Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیوبا امریکہ سے بات چیت کیلئے تیار مگر کوئی پیشگی شرط قبول نہیں: صدر دیاز کانیل

Updated: August 26, 2026, 7:07 PM IST | Havana

کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے اور فی الحال کوئی طے شدہ ایجنڈا موجود نہیں، تاہم ہوانا واشنگٹن کے ساتھ بغیر کسی پیشگی شرط کے بات چیت کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر کیوبا کو معاشی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے ملک کے معاشی بحران کے باوجود اس کے فوری تباہی کے قریب پہنچنے کے دعوے کو مسترد کردیا۔

Cuban President Miguel Diaz-Canel. Photo: X
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل۔ تصویر: ایکس

برازیل کے اخبار فولہا ڈی ساؤ پاؤلو نے رپورٹ کیا ہے کہ کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کا عمل ’’تعطل‘‘ کا شکار ہے اور مذاکرات کیلئے کوئی طے شدہ ایجنڈا موجود نہیں۔ دیاز کانیل نے کہا، ’’بات چیت کی خواہش موجود ہے اور ہماری حکومت کے بعض عہدیداروں نے امریکی حکومت سے رابطہ بھی کیا ہے، لیکن ابھی تک پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔ کوئی ایجنڈا موجود نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کیوبا واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھولنے کیلئے تیار ہے، تاہم دباؤ اور جبر کے ماحول میں مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’جبر کے تحت کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ ہمیں بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: موہن بھاگوت کے نیویارک پروگرام کی مخالفت، میئر ظہران ممدانی بھی میدان میں آگئے

دیاز کانیل نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ کیوبا کو معاشی طور پر دبانے اور ایسے سماجی دھماکے کو جنم دینے کی کوشش کر رہی ہے جو کیوبا کے انقلاب کے خاتمے کا باعث بنے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ کیوبا کیلئے دستیاب ’’تمام راستے بند‘‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیوبا کے صدر نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ ملک معاشی تباہی کے قریب پہنچ چکا ہے، حالانکہ کیوبا کو ایندھن، بجلی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہیں، لیکن یہ صورتحال کیوبا کے عوام کی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں اور تاریخی استقامت سے بھی عبارت ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: عمران خان کو منظر سے مٹانے کی کوشش: مائیکل ایتھرٹن کی پاکستان حکومت پر تنقید

معاشی اور توانائی کا بحران

دیاز کانیل نے حکومتی بیوروکریسی اور اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے ملک کے معاشی بحران کی بنیادی وجہ امریکہ کی جانب سے عائد ’’اقتصادی ناکہ بندی‘‘ کو قرار دیا۔ فولہا ڈی ساؤ پاؤلو کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دیاز کانیل کے صدر بننے کے بعد سے کیوبا کی معیشت میں ۱۵؍ فیصد سکڑاؤ آیا ہے۔ ملک کو طویل دورانیے کی بجلی کی بندش اور ایندھن کی قلت کا بھی سامنا ہے، جس سے معاشی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔ دیاز کانیل نے جون میں کیوبا کی پارلیمنٹ سے منظور کیے گئے ۱۷۶؍ معاشی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ملک کے سوشلسٹ معاشی ماڈل کو مضبوط بنانا ہے۔ ان اقدامات کے تحت نجی کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے کردار کو وسعت دی گئی ہے، تاہم دیاز کانیل نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ اقدامات کیوبا کو سرمایہ دارانہ نظام کی طرف لے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کا دنیا بھر میں امیگرنٹ ویزا انٹرویوز عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ

واضح ہو کہ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہوانا اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے کیوبا پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ دیاز کانیل نے کہا کہ ہوانا اپنی خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا، تاہم وہ واشنگٹن کے ساتھ بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کیلئے بدستور تیار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK