ووٹ چوری کیخلاف احتجاج کیلئے طلبہ تنظیموں اور یووا کانگریس کے کارکنان کے ساتھ آج کاکروچوں کا تاریخی مظاہرہ، جگہ جگہ پکڑ دھکڑ کے باوجود نوجوان پُر عزم، گیانیش کا استعفےٰ اور ایس آئی آر روکنے کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 9:05 AM IST
ووٹ چوری کیخلاف احتجاج کیلئے طلبہ تنظیموں اور یووا کانگریس کے کارکنان کے ساتھ آج کاکروچوں کا تاریخی مظاہرہ، جگہ جگہ پکڑ دھکڑ کے باوجود نوجوان پُر عزم، گیانیش کا استعفےٰ اور ایس آئی آر روکنے کا مطالبہ۔
ووٹ چوری کے خلاف ،ایس آئی آر کی منسوخی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کیلئے دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو روکنے کیلئےمودی سرکار نے غیر معمولی پابندیاں عائد کردی ہیں جس کے بعد یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے کہ کیا ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے؟ دہلی کی تمام سرحدیں کم وبیش سیل کردی گئی ہیں، دیگر ریاستوں سے آنےوالی گاڑیوں اور بسوں پر نظر رکھی جارہی ہے، نئی دہلی اور نظام الدین ریلوے اسٹیشن پہنچنے والی ٹرینیں جن میں راجدھانی اور شتابدی شامل ہیں کو منسوخ یا ملتوی کر دیا گیاہے، دہلی میں ۵۷؍ میٹرو اسٹیشن بند کردیئے گئے ہیں، سنیچر کو نئی دہلی میں کرتویہ پتھ کے ۴؍ کلو میٹر کے احاطہ میں انٹرنیٹ بند کرنے کا اعلان کیاگیاہے اور پورے شہر میں چپہ چپہ پر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔ حکومت کے ان اقدامات کو وکلاء نے ’’اپنے ہی عوام کے خلاف اعلان جنگ‘‘ قرار دیا ہے تاہم ان سخت پیش بندیوں کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی کے ذمہ داروں نے اپنے قدم پیچھے لئے نہ کارکنوں نےدہلی کیلئے روانہ ہونے کا ارادہ ترک کیا۔
راستے میں ٹرینوں سے لوگوں کی گرفتاریاں
بی جےپی کے اقتدار والی تمام ریاستوں میں ایسے افراد کو نوٹس دیئے جارہے ہیں جو دہلی کے اِس احتجاج میں شرکت کرسکتے ہیں جبکہ دہلی کی طرف گامزن ٹرینوں میں جگہ جگہ پولیس اہلکار سوار ہورہے ہیں اور ایسے افراد کو بطور خاص نوجوانوں کو حراست میں لے رہے ہیں جو دہلی کے احتجاج میں شرکت کیلئے جارہے ہیں۔ سی جے پی نے ایکس پوسٹ کر کے بتایا کہ اس کے کارکنوں کو اٹارسی میں ٹرین سے اتار لیا گیاہے جبکہ اس نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ مذکورہ افراد کو پولیس اپنی تحویل میں لینے کے بعد ایک مقامی بی جےپی لیڈر کے فارم ہاؤس لے گئی۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے ۱۰؍ ہزار سے زائد افراد کے تحویل میں لئے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دہلی کیلئے روانہ ہونےوالی ٹرینیں منسوخ
ایسا ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہورہاہے کہ کسی احتجاج کو روکنے کیلئے ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں۔ ریلوے نے مختلف ریاستوں سے دہلی کی جانب روانہ ہونےوالی ان تمام میل اور ایکسپریس ٹرینوں کو منسوخ کرنے کی ہدایت دی ہے جن کی جمعہ کو متعلقہ اسٹیشنوں سے ۲؍ بجے کے بعد روانگی ہے اور جوسنیچر (۱۰؍ اکتوبر) کو ۴؍ بجے صبح سے دوپہر ۲؍ بجے تک نئی دہلی یا نظام الدین ریلوے اسٹیشن تک پہنچ سکتی ہیں۔ ریلوے نے اس منسوخی کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ اس سے سڑکوں پر جام لگنے کا اندیشہ ہے۔ یہ بھی پہلی بار ہی ہورہا ہے کہ ٹرینیں روڈ ٹریفک کے اندیشے سے منسوخ کی جا رہی ہیں۔
وزارت داخلہ کی جانب سے ریاستوں کو ایڈوائزری
شدید ترین تنقیدوں کو نظر انداز کرتےہوئے جمعہ کو مرکزی وزارت داخلہ جس کی باگ ڈور امیت شاہ کے ہاتھ میں ہے، نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سی جے پی کارکنوں کو دہلی کیلئے پیش رفت سے روکیں۔
نظم ونسق کے مسئلہ کا حوالہ دیتے ہوئے ایڈوائزری میں کہاگیا ہے کہ پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت مسترد کئے جانے کے باوجود انٹیلی جنس نے اطلاع دی ہے کہ بڑی تعداد میں مظاہرین دہلی کیلئے نکلیں گے۔ ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مظاہرین کے تعلق سے انٹیلی جنس کا بروقت تبادلہ کیا جائےاور احتیاطی اقدامات کو انتہائی سختی کے ساتھ نافذ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:عدالتی کارروائی کی ویڈیوز کا غلط استعمال ادارے کیلئے نقصان دہ: سپریم کورٹ
آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا نے کیا کہا؟
’’تاریخ خود کو دُہرا رہی ہے۔ ۸؍ اگست ۱۹۴۲ء کا دن یاد کیجئے جب انگریزو، بھارت چھوڑو کا نعرہ دیا گیا تھا، کچھ گھنٹوں ہی کے اندر انگریزوں نے ہمارے مجاہدین آزادی کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا تھا۔ آج بھی وہی ہورہا ہے۔ پورے ملک میں بڑے پیمانے پر ہاؤس اریسٹ ہورہے ہیں، ہمیں ڈھونڈنے کیلئے چپے چپے پر پولیس گھوم رہی ہے۔ دہلی آنے والی ٹرینوں کو روکا جا رہا ہے۔ ۵۷؍ میٹرو اسٹیشن بند ہو گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں حفاظتی افسران اور اہلکاروں کو دہلی میں اتارا جا رہا ہے۔ یہ کھلی ایمرجنسی ہے جو لگا دی گئی ہے۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ جس طرح ۱۹۴۲ء کی پکڑ دھکڑ کے باوجود ’’کوئٹ اِنڈیا موومنٹ‘‘ نہیں رکا تھا، یہ آندولن بھی نہیں رُکے گا، اگر ہم سب کل گرفتار ہو گئے تو آپ لوگ جو جنتر منتر کی طرف کوچ کرنے جا رہے ہیں آپ ہی کو لیڈرشپ لینی ہے، آپ کو جہاں روکا جائے، جس میٹرو پر، جس ٹرین اسٹیشن پر روکا جائے وہیں بیٹھ جائیے اور کہئے کہ ایس آئی آر روکا جائے، گیانیش کمار کو ہٹایا جائے۔ حکومت کو جوابدہ بنانا پڑے گا۔‘‘
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے کیا کہا؟
’’کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور دہلی کو قلعے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ڈکٹیٹر احتجاج کیلئے مختص جگہ پر پُرامن احتجاج کی اجازت دینے کے بجائے پوری راجدھانی کوبند کرنا اور لاکھوں شہریوں کو پریشانی میں ڈالنا زیادہ پسند کرے گا۔ بی جے پی حکومت نے ملک بھر میں ہزاروں نوجوانوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ حکومت ملک کے نوجوانوں خاص طور سے جین زی سے خوفزدہ ہے۔مودی، ڈرانے کی یہ کوشش کام نہیں آئے گی۔ اس ملک کا نوجوان اب آپ سے نہیں ڈرتا۔ میں کل دہلی پہنچ رہا ہوں اور ہر حال میں جنتر منتر تک مارچ کروں گا۔اگر آپ نوجوانوں سے خوفزدہ ہیں تو پورے ملک کو بند کردیں۔ ہمارا احتجاج ہوکر رہےگا...ہمیں پرمیشن کی ضرورت نہیں۔‘‘