ایک مطالعے کے مطابق سیگریٹ کے سیکنڈ ہیند دھوئیں سے ۲۰۲۳ء میں دنیا بھر میں ۱۷؍ لاکھ اموات کا تعلق ہے، سیکنڈ ہینڈ دھواں وہ دھواں ہے جوسیگریٹ استعمال کرنے والے شخص کے قریب موجود افراد سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 10:22 AM IST | London
ایک مطالعے کے مطابق سیگریٹ کے سیکنڈ ہیند دھوئیں سے ۲۰۲۳ء میں دنیا بھر میں ۱۷؍ لاکھ اموات کا تعلق ہے، سیکنڈ ہینڈ دھواں وہ دھواں ہے جوسیگریٹ استعمال کرنے والے شخص کے قریب موجود افراد سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں۔
منگل کو شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، ۲۰۲۳ء میں سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً ۱۷؍ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ واضح رہے کہ سیکنڈ ہینڈ دھواں وہ دھواں ہے جو سیگریٹ استعمال کرنے والے شخص کے قریب موجود افراد سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں۔’’دی لینسیٹ پبلک ہیلتھ‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، ۲۰۲۳ء میں دنیا بھر میں۲۷؍ لاکھ سے زیادہ افراد، جن میں تقریباً۷۶۷؍ ملین بچے شامل ہیں، سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کی زد میں آئے۔محققین نے۱۹۹۰ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان۲۰۴؍ممالک اور خطوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا اور پتہ چلا کہ ۲۰۲۳ء میں سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا تعلق ۱۶؍ لاکھ ۶۰؍ہزار اموات سے تھا۔
تحقیق کے مطابق، اسکیمک دل کی بیماری بالغوں میں سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کی نمائش سے منسلک اموات کی سب سے بڑی وجہ تھی، جبکہ ۲۰۲۳ء میں اس کا تعلق بچوں میں۵؍ اعشاریہ ۲؍ ملین نچلے سانس کے انفیکشن سے بھی تھا۔اگرچہ۱۹۹۰ء کے بعد سے سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کے سامنے آنے والے افراد کا تناسب کم ہوا ہے، تاہم آبادی میں اضافے کی وجہ سے مجموعی تعداد بڑی حد تک مستحکم رہی ہے، خاص طور پر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں یہ تعداد بڑھی ہے۔مزید برآں محققین نے کہا کہ سیکنڈ ہینڈ دھواں عالمی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور لوگوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے تمباکو پر سخت کنٹرول کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔