ٹرین خدمات ۲۵؍ منٹ متاثررہیں۔ مسافربے حال۔ مسافروں کی تنظیم نے میگابلاک کے دوران کئے گئے کاموں پر سوالیہ نشان لگایا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پٹری سے اترجانے والے ڈبے کے پاس پولیس اہلکار اور دیگر افرادنظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این
پیر کی صبح ڈومبیولی اسٹیشن کے قریب ایک خالی لوکل ٹرین کا ڈبہ پٹری سے اتر گیا۔ ہفتے کے پہلے کاروباری دن اور صبح کے اوقات میں پیش آنے والے اس حادثے نے ٹرین خدمات کو بری طرح متاثر کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں ملازمت پیشہ افراد اور طلبہ گھنٹوں پریشان رہے۔خوش قسمتی سے ٹرین خالی تھی اس لئے کوئی جانی نقصان یا کوئی زخمی نہیں ہوا۔کوپر سے کلیان کے درمیان معطل ہونے والی لوکل ٹرین سروس صبح ۱۰ بجکر ۴۵ ؍منٹ پر بحال ہو گئی ۔
ریلوے ذرائع کے مطابق یہ واقعہ صبح ۸ ؍ بجکر ۹ ؍ منٹ پر اس وقت پیش آیا جب کلوا کارشیڈ سے کلیان کی جانب جانے والی ایک خالی ٹرین ڈومبیولی اسٹیشن کے قریب سے گزر رہی تھی۔ اسٹیشن ماسٹر شیو چندر اور گارڈ لوکیش مدلیار نے تصدیق کی کہ ٹرین کے آخری حصے (گارڈ کیبن کی جانب) کا ایک ڈبہ پہیہ اچانک پٹری سے اتر گیا۔ چونکہ ٹرین خالی تھی اس لئے کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا۔ تاہم ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا۔ حادثے کے فوراً بعد ممبئی کی جانب جانے والی سلو لائن پر سروس روک دی گئی۔ ڈاؤن سلو لائن متاثر ہونے کے باعث ریلوے انتظامیہ نے ٹرینوں کو دیوا اور کلیان کے درمیان فاسٹ لائن پرمنتقل کر دیا جس کی وجہ سے ٹرینیں ۲۰ ؍ سے ۳۰؍ منٹ کی تاخیر سے چلنے لگیں۔
پیر کی صبح ہونے کی وجہ سے اسٹیشنوں پر مسافروں کی زبردست بھیڑ ہوگئی۔ صحیح معلومات نہ ملنے کے سبب ڈومبیولی، کلیان، امبرناتھ، بدلاپور، آسن گاؤں، ٹٹوالا اور کرجت کے مسافروں میں سخت غم و غصہ دیکھا گیا۔ سیکڑوں مسافروں نے مجبوری میں ٹرینوں سے اتر کر پٹریوں پر پیدل چلنا شروع کر دیا تاکہ قریبی اسٹیشنوں تک پہنچ سکیں۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس انسپکٹر بابا صاحب تھورات اور ریلوے کی تکنیکی ٹیمیں بھاری مشینری کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ ریلوے انتظامیہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری ماہر ٹیمیں پٹری کو بحال کرنے کیلئے جنگی پیمانے پر کام کر رہی ہیں۔ مسافروں سے اپیل ہے کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھنے میں تعاون دیں۔
ڈومبیولی کےپلیٹ فارم نمبر ایک کے اچانک بند ہونے اور ٹرینوں کو پلیٹ فارم نمبر چار پر منتقل کئے جانے سے اسٹیشن پر افراتفری مچ گئی۔ پلیٹ فارم بدلنے کی تگ و دو میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دریں اثناء ڈومبیولی ریلوے اسٹیشن کی حدود میں پٹریوں کی دیکھ ریکھ اور مرمت کیلئے کئے گئے میگا بلاک کے کام کے حوالے سے مسافروں کی تنظیموں نے سوالات اٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔ مسافروں کی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جانی چاہئے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ حادثے کی جگہ پر پٹریوں کے درمیان سیمنٹ کے سلیپرز میں کنکریوں کی مقدار بھی کم تھی اور حادثے کے دوران سلیپرز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ممبئی ریلوے پیسنجر اسوسی ایشن کے نائب صدر سدھیش دیسائی نے کہا کہ مسافروں کی حفاظت کسی بھی صورت میں خطرے میں نہیں پڑنی چاہئے۔ میگا بلاک کا مقصد حفاظت کو بڑھانا ہے، نہ کہ نئی مشکلات پیداکرنا۔