• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہر شہر میں اس انداز کا منچ ہونا چاہئے جیسا میرا روڈ میں قائم کیا گیا، یہ ہے ’’سدبھاؤنا منچ‘‘

Updated: October 22, 2026, 3:41 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mumbai

ملک کے حالات کافی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ فرقہ پرستی بام عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایسے حالات میں کچھ لوگ سماج کو فرقہ پرستی کے عذاب سے نکالنے کیلئے کوشاں ہیں۔

A scene from an interfaith dialogue organized by Sadbhavna Manch at the Islamic Center in Nayanagar. Photo: INN
نیانگر کے اسلامک سینٹر میں سدبھاؤنا منچ کی جانب سے منعقدہ بین المذاہب مکالمہ کا منظر۔ تصویر: آئی این این

ملک کے حالات کافی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ فرقہ پرستی بام عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایسے حالات میں کچھ لوگ سماج کو فرقہ پرستی کے عذاب سے نکالنے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہی میں میراروڈ کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’’سد بھاؤنا منچ‘‘  ہے جس کا قیام ۲۰۲۰ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارہ کی صدر  انجم شیخ ہیں جن کی قیادت میں پچھلے چھ سال میں اس منچ نے میرا بھائندر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کم کرنے اور بھائی چارہ بڑھانے کیلئے قابل ذکر کوششیں کی ہیں۔ اس منچ سے تمام مذاہب ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، جین اور بدھ مت کے پیروکار وابستہ ہیں۔ منچ کے پروگراموں میں میونسپل کارپوریٹرز، سابق کارپوریٹر، انسانی حقوق کے رضاکار، ماحولیاتی کارکن، سماجی کارکنان، میڈیا سے وابستہ افراد جیسے ہندی روزنامہ کے مقامی رپورٹر امیت تیواری، مراٹھی اخبار لوک ستا کے میور ٹھاکر، لوک مت کے دھیرج پربھو سمیت مقامی ہندی، مراٹھی اور انگریزی اخبارات کے نمائندے، مقامی یوٹیوب چینلز کے نمائندے شریک رہے ہیں۔ علاوہ ازیں دینی و ملی تنظیموں جماعت اسلامی میراروڈ، جمعیۃ العلماء میراروڈ، آل انڈیا ملی کونسل، پہل فاؤنڈیشن، حق ہے اور چاندنی فاؤنڈیشن کے ذمہ داران نیز علمائے کرام، دلت تنظیموں بامسیف، بھارت مکتی مورچہ، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ٹیچرس ایسوسی ایشن، بابا صاحب امبیڈکر سیوا سنستھا اور برادرانِ وطن کی دیگر تنظیموں مثلاً ہرے راما ہرے کرشنا مشن، سکل مراٹھا پرتشتھان،  خاندیش وچار منچ، سکھ فیڈریشن، سُر سنگم فاؤنڈیشن، مراٹھی ایکیکرن سمیتی، بھارت جوڑو ابھیان،  جنوادی لیکھک سنگھ، سیٹیزن فار دی کانسٹی ٹیوشن، سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم، چِنّپا فاؤنڈیشن کے ذمہ داران اور کانگریس، این سی پی شرد، شیوسینا شندے، شیوسینا ادھو اور این این ایس کے مقامی ذمہ دار شریک ہوئے۔

چھ سال میں مختلف پروگرام منعقد کیے گئے جن میں قومی شخصیات ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، چھترپتی شیواجی مہاراج کے یوم پیدائش، یوم آزادی، یوم جمہوریہ اور یوم دستور (۲۶ نومبر) پر فکری نشستیں ہوئیں جن میں ایک ذمہ دار شہری کی ذمہ داری اور جمہوریت کے تحفظ پراظہار خیال کیا گیا۔ ان پروگراموں میں ملکی تاریخ میں فرقہ پرستوں کے ذریعے چھیڑ چھاڑ اور اسے مسلم مخالف بنا کر پیش کرنے کی کوشش پر مسلم سلاطین اور بادشاہوں کو لے کر پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی سعی کی گئی۔ بلدیاتی انتخابات کے دوران شہریوں کو فرقہ پرستی سے بچانے کیلئے ’’عوامی منشور‘‘ پر خصوصی مذاکرہ ہوا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کرکے شہری مسائل کو اجاگر کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ انتخاب بنیادی شہری مسائل پر لڑا جائے۔

یہ بھی پڑھئے:دارالقضاء میں۹۹۶؍ اور کاؤنسلنگ سینٹر پر ۲۸۰۰؍ سے زائد کیسز کا تصفیہ

انسانی زندگی سے وابستہ مسائل پر بین المذاہب مکالمہ بھی منعقد کیا جاچکا ہے، جس میں سب سے دلچسپ مکالمہ میراروڈ کے مشہور لیو ان ریلیشن شپ جوڑے کے تنازع اور لڑکی کے قتل کے پس منظر میں ’’لیو اِن ریلیشن شپ اور ہماری مذہبی تعلیمات‘‘ کے عنوان پر ہوا۔ اس میں اسلام، سناتن دھرم، عیسائی، بدھ مت اور جین مت کے اسکالرز نے شرکت کرکے ہندوستانی مذاہب میں شادی اور خاندانی نظام کے استحکام پر زور دیا۔ 

جنوری ۲۰۲۴ ء میں رام مندر تعمیر کے موقع پر میراروڈ میں فرقہ پرستوں کی شرارتوں کے خلاف منچ نے برادران وطن کے ساتھ مل کر امن و امان قائم رکھنے کیلئے ویڈیو اور سوشل میڈیا پیغامات کے توسط سے شہریوں سے رابطہ قائم کیا اور امن و امان کی بحالی پر زور دیا جس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ بقر عید پر بکرا لانے پر ہونے والے تنازعے پر قابو پانے اور مسلمانوں سے تحمل برتنے کی اپیل کی گئی۔

سدھ بھاؤنا منچ میراروڈ کی صدر انجم شیخ نے انقلاب سے گفتگو میں کہا کہ ’’ملک میں فرقہ پرستی، مذہبی امتیاز اور آپسی نفرت کا ماحول کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، ایسے میں مسلمانوں کو نفرت کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے۔ برادرانِ وطن کے منفی خیالات اور مسلمانوں کیلئے پائی جانے والی نفرت کے تدارک کیلئے سرگرم ہونا ضروری ہے۔ جب تک سماج میں تبدیلی نہیں آتی، مثبت سیاسی تبدیلی کی امید بیکار ہے۔ اسلئے مسلمانوں کو چاہیے کہ روزمرہ کی مصروفیات سے وقت نکال کر کچھ عملی تدابیر کی بھی فکر کریں۔ شہر شہر اور محلہ محلہ سدھ بھاؤنا منچ قائم کریں، برادرانِ وطن کے تعمیری کاموں میں شریک ہوں اور مشترکہ شہری و انتظامی مسائل میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK