تعزیتی نشست ،کینڈل مارچ اور جلوس میں کرلا، ملاڈ، جوگیشوری، کاندیولی،ممبرا اورمیراروڈ کےسیکڑوں مظاہرین کی شرکت۔
ڈونگری میںنکالے گئے ا حتجاج جلوس کا منظر ۔تصویر:آئی این این
امریکہ -اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہونےوالے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو پیرکوممبئی میں خراج عقیدت پیش کرنےکیلئے تعزیتی نشست ،کینڈل مارچ اور جلوس کا انعقاد کیا گیا۔ ڈونگری پر واقع ایرانی اور مغل مسجد سے جلوس نکالا گیاجو بھنڈی بازار کی زینبیہ مسجد پر ختم ہوا۔احتجاجی پروگرا م میں دونوں مکاتب ِ فکر کے لوگ شریک ہوئے۔شہر کےعلاوہ مضافاتی علاقوں مثلاً کرلا، ملاڈ، جوگیشوری ، کاندیولی،ممبرا اور میرا روڈ کے سیکڑوں مظاہرین نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔
جلوس کےشرکاء ہاتھوںمیںسیاہ پرچم، بینرس، آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویراُٹھائے احتجاجی نعرے لگارہےتھے ۔ ’خامنہ ای صرف ایران کے نہیں، امت کے رہبر تھے‘ اور ’امریکہ اور اسرائیل اس دہشت کے ذمہ دار ہیں‘ جیسے نعرے مسلسل بلند ہورہے تھے۔اس موقع پر آیت اللہ خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنےکےعلاوہ خصوصی دعائیہ تقریب منعقدکی گئی ۔مغل مسجدمیں منعقدہ تعزیتی نشست میں شیعہ عالم دین نے آیت اللہ خامنہ ای کو خراج عقید ت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ مظلوم اقوام کی آواز بلندکی۔ ان کی شہادت امت ِ مسلمہ کیلئے ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔
مظاہرین میں شریک ایک شخص نے کہاکہ ’’آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے پیدا ہونے والا خلا پُر نہیں کیا جاسکتا ۔ان کی موت کابدلا لیا جائے گا۔ انہوںنےقوم وملت کیلئے جو خدمات پیش کی ہیں ،اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ایسے رہنما مشکل سے پیدا ہوتے ہیں، چنانچہ ہم ظالموںکو کیفرکردار تک پہنچا کر رہیں گے۔ ظلم کا اختتام ضروری ہے۔ ‘‘