Inquilab Logo Happiest Places to Work

خود کار دروازوں والی ’نان اے سی‘ لوکل کرلا پہنچ گئی

Updated: April 14, 2026, 2:01 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ممبراحادثہ کے بعد اس طرح کی لوکل ٹرین کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ٹرائل رَن کے بعد اسے متعارف کرایا جائے گا۔

A Train Parked At The Kurla Car Shed, Whose Doors Will Close Automatically And Passengers Will Be Able To Move From One Coach To Another. Photos:INN
کرلا کارشیڈ میں کھڑی ٹرین جس کے دروازے خودکارطریقے سے بند ہوں گے اور مسافر ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے آجاسکیں گے۔تصاویر:آئی این این
  لوکل ٹرینوں کے دروازوں پر لٹک کر سفر کرنے سے ہونے والے حادثات کی روک تھام کے لئے بغیر ایئر کنڈیشنڈ والی لوکل ٹرینوں میں بھی خودکار دروازے لگانے کی تجویز پیش کی گئی تھی جسے منظور کرلیا گیا اور اسے مسافروں کیلئے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا  گیا ہے ۔ یہ لوکل ٹرین پیر کو کرلا کار شیڈ میں لائی گئی ہے۔  یہ اپنی نوعیت کی پہلی ٹرین ہے جس میں اے سی نہ ہونے کے باوجود خود کار دروازے نصب کئے گئے ہیں۔
خودکاردروازوں والی  لوکل ٹرین کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں’ویسٹی بلو‘ ڈیزان رکھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ طویل مسافتی ٹرینوں کی طرح اس ٹرین میں مسافر اندر سے ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے میں آجا سکتے ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس ٹرین میں خواتین کے ڈبے دونوں کناروں پر ہوں گے۔ عام طور پر لوکل ٹرینوں میں کھڑکیاں اوپر کی طرف کھسکانے پر کھلتی ہیں لیکن اس کی کھڑکیوں پر بھی جالیاں لگی ہوئی ہیں اور ان کھڑکیوں کو کناروں پر کھسکا کر کھولا جاسکے گا۔
یہ ۱۲؍ ڈبوں کی ٹرین چنئی میں واقع ’اِنٹیگرل کوچ فیکٹری(آئی سی ایف) ‘ میں بنائی گئی ہے اور وہاں ممبئی لائی گئی ہے۔ البتہ عوام کی خدمات میں پیش کرنے سے قبل اس کا ٹرائل رن ہو گا اور  جانچ کامیاب ہونے کے بعد ہی اسے ممبئی کی لوکل ٹرینوں کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس ٹرائل رن میں ٹرین کو ۱۱۰؍ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا جائے گا تاکہ اس کےمسافروں کیلئے محفوظ ہونے کا یقین کیا جاسکے۔ ٹرائل کے دوران ٹرین میں مسافروں کے وزن کے برابر وزن رکھاجائے گا تاکہ صحیح طرح سے جانچ ہوسکے۔
ریلوے افسران کے مطابق یہ لوکل ٹرین ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی تمام ٹرینوں، چاہے وہ اے سی ہوں یا نان اےسی، میں خود کار دروازے نصب کئے جائیں گے۔ 
ان دروازوں کی وجہ سے مسافر بھیڑ بھاڑ کے اوقات میں بھی ٹرین کے دروازوں پر لٹک کر سفر نہیں کرسکیں گے جس سے چلتی ٹرینوں سے مسافروں کے گرنے کے واقعات  نہ ہونے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔
 
 
ریلوے بورڈ کے انفارمیشن اینڈ پبلسٹی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر دلیپ کمار نے گزشتہ سال اس تعلق سے بیان دیا تھا کہ ممبئی میں بھیڑ بھاڑ سے ہونے والے حادثہ کے پیش نظر وزارت ریل نے ممبئی کی تمام لوکل ٹرینوں میں خود کار دروازے لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو ڈبے ابھی بن رہے ہیں، ان میں اپنے آپ بند ہونے والے دروازے لگانے کے بعد ہی انہیں استعمال میں لایا جائے گا جبکہ جن ڈبوں کو پہلے سے استعمال کیا جارہا ہے، ان کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کرکے ان میں بھی یہ دروازے نصب کردیئے جائیں گے۔
 
 
یاد رہے کہ ۹؍ جون ۲۰۲۵ء کو ممبرا میں ہونے والے حادثہ میں ۲؍ ٹرینوں کے دروازوں پر لٹک کر سفر کرنے والے ۹؍ مسافر گر گئے تھے جن میں سے ۵؍افراد کی موت ہوگئی تھی۔ اس حادثہ کے بعد ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ٹرینوں کے دروازوں پر لٹک کر سفر کرنے والے مسافروں کے کندھوں پر لٹکے ہوئے بیگ آس پاس سے گزرنے والی ٹرینوں کے مسافروں سے ٹکرا گئے تھے جس سے یہ حادثہ پیش آیا۔ اس بنیاد پر اس طرح کے حادثات کی روک تھام کیلئے یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ بغیر اے سی والی لوکل ٹرینوں کے ڈبوں میں بھی خود کار دروازے لگائے جائیں۔ اگرچہ عوام میں اس تعلق سے تشویش تھی کہ بغیر اے سی ٹرین میںدروازے بند رہنے سے گھٹن ہوگی تاہم  اس کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK