• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دارالقضاء میں۹۹۶؍ اور کاؤنسلنگ سینٹر پر ۲۸۰۰؍ سے زائد کیسز کا تصفیہ

Updated: October 22, 2026, 3:34 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mira Road

قرآن وسنت کی روشنی میںعائلی مسائل کے حل کے لئے مقامی مسلمان رجوع کرتے ہیں۔ بعض کیسز میں پولیس اسٹیشن کی جانب سے بھی دارالقضاء بھیجا جاتا ہے۔

Members of the committee at Darul Qaza, Mira Road, discussing the current situation. Photo: INN
دارالقضاء میراروڈ میں کمیٹی کے اراکین موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

دارالقضاء میرابھائندر کا قیام ۲۰۱۸ء میںعمل میں آیا تھا۔یہاں اب تک۹۹۶؍ معاملات درج کئے گئے۔ ان میں صلح، خلع، فسخ نکاح، وراثت اور دیگر مالی لین دین کے معاملات حل کرائےگئے۔ دارالقضاء کےساتھ کاؤنسلنگ سینٹر بھی جاری ہے جہاں اب تک ۲۸۰۰؍ سے زائد کیسز لائے گئےاور فریقین کی ذہن سازی کی گئی۔

دارالقضاء آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کی نگرانی  میں چلایا جارہا ہے ۔اس کادائرۂ کار بوریولی تا نائیگاؤں ہے مگر اکثر کیسز میرا بھائندر اورکاشی میرا کے ہوتے ہیں۔ عامۃ المسلمین کی جانب سے دارالقضاء کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اوروہ قرآن وسنت کی روشنی میں اپنے عائلی مسائل کے حل کے لئے رجوع کرتے ہیں۔ دارالقضاء کی مقبولیت اوراعتماد کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہےکہ کچھ کیسز میں فریقین کو خود پولیس اسٹیشن سے دارالقضاء بھیجا جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مدنپورہ میں انجمن خیر الاسلام کے۶؍ اسکول ہیں

دارالقضاء کے قیام کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جب کچھ ذمہ دار شخصیات نے یہ دیکھا کہ گھریلو مسائل کے حل کے لئے بہت سی مائیں بہنیں اور بیٹیاں پولیس اسٹیشن کا رخ کررہی ہیں، اسی طرح مقامی عدالتوں میں کسیزکی نوعیت حاصل کرنے پر بھی کچھ ایسی ہی  صورتحال سامنے آئی تو انہوںنےآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے رجوع کیا ۔ بورڈ کے ذمہ داران نے مکمل رہنمائی کی۔ اس کامثبت نتیجہ سامنے ہے ۔ یہاں قاضی جسیم اختر مظاہری (قاضیٔ شریعت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈمیرا بھائندر )متعلقہ خدمات پر مامور ہیں۔ یہ تفصیلات دارالقضاء اور کاؤنسلنگ سینٹر کے ذمہ دار ڈاکٹر عظیم الدین سے کی گئی گفتگو پرمبنی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK