ہندوستانی فلم انڈسٹری کے سو سال انگنت لوگوں کے مرہون منت ہیں اور انہی فنکاروں میں ایک نام اے کے ہنگل کاہے۔انہوں نے۲۰۰؍سےزائد فلموں میں اداکاری کے جوہردکھائے۔۴؍عشروں تک آن کیمرہ رہے۔
ایک عمدہ اداکار اے کے ہنگل۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی فلم انڈسٹری کے سو سال انگنت لوگوں کے مرہون منت ہیں اور انہی فنکاروںمیں ایک نام اے کے ہنگل کاہے۔ انہوں نے۲۰۰؍سےزائد فلموں میں اداکاری کے جوہردکھائے۔۴؍عشروں تک آن کیمرہ رہے۔ ہنگل نے سیالکوٹ، صوبہ پنجاب، پاکستان میں آنکھ کھولی اور بچن کے دن پشاور میں گزارے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے درزی تھے لیکن اداکاری کا شوق لیے تھیٹر تک چلے آئے۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے دو سال بعد یعنی ۱۹۴۹ءمیںوہ ممبئی آبسے۔یہاں آکر بھی اداکاری کا جذبہ ماند نہیں پڑنے دیا اور انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس دور میں بلراج سا ہنی، اتپل دت ، کیفی اعظمی اور دیگر بہت ساری نامور شخصیات بھی اسی ایسوسی ایشن سے وابستہ تھیں۔
ہنگل نے۶۷۔۱۹۶۶ءمیں ہندی فلموں میں قدم رکھا۔ ان کی ابتدائی فلموں میں ’تیسری قسم‘ اور ’شاگرد‘شامل تھیں۔ اس وقت ان کی عمر ۵۰؍برس تھی۔ ظاہرہےکہ اس عمر میں ان کے پاس لگے بندھے کرداروں کے سوا کچھ نہیں تھالیکن انہوں نے ہیرو، ہیروئنزکےانکل، باپ اور دادا کے کرداروں کو بڑی ذمہ داری کے ساتھ نبھایا۔۷۰ءکی دہائی میں بننے والی اکثر فلموںمیں باپ دادا اور انکل کے کردار انہی کو ملاکرتے تھے۔
فلم ’ شعلے‘ ان کی بطور کریکٹر ایکٹر یادگار فلم ہے ۔ اس میں انہوں نے رحیم چاچاکاکردار ادا کیا تھا جبکہ ان کی دیگر مشہور فلموں میں نمک حرام، باورچی، چھپارستم، ابھیمان، آئینہ ، اوتار، ارجن، آندھی، کورا کاغذ، چت چور، انامیکا ، پریچے اور گڈی شامل ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر فلم شوقین میں کی گئی ان کی اداکاری کو کبھی نہیں بھلایا سکتا۔
اے کے ہنگل نے زیادہ تر فلمیں ہندوستان کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ کے ساتھ کیں۔ اتفاق ہے کہ زندگی بھرساتھ کام کرنے والے راجیش کھنہ نے ۱۸؍جولائی کو ان کا ساتھ چھوڑا تو اے کے ہنگل بھی اگلے ہی مہینے یہ دنیا چھوڑ کررخصت ہوگئے۔ دونوں فنکاروں نےآپ کی قسم ، امردیپ، پھر وہی رات، قدرت، نوکری، تھوڑی سی بے وفائی اور سوتیلا بھائی جیسی متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ ویسے تو خرابی صحت کے سبب وہ کئی سالوں سے اسپتالوں کے چکر لگا رہے تھے مگر ۱۳؍ اگست ۲۰۱۲ء کو وہ باتھ روم میں پھسل گئے جس سے ان کی ایک ٹانگ میں فریکچر ہوگیا۔ ۱۶؍اگست کو انہیں اداکارہ آشا پاریکھ کےقائم کردہ اسپتال ’آشاپاریکھ ہاسپٹل‘میں داخل کرایا گیا۔ ڈاکٹروں ان کی ٹانگ کا آپریشن کرنا چاہتے تھے مگر چونکہ انہیں ہائی بلڈ پریشرکے ساتھ ساتھ گردے کا مرض بھی لاحق تھا اور عمر بھی کافی ہوچکی تھی چنانچہ ڈاکٹروں کو اپنا ارادہ تبدیل کرنا پڑا۔ اسی دوران ان کی طبیعت مزید خراب ہوگئی تو انہیں وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا لیکن طبیعت میں پھر بھی کوئی سدھار نہیں آیا۔ ڈاکٹرز کی مایوسی بڑھی تو وینٹی لیٹر بھی ہٹا دیا گیا۔ان کی موت کے فرشتے سے پہلی اور آخری ملاقات ۲۶؍ اگست ۲۰۱۲ءکی صبح۹؍بجے اسپتال میں ہی ہوئی۔ موت کے فرشتے کو بھی اے کے ہنگل پسند آگئے تھے لہٰذا وہ کبھی ساتھ نہ چھوڑنے کے وعدے پر انہیں اپنے ساتھ ہی ملک عدم لے گیا۔