دنیا کے مشہور فٹبال کھلاڑی لیونل میسی نے حال ہی میں فلم ’’۵۲ بلیو‘‘کے لیڈ ایکٹر آشیش اور فلم کے ہدایتکار علی ال عربی سے ملاقات کی۔ اس دوران میسی نے فلم کے آفیشل پوسٹر پر دستخط کیے۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 1:03 PM IST | Mumbai
دنیا کے مشہور فٹبال کھلاڑی لیونل میسی نے حال ہی میں فلم ’’۵۲ بلیو‘‘کے لیڈ ایکٹر آشیش اور فلم کے ہدایتکار علی ال عربی سے ملاقات کی۔ اس دوران میسی نے فلم کے آفیشل پوسٹر پر دستخط کیے۔
دنیا کے مشہور فٹبال کھلاڑی لیونل میسی نے حال ہی میں فلم ’’۵۲ بلیو‘‘کے لیڈ ایکٹر آشیش اور فلم کے ہدایتکار علی ال عربی سے ملاقات کی۔ اس دوران میسی نے فلم کے آفیشل پوسٹر پر دستخط کیے۔ یہ لمحہ فلم کی ٹیم کے لیے بہت خاص رہا، کیونکہ یہ کہانی خوابوں، ہمت اور آگے بڑھنے کے جذبے کو ظاہر کرتی ہے۔ میسی کا یہ قدم ان تمام لوگوں کے لیے حوصلہ افزائی ہے جو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فلم کی کہانی آشیش نام کے ایک لڑکے کی ہے، جو کیرالا کے ایک چھوٹے سے جزیرے سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنے والد کی نگرانی میں پرورش پانے والا آشیش ایک دن اپنے مرحوم بھائی کی یاد میں اپنے خواب پورے کرنے کے لیے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس کی ماں اسے حوصلہ دیتی ہے۔ اس کے بعد وہ قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ تک کے سفر پر نکل پڑتا ہے، جہاں اس کا خواب اپنے بچپن کے ہیرو لیونل میسی سے ملنا ہے۔ اس سفر میں وہ خود کو سمجھتا ہے، نئے رشتے بناتا ہے اور زندگی کے نئے تجربات حاصل کرتا ہے۔
فلم میں یادو ششی دھر آشیش کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ نیہا دھوپیا ان کی ماں لکشمی کے کردار میں اور عادل حسین ان کے والد وجین کے کردار میں نظر آئیں گے۔اس فلم کی ہدایتکاری علی ال عربی نے کی ہے، جو’’کیپٹنز آف زعتاری‘‘ اور’’گڈبائے جولیا‘‘ جیسی فلموں سے منسلک رہے ہیں۔ فلم کی سنیماٹوگرافی محمود بشیر نے کی ہے اور ایڈیٹنگ میرین نے سنبھالی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کا دعویٰ، ایران کو بھاری نقصان، معاہدہ صرف جوہری شرط پر ہوگا
فلم کی پروڈکشن علی ال عربی نے ایمبینٹ لائٹ فلمز کے تحت کی ہے۔ اس کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر طارق النامہ ہیں، جبکہ کو پروڈیوسرز خالد العربی، کرسین کیٹسولیس اور جو میتھیوز ہیں۔ فلم میں بادشاہ کا گانا ’’اِٹس یور ٹرن‘‘ بھی شامل ہے۔ ہدایتکار علی ال عربی نے کہاکہ ’’یہ کہانی ایک ایسے بچے کی ہے جسے اس کے والدین کے خوف اور محبت کی وجہ سے دنیا سے دور رکھا جاتا ہے۔ وہ اپنی تخیل میں ایک الگ دنیا بنا لیتا ہے اور ایک ایسے دوست سے جڑ جاتا ہے جو حقیقت میں اس کے پاس نہیں ہوتا۔ لیکن جب وہی دوست اسے گھر چھوڑنے کی وجہ بن جاتا ہے تو والد کے روکنے والے پیار اور بچے کی دنیا دیکھنے کی خواہش کے درمیان ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ کیا محبت ہمیں آزادی دیتی ہے، جیسا کہ ماں نے کیا، یا ہمیں روک کر رکھتی ہے، جیسا کہ والد نے کیا؟ اس فلم میں اصل ویلن محبت ہی ہے، اس کے ساتھ تجربے کی کمی اور کھونے کا خوف بھی شامل ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:کردار میں ڈھلنے کے لیے ۱۰؍ ماہ تک ہاتھ میں کارڈز پکڑے رہا: وجے ورما
انہوں نے مزید کہا کہ فلم ۵۲؍بلیومشکل حالات میں بھی خوشی، آزادی اور اپنے راستے خود چننے کی کہانی ہے۔ یہ فلم فٹبال اور ڈانس کے ذریعے اپنی بات پیش کرتی ہے تاکہ دنیا بھر کے لوگ اس سے جڑ سکیں۔ یہ کہانی خود کو آزاد کرنے اور نسل در نسل چلے آنے والے خوف اور بوجھ سے باہر نکلنے کی کوشش ہے۔