ایک تہائی آبادی تل ابیب کو انسانیت کیخلاف جرائم کا مرتکب مانتی ہے، ڈیموکریٹک پارٹی میں بھی حمایت کم ہوئی۔
EPAPER
Updated: July 08, 2026, 9:35 AM IST | Agency | New York
ایک تہائی آبادی تل ابیب کو انسانیت کیخلاف جرائم کا مرتکب مانتی ہے، ڈیموکریٹک پارٹی میں بھی حمایت کم ہوئی۔
اسرائیل کو کئی دہائیوں تک حاصل رہنے والی امریکہ کی دونوں بڑی جماعتوں کی مضبوط حمایت میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’ اے پی‘ اور ’نیشنل اوپینین ریسرچ سینٹر‘(این او آر سی)کے تازہ سروے کے مطابق اب خاص طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں اسرائیل کی حمایت کمزور ہوئی ہےجبکہ ریپبلکن ووٹرس میں بھی اختلافات کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیصل خان کا عامر خان سے اختلاف ختم، خاندان سے معافی مانگ کر رشتے بحال کر لئے
سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں حماس کے ساتھ جاری جنگ کو تقریباً ۳؍سال ہونے والے ہیں اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کے باعث یہ معاملہ امریکی عوام کو سیاسی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کر رہا ہے۔سروے کے مطابق تقریباً ایک تہائی بالغ امریکی شہری جن میں تقریباً نصف ڈیموکریٹس ہیں، کا خیال ہے کہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے۔ صرف۲۰؍فیصد امریکی ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے نسل کشی نہیں کی جبکہ سروے میں حصہ لینے والے تقریباً نصف لوگوں نے اس بارے میں رائے قائم کرنے کیلئےمعلومات کی کمی کا حوالہ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ۳۰؍فیصد یہودی امریکیوں کا بھی ماننا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے جبکہ ۴۹؍امریکی یہودی فیصد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ایک یہودی شہری نے جو خود کو پیدائشی طور پر یہودی قرار دیتاہےنے کہا کہ نوجوانی میں اسے اسرائیل پر فخر تھا، لیکن اب نہیں ہے۔