Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلب فٹ بال کا جوش، ورلڈ کپ کا جنون: سعودی اسٹارز کی منزل اب ۲۰۲۶ء کا عالمی میدان!

Updated: April 14, 2026, 5:05 PM IST | Riyadh

سعودی پرو لیگ ( ایس پی ایل) اور ایشین چیمپئن لیگ ایلیٹ کے سنسنی خیز مقابلوں کے درمیان اب تمام نظریں ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ پر لگی ہوئی ہیں۔ سعودی عرب کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ ہروے رینارڈ پر امید ہیں کہ سیزن کے ان آخری ہفتوں میں مقامی کھلاڑی اپنی بہترین فارم حاصل کر لیں گے۔

Saudi Arabia Team.Photo:INN
سعودی عرب کی ٹیم۔ تصویر:آئی این این

سعودی پرو لیگ ( ایس پی ایل) اور ایشین چیمپئن لیگ ایلیٹ کے سنسنی خیز مقابلوں کے درمیان اب تمام نظریں ۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ پر لگی ہوئی ہیں۔ سعودی عرب کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ ہروے رینارڈ پر امید ہیں کہ سیزن کے ان آخری ہفتوں میں مقامی کھلاڑی اپنی بہترین فارم حاصل کر لیں گے تاکہ عالمی اسٹیج پر ملک کا نام روشن کر سکیں۔
سعودی عرب کو ورلڈ کپ میں یوراگوئے، اسپین اور کیپ وردے جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا ہے۔ ۵۷؍ سالہ فرانسیسی کوچ رینارڈ، جو اپنے دوسرے دورِ کوچنگ میں ہیں، ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر کچھ فکر مند نظر آتے ہیں، خاص طور پر گزشتہ ماہ مصر کے ہاتھوں دوستانہ میچ میں ۰۔۴؍گول  کی عبرتناک شکست نے مداحوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
رینارڈ کا دیرینہ گلہ رہا ہے کہ لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بہتات کی وجہ سے مقامی کھلاڑیوں کو میدان میں خاطر خواہ وقت نہیں مل پاتا۔ تاہم، اب وقت کم ہے اور انہیں دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ ہی دنیا کو حیران کرنا ہوگا۔۳۴؍  سالہ سالم الدوسری ایک بار پھر سعودی عرب کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ الہلال کے کپتان، جو دو بار ایشیا کے بہترین کھلاڑی رہ چکے ہیں، اپنا آخری ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ رینارڈ کی کوشش ہے کہ وہ الدوسری کو زیادہ تھکاوٹ سے بچائیں تاکہ وہ جون میں یوراگوئے کے خلاف میچ میں تازہ دم ہو کر میدان میں اتریں۔ الدوسری نے حال ہی میں الہلال کی جانب سے کھیلتے ہوئے فارم میں واپسی کے اشارے دیے ہیں۔
 القادسیہ کی جانب سے برینڈن راجرز کی نگرانی میں کھیلنے والے ۲۲؍ سالہ مصعب اپنی وژن اور تکنیک کی وجہ سے مڈ فیلڈ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عبداللہ الحمدان اور فراس البریکان کے درمیان نمبر۹؍ کی پوزیشن کے لیے مقابلہ جاری ہے۔ الحمدان نے حال ہی میں صربیا کے خلاف گول کر کے اپنی جگہ مضبوط کی ہے، جبکہ البریکان الاہلی کی جانب سے محدود مواقع کے باوجود گول اسکور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سن رائزرس حیدرآباد نے راجستھان رائلز کی جیت کا سلسلہ روکا


رینارڈ کے لیے سب سے بڑا دردِ سر گول کیپنگ کی پوزیشن ہے۔ نواف العقیدی اور محمد الربیعی جیسے اہم گول کیپرز کو اپنے کلبوں میں غیر ملکی گول کیپرز (جیسے بینٹو) کی وجہ سے بینچ پر بیٹھنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رینارڈ نے حال ہی میں تجربہ کار محمد الاویس کو دوبارہ طلب کیا ہے، جو سیکنڈ ڈویژن میں کھیلنے کے باوجود اپنے وسیع تجربے کی بنا پر ورلڈ کپ میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:حیدرآباد: بی ایم ڈبلیو میں ’’جیمز بونڈ‘‘ طرز نمبر پلیٹ، ڈاکٹر گرفتار


سیزن اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور سعودی کھلاڑیوں کے پاس خود کو ثابت کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ کیا رینارڈ کی گرین فالکنز ایک بار پھر دنیا کو چونکا پائیں گی؟ اس کا فیصلہ امریکہ کی سرزمین پر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK