پہل فاؤنڈیشن ’کا نعرہ ہے: ’خواتین مجبور نہیں، مضبوط بنو‘‘، یہ ادارہ خواتین کو’ بزنس ویمن ‘کے طورپر تیار کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 4:17 PM IST | Owais Siddiqui | Mira Road
پہل فاؤنڈیشن ’کا نعرہ ہے: ’خواتین مجبور نہیں، مضبوط بنو‘‘، یہ ادارہ خواتین کو’ بزنس ویمن ‘کے طورپر تیار کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے۔
پہل فاؤنڈیشن میرا روڈ میں گزشتہ ۱۰ ؍ سال سےخواتین کو بااختیار بنانے کی غرض سے کام کر رہی ہے۔ اب تک سیکڑوںخواتین نے پہل کے تعاون سے اپنے چھوٹے کاروبار کو وسعت دی اور کئی خواتین مالی طور پر بااختیار بھی بنی ہیں۔ پہل کے منتظمین کےمطابق اس کی ابتداء سال ۲۰۱۵-۱۶ء میں ہوئی تھی۔ پہل دراصل چندمقامی خواتین کی سوچ اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ابتداء میںمالی طور پر کمزور، بیوہ یا طلاق شدہ خواتین کو راشن بانٹنا یا بچوں کے اسکول کی فیس دینا جیسے کام کئے گئے لیکن بعد میں اس کے کام کرنے کی سمت میں تبدیلی آئی۔
پہل فانڈیشن کی منتظم ایڈووکیٹ ثناء دیشمکھ نے اس ضمن میںانقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے سوچا کہ جن خواتین کومالی امداد دی جا رہی ہے، انہیں اس قابل بنانے کی طرف پیش قدمی کی جائے کہ وہ خود بااختیار ہو جائیں اور کسی کے تعاو ن کی محتاج نہ رہیں۔‘ ‘ اس فاؤنڈیشن کی جانب سے خواتین کیلئے ہر سال رمضان میں بڑے پیمانے پر ’’کاروباری میلے‘‘ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کیلئے خواتین کو کسی فیس یا چارج کے بغیر اسٹال دیئےجاتے ہیں تاکہ وہ اپنے پروڈکٹس اور سروسیز کو عوام کے درمیان لا سکیں۔ اس سے ان تمام خواتین کو بڑے پیمانے پر فائدہ ہوتاہے جن کے پاس صلاحیت توہے مگر پلیٹ فارم نہیں مل پاتا، اعتماد کی کمی کے سبب وہ اپنے کاروبار کو آگے تک نہیں لے جا پاتیں یا ان کے گھر سے انہیں تعاون نہیں مل پاتا۔ بقول ثناء دیشمکھ: ’’پہل فاؤنڈیشن کے ذریعے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ جو خواتین معاشی طور پر خو د کفیل ہونا چاہتی ہیں انہیں ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے، بڑے پیمانے پر افن کی مصنوعات کیلئے گاہک ملیں، لوگ ان کے کاروبارسے یا ان کے پروڈکٹس سے آشنا ہوں اور ان کے کاروبار کی تشہیر ہو۔ ان تمام چیزوں کی وجہ سے خواتین میں اعتماد پیدا ہوتا ہےاورانہیں کاروبار کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ ‘‘
پہل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام خواتین کیلئےکئی مفت کورسیز بھی چلائے جاتے ہیں، جن میں بیوٹیشن اور مہندی کے کورسیز شامل ہیں۔ اس کے ذریعے گھریلو خواتین میں آج کے دور کی صلاحیتیں پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ آنے والے وقت میں وہ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر بااختیار بن سکیں اور خدا نخواستہ بُرا وقت آن پڑے تب بھی وہ معاشی تنگی سے دوچار نہ ہوں۔ پہل فاؤنڈیشن نے نوجوانوں کیلئے ڈجیٹل مارکٹنگ اور بنیادی کمپیوٹر سکھانےکے مفت کورسیز جاری کر رکھے ہیں۔ کمپیوٹر کلاس کے ذریعے اب تک ۷۰۰؍ طلبہ استفادہ کرچکے ہیں جبکہ ڈجیٹل مارکٹنگ کورس میں فی الوقت تقریبا ۱۰۰ ؍ طلبہ ہیں جن میں سے کئی طلبہ کو انٹرن شپ بھی دی جا چکی ہے۔
پہل فاؤنڈیشن کی ایک خاص یہ بھی ہے کہ اس کے دروازے بلاتفریق مذہب و ملت سب کیلئے کھلے ہیں۔ ایک خاتون نرملادھوڑ منی نے انقلاب کو بتایا کہ وہ گزشتہ ۸ ؍ سال سے فروخت کر رہی ہیں۔ پہلے وہ گھر سے ہی فروخت کیاکرتی تھیں ، کبھی آرڈر ملتے تھے کبھی نہیں، اس کی ایک بڑی وجہ ان کے کاروبار کا کو ئی باقاعدہ سیٹ اپ نہیں تھا۔ جب وہ پہل فاؤنڈیشن کے کاروباری میلے سے جُڑیں تو ان کے کاروبار کا باقاعدہ اور وسیع تر تعارف ہوا، کئی نئے گاہک ملے اور آرڈر بھی آنے لگے۔ نرملا کے مطابق وہ اب گھرکے بجائے ایک اسٹال کے ذریعے اپنے کاروبار کو باقاعدہ آگے بڑھا رہی ہیں اور انہیں کافی آرڈ مل رہے ہیں ۔
ایک اور خاتون شبانہ ،جوایک مارکٹنگ کمپنی چلاتی ہیں ، نے کہا کہ وہ پہل فاؤنڈیشن کی پہل کی وجہ سےکامیاب ہو سکی ہیں۔ وہ گزشتہ پانچ سال سے یہ کمپنی چلا رہی ہیںاوراس کے ذریعے دیگر خواتین کو گھر بیٹھے پیسے کمانا سکھاتی ہیں۔ پہل فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں سے ان خواتین کو ہمت ملتی ہے جنہیں ان کے گھروں سے کوئی خاص تعاون نہیں ملتا۔ اُن کے بقول کاروباری میلے کے ذریعے ان خواتین کو بھی فائدہ ہوتا ہے جو گھر سے باہر نکل کر کاروبار کرنےسے ہچکچاتی ہیں، کئی پردہ دار مسلم خواتین بھی کاروبار ی میلے سے فائدہ اُٹھا رہی ہیں۔ اس کی کئی مثالیں ہیں۔
فاؤنڈیشن نے خواتین کیلئے قانونی رہنمائی کا نظم بھی کیا ہے۔ قانونی طور پر خواتین کے حقوق کیا ہیں یا ازدواجی زندگی کا کوئی تنازع ہو اُس کے حل کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ قانونی رہنمائی کے سبب کئی خواتین کی ازدواجی زندگی کے معاملات سلجھائے گئےہیں۔ نوجوانوں کیلئے روزگار سے متعلق رہنمائی بھی فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔