سپریم کورٹ کے فیصلہ سے لاکھوں اساتذہ کی ملازمت پر تلوار لٹک رہی ہے، حکومت سےمداخلت کی اپیل ،بہتر حل کی امید۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 11:50 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
سپریم کورٹ کے فیصلہ سے لاکھوں اساتذہ کی ملازمت پر تلوار لٹک رہی ہے، حکومت سےمداخلت کی اپیل ،بہتر حل کی امید۔
اساتذہ کی اہلیت کے امتحان( ٹی ای ٹی) کو لازمی بنانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے نے ملک بھر میں خاص طور پر مہاراشٹر میں لاکھوں اساتذہ کی ملازمت کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ ٹی ای ٹی کی لازمی شرط سے ۹۰؍فیصد اساتذہ کی ملازمت کو خطرہ لاحق ہے ۔ ان کی ملازمتیں ختم کی جاسکتی ہیں۔ایسےمیں تعلیمی تنظیمیں مذکورہ فیصلہ میں ترمیم کیلئے بھرپور کوشش کررہی ہیں۔اس کےباوجود اگر سپریم کورٹ نےفیصلہ پر نظر ثانی نہ کی تو لاکھوں اساتذہ بے روزگار ہوجائیں گے۔تنظیموں نے حکومت سے بھی اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی۔
واضح رہےکہ ممبئی سمیت دیگر اضلاع میں صرف ۱۰؍فیصد ٹیچر ٹی ای ٹی پاس ہیںجبکہ ٹی ای ٹی امتحان کا رزلٹ عموماً ۳؍فیصد سے زیادہ نہیں آتا۔ ایسےمیں۲؍سال میں سبھی ٹیچروںکو ٹی ای ٹی پاس کرنےکی جوہدایت دی گئی ہے،اس مدت میں مزید ۱۰؍فیصد ٹیچروں نے امتحان پاس بھی کرلیاتو ۸۰؍فیصد ٹیچروں پر بےروزگاری کی تلوار لٹک رہی ہے جس سے ٹیچروں میں بڑی تشویش پائی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے یکم ستمبر ۲۰۲۵ء کو اساتذہ کیلئے ٹی ای ٹی امتحان پاس کرنالازمی قرار دیا ہے۔فیصلہ کےمطابق ڈیوٹی پرمامور اساتذہ کو بھی یہ امتحان آئندہ ۲؍سال میں پاس کرنا ہے لیکن عموماً ٹی ای ٹی کارزلٹ ۳؍فیصد آتاہے ۔ ۲؍سال میں اگر ۳؍مرتبہ بھی ٹی ای ٹی امتحان منعقدکئے جاتے ہیں اوران میں ۱۰؍فیصد اساتذہ پاس ہوجاتےہیں تو بھی ۸۰؍ فیصد اساتذہ کےپاس نہ ہونےسے ان کی ملازمتو ںپر سوالیہ نشان کھڑا ہوسکتاہے۔ اس فیصلے کے سنگین مضمرات کو دیکھتے ہوئے اساتذہ یونینوں اور تعلیمی اداروں نے مرکزی حکومت سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی:بوتھ پرسہولتوں کادعویٰ،۸۲۰؍کنٹرول اور ۱۶۴۰؍بیلٹ یونٹس،سیلنگ کی جانچ مکمل
ماہرتعلیم اور ریاست کی ایک تعلیمی تنظیم کے صدر گریش سامنت نےاس ضمن میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ایک مکتوب روانہ کیا ہےجس میں’ ٹیچر ایجوکیشن نیشنل کونسل‘ کی جانب سے ۲۳؍اگست ۲۰۱۰ءکو آر ٹی ای کی دفعہ۲۳ (۱) کے تحت ٹی ای ٹی کی ضرورت کو نافذ کیاگیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کے پیراگراف ۴؍کے مطابق اس تاریخ سے پہلے تعینات اساتذہ کو مذکورہ شرط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔
محکمہ تعلیم کے یوڈائس پلس پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر میںصرف ۱۰؍ فیصد اساتذہ نے ٹی ای ٹی پاس کیا ہے ، بقیہ ۹۰؍فیصد یہ امتحان پاس نہیں کرسکےہیں جس کی وجہ سے ان کی ملازمت خطرہ میں ہے۔ چونکہ ٹی ای ٹی کا نتیجہ صرف ۳؍فیصد آتاہے، اس لئے اگر اگلے ۲؍ سال میں ۳؍ امتحانات بھی کرائے جائیں تو صرف ۱۰؍فیصد مزید اساتذہ اہل ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں اساتذہ کی بقیہ اکثریت کی خدمات کو ختم کرنا پڑے گا ۔اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے ریاستی جنرل سیکریٹری ساجد نثار نےاس نمائندہ کو بتایا کہ’’ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن ریاست کی متعدد تعلیمی تنظیموںنے اس فیصلہ پرنظرثانی کی عرضداشت سپریم کورٹ میں داخل کی ہے ۔ اُمید ہےکہ کوئی بہتر حل نکلےگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: انتخابی مہم کا شور و غل، کلیان ڈومبیولی کے شہری صوتی آلودگی سے عاجز
ٹی ای ٹی کے فیصلے سے متعلق اساتذہ کے اہم مطالبات
۲۳؍اگست ۲۰۱۰ءسےپہلے تعینات اساتذہ کو ٹی ای ٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ این سی ٹی ای کے نوٹیفکیشن میں ترمیم کی جائے۔ پرانے اساتذہ کو نئی کیٹیگریز میں شامل کرکے نکالا جائے۔
مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ سال میں کم از کم دو بار ٹی ای ٹی امتحانات منعقد کریں۔ٹی ای ٹی کیلئے سرکاری نصاب، حوالہ جاتی کتابیں اور گائیڈ مواد کا تعین کیا جانا چاہئے۔سروس پر مامور اساتذہ کیلئے خصوصی تربیت اور آن لائن کورسیز شروع کئے جائیں۔
ملازمت سے ہٹانے کا فیصلہ عارضی طور پر معطل کیا جائے۔