Updated: October 20, 2026, 5:58 PM IST
| Tehran
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے تہران میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ بیان دیا۔ دونوں لیڈروں نے ایران سے متعلق جنگ، علاقائی سلامتی اور اقتصادی و جوہری تعاون کو وسعت دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
روس اور ایران۔ تصویر:آئی این این
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے تہران میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ بیان دیا۔ دونوں لیڈروں نے ایران سے متعلق جنگ، علاقائی سلامتی اور اقتصادی و جوہری تعاون کو وسعت دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ عراقچی نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ایران اور روس نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی موجودہ دور کی طرح قریبی تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے ان مذاکرات کو بروقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یورپ سے لے کر مغربی ایشیا تک تمام امور پر بات کی، جن میں لبنان، فلسطین، یوکرین اور یمن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اقتصادی اور جوہری تعاون کو وسعت دینے پر بھی توجہ دی گئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے بات چیت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔ عراقچی نے کہا کہ تہران اور ماسکو اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ علاقائی تنازعات کو فوجی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان کے حل کے لیے سفارتی اور سیاسی اقدامات ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:یوم آئین پر سماجوادی پارٹی کا انتخابی منشور جاری کرنے کا اعلان
انہوں نے کہاکہ ہمارے تعلقات اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں اور دونوں صدور کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔عراقچی کے مطابق، مذاکرات میں دو طرفہ تجارت، اقتصادی تعلقات، سیاسی اور ثقافتی تعاون کے علاوہ خلیج فارس، قفقاز، یوکرین اور ایران امریکہ مذاکرات سے متعلق تازہ صورت حال پر بھی گفتگو ہوئی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال ایران کے خلاف ان دونوں ملکوں کی فوجی کارروائیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز کے آس پاس موجودہ عدم تحفظ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت کا براہ راست نتیجہ ہے اور یہ مختلف شکلوں میں اب بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف فائرنگ: ہندی فلم انڈسٹری میں قانون و انتظام کی صورتِ حال پر تشویش
عراقچی نے خطے میں اسرائیل کی توسیع پسندی کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ بحیرہ کیسپین میں بحری جہازوں پر حملوں کے معاملے پر ایران اور روس کو مشترکہ تشویش لاحق ہے۔ دونوں فریقوں نے افغانستان، کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی اور شدت پسندوں کے خطرات سے نمٹنے کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے مغربی ملکوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو بین الاقوامی تنازعات کے حوالے سے اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، تہران اور ماسکو امریکہ کی اس پالیسی کی مخالفت پر وسیع تر اتفاق رکھتے ہیں، جسے انہوں نے جارحانہ یک طرفہ پسندی قرار دیا۔
پیر کو تہران پہنچنے والے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس ایران کے ساتھ ۲۰؍ سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے، جو ۲؍ اکتوبر کو نافذ ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ کے دوران ایران سے واپس جانے والے روسی ماہرین بتدریج ایران کے بوشہر جوہری بجلی گھر میں دوبارہ کام شروع کریں گے۔۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد لاوروف کا یہ پہلا دورۂ ایران ہے۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔ پزشکیان نے کہا کہ ماسکو اور تہران بین الاقوامی تعلقات میں باہمی احترام کی ضرورت پر مشترکہ نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔
لاوروف کا دورۂ تہران بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہوا۔ ان مذاکرات میں علاقائی ملکوں نے روس پر زور دیا تھا کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بحال کرانے اور سنجیدہ مذاکرات کو فروغ دینے میں مدد کرے۔