Updated: May 07, 2026, 10:56 AM IST
| Tehran
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ کئی دہائیوں بعد ہونے والے براہ راست مذاکرات میں چیف مذاکرات کار کے طور پر سامنے آنے والے قالیباف نے کہا کہ امریکہ بحری ناکہ بندی، معاشی دباؤ اور میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران بمقابلہ امریکہ۔ تصویر:آئی این این
محمد باقر قالیباف نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ مختلف دباؤ کے ذریعے ایران کو سرینڈر کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ کئی دہائیوں بعد ہونے والے براہ راست مذاکرات میں چیف مذاکرات کار کے طور پر سامنے آنے والے قالیباف نے کہا کہ امریکہ بحری ناکہ بندی، معاشی دباؤ اور میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا بیان بدھ کے روز ان کے سرکاری ٹیلی گراف چینل پر جاری کیا گیا۔
قالیباف کے مطابق دشمن کی کوشش ہے کہ ایران کو اقتصادی طور پر کمزور کرکے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے، جبکہ بحری ناکہ بندی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاہم ان کے بیان میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں یا ممکنہ امن معاہدے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اپنے حتمی مؤقف سے ثالث ملک پاکستان کے ذریعے آگاہ کرے گا۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران نے امریکہ کی تجاویز قبول نہ کیں تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ :ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
دوسری طرف ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران دیگر شرائط کے ساتھ جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری پر متفق ہو گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔امریکی صدر نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو اور بعد ازاں اوول آفس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پریم دھون کے حب الوطنی پر مبنی نغمے آج بھی مقبول ہیں
ٹرمپ کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ واشنگٹن کو امید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے دیگر شرائط کے ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے جا رہا ہے کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران میں ان عناصر سے رابطے میں ہیں جو معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ تہران حتمی طور پر اس ڈیل پر آمادہ ہوتا ہے یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ امریکی میڈیا میں زیر گردش ۳۰؍ روزہ ڈیڈ لائن حتمی نہیں کیونکہ سفارتی عمل میں کوئی مستقل مہلت نہیں ہوتی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر رضامند ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز ایران سمیت تمام ممالک کے لیے کھول دی جائے گی اور امریکی آپریشن ایپک فیوری بھی ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو اس پر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ بڑے حملے کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران -امریکہ امن معاہدہ کی قوی اُمید
ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست امن مذاکرات یا مذاکراتی تیاریوں کے لیے اسلام آباد جانے کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔