ہرچند کہ ممبئی کے اس مضافاتی شہر میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں مگر ترقی کی ہنوز گنجائش ہے اور تیس ہزار کروڑ کے منصوبوں سے کافی فرق پڑیگا۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 4:22 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Road
ہرچند کہ ممبئی کے اس مضافاتی شہر میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں مگر ترقی کی ہنوز گنجائش ہے اور تیس ہزار کروڑ کے منصوبوں سے کافی فرق پڑیگا۔
کبھی نمک کے کھیتوں اور دلدل سے گھرا ہوا میرا روڈ آج ترقی کی ایسی اڑان بھر رہا ہے جس نے کئی بڑے شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ( ایم ایم آر ڈی اے) نے میرا بھائندر کو۲۰۳۰ ء تک عالمی معیار کا اسمارٹ سٹی بنانے کا روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔ اس پر تقریباً ۳۰ ؍ ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
میٹرو کا جال - ترقی کی ریڑھ کی ہڈی
میرا بھائندر کے مستقبل کے تین سب سے بڑے منصوبے میٹرو کے ہیں: (۱) میٹرو لائن ۹؍، اندھیری سے بھائندر تک چلے گی۔ یہ دہیسر سے شروع ہو کر میرا روڈ کاشی گاؤں، میڈتیا نگر، شہید بھگت سنگھ گارڈن سے ہوتے ہوئے سبھاش چندر بوس اسٹیڈیم بھائندر مغرب تک جائیگی۔ اس پہلے فیز (دہیسر تا کاشی گاؤں) کا رواں سال اپریل میں آغاز ہو چکا ہے اور دوسرا مرحلہ کاشی گاؤں سے بھائندر مغرب تک جاری سال کے اختتام تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس کے بعد میرا روڈ والوں کو اندھیری جانے کیلئے لوکل ٹرین کی بھیڑ میں دھکے نہیں کھانے پڑیں گے ۔ (۲) میٹرو لائن ۱۰؍ تھانے سے میرا روڈتک۔یہ سب سے اہم پروجیکٹ ہے۔ گائیمکھ (تھانے) سے شیواجی چوک میرا روڈ تک ۹ء۷۱؍ کلومیٹر لمبا ایلیویٹڈ کوریڈور بنے گا جس پر ۸۰۰۰؍ کروڑ لاگت آئے گی۔ اس میں ۵ ؍ اسٹیشن ہونگے۔ گائیمکھ ریتی بندر، چینا گاؤں، ورسووا گاؤں، کاشی میرا اور میراگاؤں۔ ۲۰۳۱ تک اس پر روزانہ ۴.۶۶ لاکھ مسافر سفر کرینگے۔ (۳) میٹرو لائن ۱۳ - میرا روڈ تا ویرار: حال ہی میں یہ پروجیکٹ مہاراشٹر سرکار نے منظور کیا ہے۔ یہ لائن میرا روڈ، نائیگاؤں، نالاسوپارا اَور ویرار کو جوڑے گی۔ اس کی خاص بات وسئی کھاڑی پر ۶؍ لین والا سمندری برج ہوگا جو سڑک اور میٹرو دونوں کیلئے ہوگا۔ اس پر ۱۷۷۲۴؍ کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
یہ بھی پڑھئے:کثیر جہتی ادارہ جو خواتین کو خود کفیل بنانے کیلئے کوشاں ہے
سڑکوں کا جال - ٹریفک سے نجات
میرا روڈ کی سب سے بڑی پریشانی ٹریفک ہے اس کے حل کیلئے دو بڑے سڑک پروجیکٹ بن رہے ہیں: (۱) دہیسر بھائندر لنک روڈ: جو ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے سے سیدھا بھائندر کو جوڑے گا۔(۲) جیسل پارک گھوڑبندر کوسٹل روڈ: اس سے گھوڑبندر جانے کا وقت آدھا ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ میرابھائندر میونسپل کارپوریشن کے ذرائع کے مطابق ۱۰۰؍ سے زیادہ نئی سیمنٹ کانکریٹ کی سڑکیں بنائی جائیں گی تاکہ گڑھوں سے پاک شہر کو یقینی بنایا جائے۔
میرابھائندر کے شہریوں کی پیاس بجھانے والا پروجیکٹ سوریا واٹر اسکیم
پانی میرا روڈ کا پرانا مسئلہ ہے۔ اس کے حل کیلئے سوریا ڈیم پروجیکٹ کی نئی اسکیم لائی جا رہی ہے جس سے ۲۴ ؍ گھنٹے پانی مل سکتا ہے۔ میرا بھائندر شہر کو پانی کی قلت سے مستقل نجات دلانے والی ۴۰۳ ایم ایل ڈی سوریا علاقائی واٹر سپلائی اسکیم کا کام آخری مراحل میں ہے۔ میئر ڈمپل مہتا اور میونسپل کمشنر رادھا بنود اے شرما (آئی اے ایس) نے گزشتہ دنوں پروجیکٹ کا تفصیلی معائنہ کرکے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔
معائنہ کے دوران ایم ایم آر ڈی اے کے اعلیٰ حکام نے وسئی کاشید کوپر سے چینے واٹر ٹینک تک بچھائی جا رہی ۲۲؍ کلومیٹر طویل پائپ لائن کے بقیہ ۶۰۰؍ میٹر حصے، وسئی کھاڑی کے نیچے مائیکرو ٹنلنگ کے کام اور کاوڈاس میں ۱۳۲ ؍ کے وی ہائی وولٹیج لائن کا جائزہ لیا۔
ایک اہم آر ڈی اے کا لائف لائن پروجیکٹ
ایم ایم آر ڈی اے کی یہ اسکیم میرا بھائندر، وسئی-ویرار اور ۲۷؍ دیہاتوں کیلئے لائف لائن ہے۔ ۱۹؍ اکتوبر ۲۰۱۶ ءکواس کی منظوری کے بعد ۴؍ اگست ۲۰۱۷ء کو ایک اینڈ ٹی کمپنی کو ورک آرڈر دیا گیا تھا۔ اسکیم کے تحت سوریا ڈیم کے نیچے کاوڈاس پک اپ ویئر سے پانی اٹھا کر سوریا نگر میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ میں صاف کیا جائے گا اور زیر زمین پائپ لائن کے ذریعے میرا بھائندر اور وسئی ویرار کے ایم بی آر تک پہنچایا جائے گا۔
ایسے کئی پروجیکٹوں پر کام چل رہا ہے اور اُمید کی جاتی ہے کہ ان کی تکمیل کے ذریعہ میرا روڈ کی تقدیر مزید سنورے گی اور عوام کو بڑی راحت ملے گی۔ وقت کا انتظار کیجئے۔