نام حذف ہونے کا اندیشہ ۔ کچھ علاقوں میں بی ایل او نے کام شروع نہیں کیا جبکہ بیشتر علاقوں میںگھرجانے کےبجائے وہ ووٹرس کوبلاکر انہیں نوٹس دے کر دستاویزات حاصل کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 9:58 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
نام حذف ہونے کا اندیشہ ۔ کچھ علاقوں میں بی ایل او نے کام شروع نہیں کیا جبکہ بیشتر علاقوں میںگھرجانے کےبجائے وہ ووٹرس کوبلاکر انہیں نوٹس دے کر دستاویزات حاصل کررہے ہیں۔
ایس آئی آر رَد کرانے کیلئے جاری زبردست احتجاجی مظاہروں کے دوران ایس آئی آر کیلئے بہت سے علاقوں میں اب تک بی ایل او نے نوٹس دے کر ووٹرس سے دستاویزات جمع کرنا شروع نہیں کیا ہے جس سے شہریوں کو اپنے نام حذف ہونے کا اندیشہ ہے ۔حالانکہ کسی قدر یہ راحت کی بات ہےکہ اب ووٹرس کو ہیئرنگ کیلئے دھکا نہیں کھانا ہوگا، بی ایل اوخود دستاویزات حاصل کررہے ہیں۔ دوسری جانب تضاد فہرست میں شامل کئےگئے ووٹرس کو گھر گھرجاکر نوٹس دینے اور دستاویزات جمع کرنے کا سلسلہ توشہر اورمضافات میںکہیں بھی شروع نہیں کیا گیاہے۔ اس کے برخلاف بی ایل او فارم بھروانے کی جگہوں (سینٹرز)پر بیٹھ کرووٹروں کوبلاکر ان سے دستاویزات لے رہے ہیں۔
ووٹرس میں پس وپیش کا سبب کیا ہے؟
الگ الگ علاقوں میں رائے دہندگان سے نمائندۂ انقلاب کے استفسار کرنےپر انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ اعلان تو ضرور کیا گیا تھا کہ جن ووٹرس کی میپنگ صحیح نہیں ہوئی ہے یا جن کے ناموں کے املے میںیا ولدیت میںیا کوئی اورفرق ہے ، ان کو تضاد فہرست میںشامل کیا گیا ہے اورانہیں دستاویز پیش کرکے اس کی وضاحت کرنی ہوگی مگر اب تک کسی بھی علاقے میںگھرگھر جاکر نوٹس دینے اور دستاویز جمع کرنے کا عمل شروع نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ ان ہدایات پرعمل نہیںکیا جارہا ہے۔
کس طرح ضمانت ہوگی کہ ہرووٹر کے دستاویز جمع ہوگئے
گوونڈی میںرہنے والے حاجی محمد الیاس قادری نے بتایاکہ’’ شیواجی نگرمیںان کےعلاقے میں ایسا کوئی نظم نہیںکیا گیا ہے۔ایسے میںاگر بی ایل او بلائے اور وہ شخص گھر پر موجود نہ ہو ،کسی ضروری کام سے باہر گیا ہو توکیا اس کا نام کٹ جائے گا اوراسےدوبارہ دستاویز جمع کرانے کاموقع نہیں ملے گا؟ آخر اس کاحل کیا ہے اور اس کی ضمانت کس طرح ملے گی کہ کسی بھی ووٹر کے دستاویز جمع ہونےسے نہیںرہیں گے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: نصف سے زائد کنیڈین امریکی مصنوعات خریدنے سے گریز کر رہے ہیں:پول میں انکشاف
’’الیکشن کمیشن نے خود تاریخ بدل کر۱۴؍اکتوبر کردی‘‘
مالونی گیٹ نمبر ۶؍میں مقیم خاتون خان عقیلہ نے بتایاکہ ’’انہیںالیکشن کمیشن کی جانب سے ایک میسیج بھیجا گیا کہ ایس آئی آر کا آپ کونوٹس بھیجا جارہا ہے اورآپ کو ۲۸؍ستمبر کو ہیئرنگ کیلئے آنا ہے پھردوسرا میسیج بھیجا گیا کہ وہ تاریخ بدل دی گئی ہے اور اب آپ کو ۱۴؍ اکتوبر کو۲؍بجے حاضر ہونا ہے مگر نوٹس نہیںلینی ہے بلکہ آپ اپنے بی ایل اوسنیل گوساوی سے رابطہ قائم کرکے اسے ضروری کاغذات دے دیجئے۔ مذکور ہ خاتون کاکہنا ہے کہ میسیج تو آگیا مگر اب تک بی ایل او کا پتہ ہی نہیں ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی تاریخ میں محض ۵؍دن بچا ہے۔ ایسےمیں اگر دستاویز جمع کرانے میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تواس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ ‘‘
’’گھرپر جاناتوچھوڑیئے ابھی۵۰؍فیصد بی ایل او آئے ہی نہیں‘‘
چیتا کیمپ میںبی ایل اے کی ذمہ داری ادا کرنے والے رفیق شیخ نے بھی اسی طرح کی شکایت کی ۔ ان کاکہنا ہےکہ گھرگھرجاکر نوٹس دینا تو چھوڑیئے ، ابھی ۵۰؍ فیصد سے زائدبی ایل او نے ہمارے علاقے میں ڈیوٹی ہی جوائنٹ نہیں کی ہے۔ ان سے فون پر رابطہ قائم کرنے پرجواب دیا جاتا ہے کہ ابھی ان کے اسکول یا دفتر سے انہیں رخصت نہیں دی گئی ہے ،وہ کس طرح یہ کام کرنے کیلئے علاقے میں آئیں۔ اس سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیںوقت گزر جائے اور شہری اپنے دستاویزات جمع نہ کراسکیں تواس کا ذمہ دار کون ہوگا؟‘‘ رفیق شیخ نے یہ بھی بتایا کہ ’’ ووٹرس کیلئے راحت کی بات یہ ہے کہ جو بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) آرہے ہیں ،وہ کاغذات آسانی کے ساتھ قبول کرلے رہے ہیں، زیادہ پس وپیش نہیں کررہے ہیں۔‘‘