برطانوی صحافی اور ٹی وی میزبان پیئرس مورگن نے شہزادی ڈائنا کے بھائی چارلس اسپینسر اور ان کے پبلشر کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تنازع ارل اسپینسر کی نئی یادداشتوں پر مبنی کتاب Swan Song: Diana, My Sister کی اشاعت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 5:00 PM IST | London
برطانوی صحافی اور ٹی وی میزبان پیئرس مورگن نے شہزادی ڈائنا کے بھائی چارلس اسپینسر اور ان کے پبلشر کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تنازع ارل اسپینسر کی نئی یادداشتوں پر مبنی کتاب Swan Song: Diana, My Sister کی اشاعت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
برطانوی صحافی اور ٹی وی میزبان پیئرس مورگن نے شہزادی ڈائنا کے بھائی چارلس اسپینسر اور ان کے پبلشر کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تنازع ارل اسپینسر کی نئی یادداشتوں پر مبنی کتاب Swan Song: Diana, My Sister کی اشاعت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ کتاب ۲۲؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو مارکیٹ میں آئی ہے اور اس میں شہزادی ڈائنا کی زندگی، شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات اور ۱۹۹۷ء میں ان کی موت کے بعد پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اسپینسر نے اپنے ذاتی تجربات بیان کیے ہیں۔
کتاب میں ارل اسپینسر نے لکھا ہے کہ شہزادی ڈائنا کی آخری رسومات کے موقع پر انہوں نے اخبارات کے مدیران کی شرکت پر اعتراض کیا تھا۔ ان کے مطابق ڈائنا کے ساتھ میڈیا اور پاپارازی کے برتاؤ نے خاندان کو شدید تکلیف پہنچائی تھی، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ اخبارات کے مدیران جنازے میں شریک نہ ہوں۔اسپینسر کے مطابق انہوں نے مختلف ٹیبلوئڈ اخبارات کے مدیران سے فون پر بات کی اور انہیں تقریب میں شرکت نہ کرنے کی درخواست کی۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے اس وقت کے ڈیلی مرر کے مدیر پیئرس مورگن سے بات کی تو مورگن نے ناراضگی کا اظہار کیا اور فون بند کردیا۔ اسپینسر نے اپنی کتاب میں مورگن کے ردعمل کو انتہائی منفی انداز میں بیان کیا ہے۔ پیئرس مورگن نے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کتاب میں ان کے بارے میں ایسی بات لکھی گئی ہے جسے وہ غلط اور قابلِ تردید سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پروگرام Piers Morgan Uncensored میں کہا کہ اسپینسر کی جانب سے ان کا ۱۹۹۳ء میں ڈائنا کی جم کی تصاویر کی اشاعت سے تعلق جوڑنا بھی حقائق کے خلاف ہے۔ مورگن کے مطابق ڈائنا کی جم میں ورزش کرتے ہوئے تصاویر نومبر۱۹۹۳ءمیں سنڈے مرر میں شائع ہوئی تھیں، جبکہ وہ اکتوبر ۱۹۹۵ء میں ڈیلی مررسے وابستہ ہوئے۔ اسی زمانی فرق کو بنیاد بناتے ہوئے مورگن کا کہنا ہے کہ مذکورہ تصاویر کی اشاعت میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے:مغربی بنگال کے ضمنی انتخابات کیلئے بی جے پی ہر حربہ استعمال کرنے پرآمادہ
Swan Song: Diana, My Sister میں پیئرس مورگن سے متعلق تنازع کے علاوہ ارل اسپینسر نے اپنے سابق بہنوئی، موجودہ برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم کے ساتھ اپنی ایک مبینہ گفتگو کا بھی ذکر کیا ہے۔اسپینسر کے مطابق ڈائنا کی موت کے بعد ان کے بیٹوں، شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری، کو والدہ کی آخری رسومات میں تابوت کے پیچھے چلنے کے معاملے پر ان کی اور اس وقت کے پرنس چارلس کے درمیان شدید بحث ہوئی تھی۔ اسپینسر کا دعویٰ ہے کہ اس گفتگو کے دوران چارلس نے ڈائنا کے حوالے سے کہا تھا کہ دنیا انہیں جلد بھول جائے گی۔ یہ بیان ارل اسپینسر کی کتاب اور ان کے اپنے بیان پر مبنی ہے۔ بکنگھم پیلس نے ان مخصوص دعوؤں پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم محل کی جانب سے کہا گیا کہ قریبی رشتہ دار کا غم وقت گزرنے کے باوجود یادداشت اور واقعات کے بارے میں تاثر کو متاثر کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ: بچوں کے قتل پر اسرائیلی ماڈل کے بیان پر فرانسسکا البانیز کا ردعمل
ڈائنا کی آخری رسومات ۱۹۹۷ء میں دنیا بھر میں براہ راست نشر ہونے والے بڑے شاہی واقعات میں شامل تھیں۔ ان کے بیٹے شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری اس جلوس میں اپنی والدہ کے تابوت کے پیچھے چلے تھے۔ بعد میں دونوں بھائیوں نے ۲۰۱۷ء کی دستاویزی فلم Diana, 7 Days میں اس فیصلے کو خاندان کا مشترکہ فیصلہ قرار دیا تھا۔