• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بنگال میں۹۰؍ لاکھ نام حذف ہوگئے مگرسپریم کورٹ نے روک لگانے کی ضرورت نہیں محسوس کی‘‘

Updated: October 06, 2026, 10:51 AM IST | Agency | New Delhi

سابق جج روہنٹن نریمن کا حیرت کا اظہار، ملک کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا اور متنبہ کیا کہ شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کردینا غیر قانونی ہے۔

Rohinton Fali Nariman. Picture: INN
روہنٹن فالی نریمن۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق معاملات میں سپریم کورٹ کی  مداخلت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےاس بات  پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ  مغربی بنگال میں ۹۰؍ لاکھ ووٹرس کے نام کاٹ دیئے گئے اور سپریم کورٹ کو اس پر روک لگانے کی ضرورت تک محسوس نہیں ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے طرز عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم  ایسے الیکشن کمیشن  کے متحمل نہیں ہوسکتے جو صحیح طریقے سے کام نہ کرے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:برطانیہ: اسٹریمنگ سے صارف اکتاہٹ کا شکار، سی ڈی، ڈی وی ڈی، وِنائل کی طرف واپسی

نریمن جو ملک کے سالیسٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں، نے  دی انڈین ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ووٹ دینے کا حق‘‘ جو ’’ہماری جمہوریت کے مرکز میں ہے‘‘، شدید خطرے میں ہے۔ وہ  گجرات کے شہر راج کوٹ میں  سی اے ایم جے رِندانی کی صد سالہ یادگاری تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ’’آئین اور عام آدمی‘‘ کے موضوع پر گفتگو  کے دوران مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل ہو نے والے  ایس آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس نریمن نے کہاکہ’’آپ سب نے دیکھا کہ مغربی بنگال کے انتخابات میں۹۰؍ لاکھ ووٹر، یہ ایک حیران کن تعداد ہے، ووٹ دینے کے حق سے محروم ہوگئے۔۹۰؍لاکھ افراد کا حق رائے دہی ختم کئے  جانے پرسپریم کورٹ کو اتنی تشویش بھی نہیں ہوئی کہ وہ اس عمل پر روک لگاتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے: انجلینا جولی نے سیٹیلائٹ تصاویر انسٹاگرام پر دکھائیں

انہوں نے کہا، ’’جن ووٹروں  کے نام خارج  کئے گئے   ان میں سے تقریباً۲۲؍ لاکھ نے اپیل دائر کی جبکہ باقی  نے اپیل داخل نہیں کی،  بظاہرا نہوں نے اسے قبول کرلیا،  شاید و غریب ہوں گے، ان کے پاس وہ وسائل یا انصاف تک رسائی نہیں ہوگی جو دوسروں کو حاصل  ہے۔‘‘  سپریم کورٹ  کے سابق جج نے کہا کہ ’’ ہمارے آئین اور ہماری جمہوریت کی بنیاد یعنی ووٹ دینے کا حق، شدید خطرہ میں ہے۔ مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ، جس  کا میں کبھی حصہ رہا ہوں، فوری طور پر مداخلت کرے گااور ان معاملات کو درست کرے گا۔ ہم ایسا الیکشن کمیشن نہیں رکھ سکتے جو اس طرح کام کرے یا بدترین طریقے سے کام کرے۔ یہ حیران کن ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیکر کہا کہ شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا غیر قانونی ہے۔ الیکشن کمشنر اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری    کے قانون کے خلاف عرضی کا بھی حوالہ دیتے ہوئے جسٹس نریمن نے کہا، ’’جتنی جلدی آئینی بنچ اس پر فیصلہ سنائے اتنا بہتر ہوگا۔‘‘  یہ کہتے ہوئے کہ ’’آج ہمارے ملک میں انتہائی تشویش ناک چیزیں ہورہی ہیں‘‘، سینئر قانون داں نے کہا، ’’اتنی ہی تشویش کی بات یہ ہے کہ دیگر الیکشن کمشنروں  نے ۱۴؍ بار اعتراض درج کرایا   لیکن  انہوں نے نئے قانون کی دفعہ۱۸؍ کے تحت  فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ووٹنگ کے حق کا استعمال نہیں کیا تاکہ اکثریتی رائے غالب آجاتی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK