Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک گائوں جہاں زلزلے کے خوف سے لوگ رشتہ نہیں کرنا چاہتے

Updated: April 14, 2026, 1:40 PM IST | Agency | Hingoli

ہنگولی کے پانگرا شنڈے گائوں میں ۲۰۱۷ء سے اب تک ۵۰؍ بار زلزلے کے جھٹکے محسو س کئے جا چکے ہیں۔

The Continuous Tremors Have Put The Villagers In Trouble.Photo:INN
لگاتار زلزلے کے جھٹکوں نے گائوں کے لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ تصویر:آئی این این
قدرت کا قہر انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی علاقے کیلئے مستقبل مشکلیں کھڑی کر دیتا ہے۔ اس کی مثال  ہنگولی ضلع کا ایک گاؤں ہےجسے قدرتی آفت نے گھیر لیا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے نوجوانوں کے گھر بسانے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ یہاں لڑکوں کی شادیاںمشکل ہو گئی ہیں کیونکہ اس گائوں میں کوئی بھی اپنی بیٹی کی شادی نہیں کروانا چاہتا۔ 
 
 
ہنگولی کے پانگراشنڈے گاؤں میں تقریباً ۲۰۰؍ نوجوانوں کی شادیاں نہیں ہو رہی ہیں حالانکہ ان کے اہل خانہ ان کیلئے لڑکیاں تلاش کر رہے ہیں لیکن کوئی انہیں اپنی بیٹی دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ ہے زلزلے کا خوف۔کہا جاتا ہے کہ یہ گاؤں زلزلوں کا مرکز بن گیا ہے۔ ۲۰۱۷ء سے اب تک اس گاؤں میں ۵۰؍ سے زیادہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں ۱۱؍ اپریل کو صبح کے وقت گاؤں میں ۴ء۷؍ ریکٹر ا سکیل کا زلزلہ آیا جس میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن زلزلے کے جھٹکے کی وجہ سے کئی عمارتوں کی دیواریں تڑخ گئیں۔ گاؤں میں آنے والے زلزلوں کی وجہ سے اطراف کے علاقوں کے والدین اس گاؤں میںاپنی لڑکیوں کی شادی کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔
 
 
اس کی وجہ سے گاؤں کے ۲۰۰؍ سے زیادہ نوجوانوں کی شادی نہیں ہو رہی ہے۔ یہ اپنا گائوں چھوڑ کر کہیں اور جا نہیں سکتے کیونکہ ان کی مالی حالت اتنی مضبوط نہیں ہے۔ انہیں کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔لہٰذا وہ مایوسی کا شکار ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ۱۱؍ اپریل کو آنے والا زلزلہ ۷؍ سال کا سب سے بڑا زلزلہ تھا۔ زلزلے کی وجہ سے گاؤں میں پرانے کچے مکانات بھی منہدم ہو گئے ہیں۔ دیہاتیوں نے انتظامیہ سے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے... پانگراشنڈے کے باشندوں کے پاس پہلے ہی کم زرعی زمین ہے۔ اسکے علاوہ مسلسل زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے لوگ اس گاؤں میں رشتہ داریاں بنانے سے گریزاں ہے۔ زلزلے کے بحران کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل اندھیرے میں ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت اور سماجی تنظیمیں اس سماجی مسئلے سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK