کانگریس نےکہا کہ یوگی سرکار کی ایس آئی ٹی جانچ پر عوام کو بھروسہ نہیں ہے اسلئے ایک خود مختار ایجنسی سے سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہئے۔
اشوک گہلوت۔ تصویر:آئی این این
کانگریس نے رام مندر کے چڑھاوا میں چوری کو کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت کے ساتھ وشواس گھات (دھوکہ) قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں پردہ پوشی کرنے کے بجائے’ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ‘ کو تحلیل کر کے سنتوں اور دھرم گرؤوں کو شامل کرتے ہوئے نیا ٹرسٹ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نےمطالبہ کیا کہ پورے چندے کا حساب عام کر کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جامع جانچ کی جائے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے منگل کو پارٹی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اتر پردیش حکومت کی ایس آئی ٹی جانچ پر عوام کو بھروسہ نہیں ہے اسلئے ایک خود مختار ایجنسی سے سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ رام مندر کیلئے ملنے والے دان کا پورا حساب عام کر کے وزیر اعظم مودی اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرسٹ کی میٹنگ میں اس پورے معاملے کو صرف ’لاپروائی‘ بتایا جا رہا ہے تو پھر ایف آئی آر، ایس آئی ٹی جانچ اور گرفتاریوں کی ضرورت کیوں پڑی؟ ان کا الزام تھا کہ ٹرسٹ اور بی جے پی حکومت پورے معاملے میں شفاف جواب دینے کے بجائے پردہ پوشی کر رہے ہیں اور اصل قصورواروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مودی نے رام مندر کی تعمیر اور اس سے جڑے تمام کام کا سہرا لیا ہے تو اس تنازع پر بھی انہیں جوابدہی نبھانی چاہئے۔
اشوک گہلوت نے کہا کہ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے وقت جس ٹرسٹ کا تصور کیا گیا تھا، اس میں دھرم گرؤوں کی شرکت تھی لیکن موجودہ ٹرسٹ میں نہ تو ان کا کوئی کردار ہے، نہ ہی کسی کی جوابدہی طے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور وی ایچ پی نے یکطرفہ طور پر ٹرسٹ بنایا اور چڑھاوا چوری کی معلومات پہلے سے ہونے کے باوجود معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر شہری نے مندر میں عقیدت کے ساتھ اپنا تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو چمپت رائے ان سے ملے اور مندر کی تعمیر کیلئے پتھر نکالنے کی خاطر جنگلاتی زمین فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر ان کی حکومت نے فوری تعاون کیا تھا۔