Updated: June 09, 2026, 4:48 PM IST
| Chennai
کمل ہاسن نے فلم SingGeetham کی ریلیز سے قبل ہدایت کار سنگیتم سرینیواسا راؤ کے ساتھ اپنی چار دہائیوں پر محیط رفاقت اور تخلیقی سفر کو یاد کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ’’سنگ گیتھم‘‘ کا تصور تقریباً ۴۵؍ سال قبل اس وقت سامنے آیا تھا جب وہ اور سنگیتھم ایک اور تجرباتی فلم پر گفتگو کر رہے تھے۔
کمل ہاسن۔ تصویر: آئی این این
فلم ’’سنگ گیتھم‘‘ کی ریلیز سے قبل منعقدہ تقریب میں اداکار کمل ہاسن نے ہدایت کار سنگیتم سرینیواسا راؤ کے ساتھ اپنے طویل تخلیقی تعلقات اور فلمی سفر کی دلچسپ یادیں تازہ کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’سنگ گیتھم‘‘ کا خیال آج کا نہیں بلکہ تقریباً ۴۵؍ برس پرانا ہے، جس پر دونوں فنکاروں نے پہلی بار اس وقت گفتگو کی تھی جب وہ ایک اور منفرد فلم کے منصوبے پر بات کر رہے تھے۔ چنئی میں منعقدہ تقریب کے دوران کمل ہاسن نے کہا، ’’ہماری پہلی ملاقات ممبئی میں ہوئی تھی اور اسی دن ہم نے دو فلموں کے بارے میں گفتگو کی تھی، ایک ’’پشپاکا ویمانا‘‘ اور دوسری ’’سنگ گیتھم۔‘‘ جب ہم اس فلم کے بارے میں بات کر رہے تھے تو میری عمر تقریباً ۲۰؍ سال تھی، اور آج میں ۷۱؍ برس کا ہوں اور اس فلم کی ریلیز دیکھ رہا ہوں۔ کچھ خیالات کبھی پرانے نہیں ہوتے، اور یہی سنگیتھم سر کی سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ وہ ہمیشہ نئے خیالات سے بھرپور رہتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کے موشن پوسٹر میں تقسیم کے درد کو دکھایا گیا
کمل ہاسن نے اپنی اور سنگیتھم سرینیواسا راؤ کی مشہور مکالمہ سے پاک فلم Pushpaka Vimana کا بھی ذکر کیا، جسے ہندوستانی سنیما کی تجرباتی اور یادگار فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’لوگ ہمیں بغیر مکالموں والی فلم بنانے پر سراہتے تھے، لیکن ہمیں اس بات پر زیادہ خوشی تھی کہ ہم نے فلم کی شوٹنگ ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں کی تھی۔‘‘ فلم کی تیاری کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں صبح اٹھ کر دانت صاف کرتا، ریہرسل کرتا، نہاتا، بال سنوارتا اور پھر شوٹنگ شروع ہو جاتی۔ آج بھی وہ دن میرے ذہن میں تازہ ہیں۔‘‘
اس موقع پر کمل ہاسن نے موجودہ فلمی صنعت کے رجحانات پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب فلموں کو ان کی تخلیقی اہمیت کے بجائے محض کمائی کے پیمانے پر جانچا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، ’’سنیما پہلے جذبے سے پیدا ہوتا ہے اور بعد میں کاروبار بنتا ہے، لیکن آج ہم پہلے یہ پوچھتے ہیں کہ فلم کتنے کروڑ کمائے گی۔ ۱۰۰؍ کروڑ، ۲۰۰؍ کروڑ یا ۳۰۰؍ کروڑ کی بحث میں اصل تخلیقی روح کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کوئی بھی پوری یقین دہانی کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی فلم سپر ہٹ ہوگی یا فلاپ۔ لیکن ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ فلم مکمل ہونے کے بعد کیا ہم اس سے مطمئن ہیں یا نہیں۔ اگر ہم خوش نہیں تو ہمیں اسے دوبارہ بنانا چاہیے۔ میرے خیال میں کامیابی کا یہی اصل معیار ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہیلی شاہ ٹائپ کاسٹنگ سے باہر نکل کر خود کو نئے روپ میں ثابت کرنا چاہتی ہیں
کمل ہاسن نے ۱۹۸۹ء کی اپنی مقبول فلم Apoorva Sagodharargal کا بھی ذکر کیا اور انکشاف کیا کہ فلم تقریباً منسوخ ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی ۲۰؍ دن کی شوٹنگ کے بعد انہیں احساس ہوا کہ کچھ بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں، جس کے بعد انہوں نے اور سنگیتھم نے مل کر پوری حکمت عملی تبدیل کی۔ انہوں نے ۲۰۰۵ء کی فلم Mumbai Xpress کو بھی یاد کیا اور کہا، ’’اگرچہ فلم کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی ہم نے توقع کی تھی، لیکن اس کی شوٹنگ کے دوران ہمیں بے حد لطف آیا۔ یہ پہلی فلموں میں شامل تھی جو ڈجیٹل فارمیٹ میں شوٹ کی گئی تھیں اور اس میں کئی نئے تجربات کیے گئے تھے۔‘‘
تقریب کے اختتام پر کمل ہاسن نے سرینیواسا راؤ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ہمیشہ اپنی عمر سے کئی قدم آگے رہے ہیں۔ آج بھی وہ نئی نسل سے زیادہ جدید خیالات رکھتے ہیں۔ عمر انسان کے جسم پر اثر ڈال سکتی ہے، لیکن ذہن اگر متحرک رہے تو ہر حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ سنگیتھم سر اس کی بہترین مثال ہیں۔ میں تو ان کے اسسٹنٹ ڈائریکر کے طور پر کام کرنا پسند کروں گا تاکہ ان جیسا تخلیقی جذبہ سیکھ سکوں۔‘‘ ۹۴؍ سالہ ہدایت کار سنگیتھم سری نواس راؤ کی نئی فلم ’’سنگ گیتھم‘‘ ۱۱؍ جون کو دنیا بھر میں ریلیز کی جا رہی ہے، جسے ان کے طویل اور شاندار فلمی کریئر کا ایک اور اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔