الگورتھم کے طے کردہ گانوں اور غائب ہوجانے والی فلموں سے بے زار صارفین دوبارہ سی ڈی، ڈی وی ڈی، اور ونائل خرید رہے ہیں۔ ان اشیاء کی فروخت میں اضافہ۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 10:32 AM IST | London
الگورتھم کے طے کردہ گانوں اور غائب ہوجانے والی فلموں سے بے زار صارفین دوبارہ سی ڈی، ڈی وی ڈی، اور ونائل خرید رہے ہیں۔ ان اشیاء کی فروخت میں اضافہ۔
ایک زمانے میں سی ڈیز، ڈی وی ڈیز اور ونائل ریکارڈز کو ڈجیٹل دنیا کے سامنے تقریباً ختم ہوتا ہوا تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب یہی میڈیا ایک نئے انداز میں واپس آ رہا ہے۔ اس واپسی کے پیچھے صرف پرانی یادیں نہیں بلکہ اسٹریمنگ خدمات کے الگورتھم، مواد کے اچانک غائب ہوجانے، مسلسل سبسکرپشن اور اپنی پسند پر دوسروں کے اثر سے بچنے کی خواہش بھی شامل ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین سے گفتگو کرنے والے کئی صارفین نے بتایا کہ وہ اپنی پسند کی موسیقی اور فلمیں دوبارہ ایسی شکل میں خرید رہے ہیں جسے وہ اپنے پاس محفوظ رکھ سکیں۔ ان صارفین کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسٹریمنگ پر کسی فلم یا گانے تک رسائی کا مطلب لازماً اس کی ملکیت نہیں ہوتا۔ کوئی فلم آج کسی پلیٹ فارم پر موجود ہے تو ضروری نہیں کہ چند ماہ بعد بھی دستیاب ہو۔ گارڈین سے بات کرنے والی ایک صارف نے بتایا کہ ۲۰۲۲ء میں ایچ بی او کی جانب سے سیسمی اسٹریٹ کی تقریباً ۲۰۰؍ اقساط ہٹائے جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ جن پروگراموں کو وہ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے کبھی بھی غائب ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ ڈی وی ڈیز اور دیگر ٹھوس ذرائع خریدنا شروع کیے۔
یہ بھی پڑھئے:صومالیہ کسی بھی صورت میں اسرائیلی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا: صدر
موسیقی سننے والوں میں بھی یہی سوچ نظر آرہی ہے۔ برطانیہ کے کارن وال سے تعلق رکھنے والے ۵۲؍ سالہ یونیورسٹی استاد ایش نے بتایا کہ انہوں نے ابتدا میں اسٹریمنگ کو پسند کیا، لیکن بعد میں دوبارہ ریکارڈ اور سی ڈیز خریدنے لگے۔ ان کے پاس ۱۹۹۰ء سے ۲۰۰۹ء کے دوران جاری ہونے والے ۵؍ ہزار سے زیادہ ریکارڈز اور سی ڈیز کا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کے مطابق الگورتھم نئی موسیقی تجویز تو کرتے ہیں، لیکن اپنی پسند کے فنکار تلاش کرنے کے لیے خود کوشش کرنے کا تجربہ مختلف ہے۔ ٹھوس شکل میں میڈیا کی نئی مقبولیت محض چند شوقین افراد تک محدود نہیں رہی۔ ۲۰۲۶ء کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ونائل کی فروخت بدستور نمایاں ہے۔ آفیشل چارٹس کے مطابق سال کی پہلی ۲؍ سہ ماہیوں تک ہیری اسٹائلز کا البم کِس آل دی ٹائم۔ ڈسکو، آکیژنلی۔ ۷۵؍ ہزار سے زیادہ ونائل نقول فروخت کرچکا تھا۔ اولیویا روڈریگو کا البم بھی ۲۷؍ ہزار سے زیادہ ونائل نقول فروخت کرچکا تھا۔
سی ڈی، جسے ونائل کی واپسی کے مقابلے میں اکثر نظرانداز کیا جاتا رہا، وہ بھی دوبارہ توجہ حاصل کررہی ہے۔ ۲۰۲۶ء میں اب تک سی ڈی کی فروخت میں ۱۶؍ فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، جس میں کے پاپ کے مداحوں کا بڑا کردار ہے۔ بی ٹی ایس، این ہائپن اور اے ٹی ای زیڈ جیسے گروپوں کے البم کے مختلف قابلِ جمع ایڈیشن مداحوں کو ایک ہی البم کی متعدد نقول خریدنے پر آمادہ کررہے ہیں۔ اس تبدیلی میں نوجوان نسل کا کردار خاص طور پر دلچسپ ہے۔ جن لوگوں نے موسیقی کی دکانوں اور ویڈیو اسٹورز کا دور نہیں دیکھا، ان کے لیے سی ڈی یا ونائل محض پرانی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک نیا تجربہ بھی ہوسکتا ہے۔ البم خریدنا، اس کا سرورق دیکھنا، کتابچہ پڑھنا، ڈسک محفوظ کرنا اور پھر مکمل البم سننا اس تجربے کا حصہ ہے۔ اس کے برعکس اسٹریمنگ میں ایک گانے سے دوسرے گانے تک پہنچنے میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں۔
الگورتھم سے دوری بھی اس رجحان کا ایک اہم سبب ہے۔ اسٹریمنگ پلیٹ فارم صارف کی سابقہ پسند، سننے کے دورانیے اور دیگر اعداد و شمار کی بنیاد پر اگلا مواد تجویز کرتے ہیں۔ بعض صارفین کے لیے یہ سہولت ہے، لیکن کچھ لوگوں کو محسوس ہونے لگا ہے کہ اس طرح موسیقی کی تلاش کا عمل خود ان کے بجائے مشینی نظام طے کررہا ہے۔ گارڈین سے گفتگو کرنے والے صارفین نے بتایا کہ ٹھوس میڈیا انہیں دوبارہ اپنی مرضی سے انتخاب کرنے اور مکمل البم یا فلم کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیتا ہے۔ فلموں کے معاملے میں بھی ٹھوس شکل کی اپنی اہمیت برقرار ہے۔ برطانیہ میں ڈی وی ڈی، بلو رے اور دیگر ٹھوس فلمی فارمیٹس کے لیے باقاعدہ فروخت ہونے والی فہرست اب بھی جاری ہوتی ہے۔ ۲۷؍ ستمبر سے ۳؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کے ہفتے میں اسکیری مووی کی نئی فلم ٹھوس شکل میں فروخت کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہی، جبکہ سپر گرل دوسرے نمبر پر تھی۔
ٹھوس میڈیا کی واپسی کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ اسٹریمنگ کا کاروباری ماڈل مستقل سبسکرپشن پر قائم ہے، جبکہ سی ڈی، ونائل یا ڈی وی ڈی ایک مرتبہ خریدی جانے والی چیز ہے۔ صارف کے لیے ابتدائی قیمت زیادہ ہوسکتی ہے، لیکن خریدی ہوئی چیز کسی ایک کمپنی کے موادی ذخیرے سے منسلک نہیں رہتی۔ دوسری طرف موسیقاروں اور فلم سازوں کے لیے ٹھوس مصنوعات آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر جب مداح انہیں صرف مواد کے بجائے یادگاری یا قابلِ جمع شے کے طور پر خریدیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسٹریمنگ کا دور ختم ہورہا ہے۔ آفیشل چارٹس آج بھی ٹھوس فروخت کے ساتھ اسٹریمنگ کو موسیقی کی کھپت کا بنیادی پیمانہ شمار کرتے ہیں اور برطانیہ میں روزانہ ہزاروں ذرائع سے فروخت اور اسٹریمنگ کے اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں۔ موجودہ صورت حال زیادہ تر ایک ایسے بازار کی نشاندہی کرتی ہے جہاں دونوں طریقے ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جس چیز کو کبھی ڈجیٹل انقلاب نے غیر ضروری بنا دیا تھا، وہ اب ملکیت، انتخاب اور یادداشت کی نئی علامت کے طور پر واپس آرہی ہے۔