Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشی گن سینیٹ پرائمری میں عبدل السید کی کامیابی، اے آئی پیک کی مہم کو بڑا دھچکا

Updated: August 06, 2026, 4:33 PM IST | Michigan

امریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹ پرائمری میں ترقی پسند لیڈر اور سابق صحت عامہ کے عہدیدار ڈاکٹر عبدل السید نے کانگریس رکن ہیلی اسٹیونز کو انتہائی سخت مقابلے کے بعد شکست دے کر پارٹی کی نامزدگی حاصل کر لی۔ یہ مقابلہ امریکہ کی حالیہ تاریخ کی مہنگی ترین ڈیموکریٹک پرائمریوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں اسرائیل نواز لابی اے آئی پیک اور اس سے وابستہ تنظیموں نے ہیلی اسٹیونز کی حمایت میں کروڑوں ڈالر خرچ کیے۔

Dr. Abdul El-Sayed. Photo: X
ڈاکٹر عبدل السید۔ تصویر: ایکس

امریکہ کی اہم سوئنگ ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹ نشست کے لیے ہونے والی پرائمری میں ڈاکٹر عبدل السید نے سخت اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد کانگریس خاتون ہیلی اسٹیونز کو شکست دے کر نومبر کے عام انتخابات کے لیے پارٹی کی نامزدگی حاصل کر لی۔ یہ نشست ڈیموکریٹک سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے اس انتخاب پر پورے ملک کی نظریں مرکوز تھیں۔ ڈاکٹر عبدل السید، جو ایک معالج، سابق صحت عامہ کے عہدیدار اور ترقی پسند سیاستداں کے طور پر جانے جاتے ہیں، اپنی انتخابی مہم میں صحت عامہ، ’’میڈی کیئر فار آل‘‘، ارب پتیوں پر زیادہ ٹیکس، کارپوریٹ اثر و رسوخ میں کمی اور غزہ کے معاملے پر امریکی پالیسی میں تبدیلی جیسے نکات کو نمایاں کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی مہم کے دوران بڑے پیمانے پر بیرونی انتخابی فنڈنگ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: مسلم ممالک کا مسجد اقصیٰ سےمتعلق مشترکہ اقدام پر غور، اسرائیل کے خلاف سخت ردِعمل

یہ انتخاب اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا کیونکہ اسرائیل نواز لابی اے آئی پیک اور اس سے وابستہ گروپوں نے ہیلی اسٹیونز کی حمایت میں ریکارڈ سطح کی انتخابی مہم چلائی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس مقابلے میں مجموعی طور پر ۶۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے گئے، جسے امریکہ کی مہنگی ترین ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمریوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ نتائج سامنے آنے کے بعد عبدل السید نے اپنی فتح کو عام ووٹروں اور چھوٹے عطیات دینے والوں کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’یہ کامیابی ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ثابت کیا کہ عوام کی طاقت بڑی رقوم سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔‘‘

انتخابی مہم کے دوران عبدل السید کو ترقی پسند لیڈروں کی بھرپور حمایت حاصل رہی، جن میں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور ایلزبتھ وارن شامل تھے، جبکہ ہیلی اسٹیونز کو مشی گن کی گورنر گریچن وِٹمر، سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر اور دیگر پارٹی لیڈروں کی تائید حاصل تھی۔ یہ مقابلہ صرف دو امیدواروں کے درمیان انتخاب نہیں تھا بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل، غزہ اور امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی نظریاتی تقسیم کی علامت بھی بن گیا۔ عبدل السید نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت تنقید کی، جبکہ ہیلی اسٹیونز نے خود کو نسبتاً اعتدال پسند مؤقف رکھنے والی امیدوار کے طور پر پیش کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عمرہ مہنگا ہوگیا،ویزا کی فیس میں اضافہ

سیاسی مبصرین کے مطابق عبدل السید کی کامیابی کو ترقی پسند حلقوں کی اہم فتح سمجھا جا رہا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نتیجے سے یہ تاثر ملا ہے کہ ڈیموکریٹک ووٹروں کے ایک بڑے طبقے میں بڑی بیرونی انتخابی فنڈنگ اور اسرائیل سے متعلق روایتی امریکی پالیسی پر سوالات بڑھ رہے ہیں، تاہم مختلف سیاسی حلقے اس انتخاب کے نتائج کی اپنی اپنی تشریح کر رہے ہیں۔ اب عبدل السید کا مقابلہ نومبر میں ریپبلکن امیدوار اور سابق رکن کانگریس مائیک راجرز سے ہوگا۔ راجرز اس سے قبل ۲۰۲۴ء کے سینیٹ انتخاب میں معمولی فرق سے شکست کھا چکے تھے، اس لیے آئندہ مقابلہ بھی نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ مشی گن کو امریکہ کی فیصلہ کن انتخابی ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس نشست کے نتائج سینیٹ میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK