Updated: October 20, 2026, 4:01 PM IST
| New Delhi
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)سے ہندوستانی انجینئرنگ شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا (ای ای پی سی انڈیا) کے صدر پنکج چڈھا کے مطابق، آئندہ پانچ برسوں میں نیوزی لینڈ کو ہندوستان کی انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات دُگنی ہو کر ۲۸؍ سے ۳۰؍ کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
ہندوستان اور نیوزی لینڈ میں تجارت۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)سے ہندوستانی انجینئرنگ شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا (ای ای پی سی انڈیا) کے صدر پنکج چڈھا کے مطابق، آئندہ پانچ برسوں میں نیوزی لینڈ کو ہندوستان کی انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات دُگنی ہو کر ۲۸؍ سے ۳۰؍ کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
پنکج چڈھا نے کہا کہ نیوزی لینڈ ہندوستانی انجینئرنگ مصنوعات کے لیے نسبتاً چھوٹی منڈی ہے، لیکن اس میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کے مطابق، ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ نافذ ہونے سے انجینئرنگ شعبے کے لیے نئے راستے کھل گئے ہیں اور ہندوستانی صنعت کاروں کو اس منڈی میں اپنی موجودگی بڑھانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ہندوستانی انجینئرنگ مصنوعات کے برآمد کنندگان کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے انہیں نئی تجارتی راہیں تلاش کرنے اور اپنی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف فائرنگ: ہندی فلم انڈسٹری میں قانون و انتظام کی صورتِ حال پر تشویش
اعداد و شمار کے مطابق نیوزی لینڈ کو ہندوستان کی انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء میں۹۸ء۱۲؍ کروڑ ڈالر تھیں، جو مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں بڑھ کر۰۵ء۱۴؍ کروڑ ڈالر ہوگئیں۔ معاہدے کے نفاذ کے بعد اس شعبے کی برآمدات میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔ہندوستان سے نیوزی لینڈ بھیجی جانے والی اہم انجینئرنگ مصنوعات میں گاڑیاں، ڈیری صنعت میں استعمال ہونے والی صنعتی مشینری، طبی اور سائنسی آلات، دفتری سازوسامان، لوہے اور فولاد سے بنی مصنوعات شامل ہیں۔ تجارتی معاہدے سے بھارتی صنعت کاروں کو ان مصنوعات کے لیے نیوزی لینڈ میں نئے خریدار تلاش کرنے اور اپنی کاروباری سرگرمیاں وسعت دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یوم آئین پر سماجوادی پارٹی کا انتخابی منشور جاری کرنے کا اعلان
پنکج چڈھا نے کہا کہ اس معاہدے سے بالخصوص چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ ان صنعتوں کو اپنی مصنوعات کے دائرے میں وسعت لانے، نئی مصنوعات متعارف کرانے اور نیوزی لینڈ کی منڈی میں اپنی کاروباری موجودگی مضبوط کرنے کے مواقع حاصل ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ کے ساتھ انجینئرنگ تجارت کو فروغ دینے سے ہندوستان کے طویل مدتی برآمدی اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ ہندوستان نے ۲۰۳۰ء تک انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات کو ۲۵۰؍ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، اور نیوزی لینڈ کے ساتھ تجارتی تعلقات کی مضبوطی اس سمت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
ای ای پی سی انڈیا کو امید ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں نیوزی لینڈ کو ہندوستان کی انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات بڑھ کر۲۸؍ سے۳۰؍ کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ یہ مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ءمیں حاصل ہونے والی۰۵ء۱۴؍ کروڑ ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں تقریباً دُگنا ہوں گی۔ اس طرح، ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو بھارتی انجینئرنگ صنعت، بالخصوص چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے، جس سے برآمدات میں اضافے، نئی منڈیوں تک رسائی اور ۲۰۳۰ءکے برآمدی ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔