہمسایوں کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے حوثیوں کے جارحانہ طرزِ عمل اور مجرمانہ کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔سعودی انتظامیہ نے حوثیوں کی جانب سے امن کی تمام کوششوں کو مسلسل مسترد کیے جانے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو اپنی خودمختاری کے دفاع، قومی وسائل کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جرمن طلبہ نے PISA ٹیسٹ میں اب تک کے سب سے کم اسکور حاصل کئے

حوثیوں کو سنگین نتائج کا انتباہ
سعودی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں ۔سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں سے ہر قسم کی کشیدگی فوری طور پر ختم کرنے اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کیلئے مسلسل خطرہ بننے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا۔سعودی عرب نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اس دوران یمنی حکومتی فورسیز نے حوثی باغیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

روس نے ثالثی کی پیشکش کی 

روس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے اور بحران کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔میڈیاکے مطابق یہ پیشکش روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے ماسکو میں اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقات کے دوران کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ روس مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے کی موجودہ صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے میں سنجیدہ دلچسپی رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK