Updated: October 09, 2026, 9:09 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے جمعہ کو عدالتی سماعتوں کی لائیو اسٹریمنگ کو تجارتی اور ذاتی فائدے کیلئے استعمال کرنے پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے عدلیہ اور بار و بینچ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے. چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ اس مسئلے پر دائر ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں عدالتی کارروائی کی ویڈیوز کے غیر مجاز استعمال، ویڈیو کلپس کاٹنے اور ان کے ذریعے پیسے کمانے پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سپرریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے جمعہ کو عدالتی سماعتوں کی لائیو اسٹریمنگ کو تجارتی اور ذاتی فائدے کیلئے استعمال کرنے پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے عدلیہ اور بار و بینچ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے. چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ اس مسئلے پر دائر ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں عدالتی کارروائی کی ویڈیوز کے غیر مجاز استعمال، ویڈیو کلپس کاٹنے اور ان کے ذریعے پیسے کمانے پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔عدالت نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام ہائی کورٹس اور دیگر متعلقہ فریقین سے تجاویز اور مشورے جمع کریں تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو اپنی تجاویز سالیسیٹر جنرل کے دفتر بھیجنے کا حکم دیا اور حکومت کو موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لے کر ایک جوابی حلف نامہ اور جامع تجویز پیش کرنے کیلئے وقت دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ۲؍ خاتون قیدیوں کو گھر لے جا کر کام کروانے والی جیلر کو سزا، اب اُن ہی کے ساتھ قید ہے
اس سے قبل، بنچ نے ایک عبوری حکم کے ذریعے بغیر اجازت سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر عدالتی ویڈیوز کی گردش اور تجارتی استعمال پر روک لگائی تھی اور تمام ریاستوں اور اس معاملے پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ بعد میں عدالت نے واضح کیا تھا کہ اس حکم کا مقصد تسلیم شدہ نیوز آرگنائزیشنز کی عدالتی رپورٹنگ کو روکنا نہیں ہے، تاہم خبر رساں اداروں کو بھی عدالتی ہدایات اور ضوابط کی پاسداری کرنا ہوگی۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ متھیوز نیدم پارا نے دلیل دی کہ عوام کو عدالت میں ہونے والی تمام کارروائی سے واقف ہونے کا حق ہے اور حکومت لوگوں کی رائے کو نہیں دبا سکتی۔ اس پر سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے نشاندہی کی کہ کئی یوٹیوب چینلز مسلسل عدالتی کارروائی کی ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے ہیں اور ایسے چینلز کو روکنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’قطع تعلق اور شادی سے انکار کی بنیاد پر خودکشی کیلئے اُکسانے کا مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا‘‘
بعد ازاں ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے ابھی تک اس معاملے میں اپنا جواب دائر نہیں کیا ہے۔چیف جسٹس سوریا کانت نے نیدم پارا کے موقف پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ لائیو اسٹریمنگ کا مقصد عمومی معلومات، عوامی آرا اور عدالتی عمل کی تفہیم فراہم کرنا ہے، نہ کہ اس کا تجارتی استحصال کرنا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت لائیو اسٹریمنگ پر پابندی لگانے کی حامی نہیں ہے، بلکہ وہ صرف ایسے رہنما اصول بنانا چاہتی ہے جس کے تحت عوامی مفاد کیلئے بنائی گئی چیزوں کا تجارتی فائدہ نہ اٹھایا جا سکے اور ججوں کے بیانات کی غلط تشریح یا انہیں غلط انداز میں پیش نہ کیا جائے۔جسٹس جوئے مالیہ باگچی نے گفتگو میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ `بار کونسل آف انڈیا کے قواعد کے تحت وکلاء کو اپنے پیشہ ورانہ فائدے کیلئے مشہورکرنے پر پابندی ہے، لیکن آج کل عدالتی ویڈیوز کے چھوٹے چھوٹے حصے کاٹ کر ذاتی پروفائلز پر اپ لوڈ کئے جا رہے ہیں تاکہ پیشہ ورانہ فائدہ حاصل کیا جا سکے، جو کہ وکالت کے ا صولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ لائیو اسٹریمنگ کا تمام ڈیٹا محفوظ رکھنے کیلئے کلاؤڈ اسٹوریج اور دیگر ذرائع کا انتظام کر رہی ہے تاکہ یہ مواد آر ٹی آئی جیسے مناسب ذرائع سے لوگوں کو مل سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تکنیکی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ اسکرین ریکارڈنگ کے ذریعے ویڈیوز نکالنے کی پابندیوں کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے، جس کیلئے تکنیکی سپورٹ اور یوٹیوب جیسے اہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے جواب کی ضرورت ہوگی۔س
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی/ این ڈی اے کو ہرائیں، اصلاح نظر آئیگی: پرشانت کشور
علاوہ ازیں سینیئر ایڈووکیٹ گوپال سنکر نارائنن نے عدالت میں نشاندہی کی کہ ۳۰؍ منٹ کی سماعت میں سے صرف ۴؍ منٹ کا غیر متعلقہ حصہ کاٹ کر سنسنی خیز عناوین اور ڈسکرپشن کے ساتھ یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو تجاویز پیش کیں، پہلی یہ کہ اگر عدالتی کارروائی کو دوبارہ دکھانا ہی ہے تو پوری سماعت دکھائی جائےاور دوسری یہ کہ اس کے ساتھ کوئی من گھڑت عنوان یا تفصیل نہ جوڑی جائے۔چیف جسٹس سوریا کانت نے سماعت کے اختتام پر ایک بار پھر دہرایا کہ لائیو اسٹریمنگ کو روکنے یا سنسرشپ لگانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ تشویش صرف اس بات پر ہے کہ ان ویڈیوز کا استعمال ذاتی اشتہار بازی، پیسے کمانے اور غلط بیانی کیلئے کیا جا رہا ہے، جسے روکنا انتہائی ضروری ہے۔