Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین: محمود عباس نے صدارتی انتخابات کا اعلان کردیا

Updated: June 16, 2026, 5:04 PM IST | Jerusalem

فلسطینی صدر محمود عباس نے صدارتی انتخابات کا اعلان کردیا،جس کے بعد ۲۰۰۵ء کے بعدپہلے فلسطینی صدرارتی انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی،جس کے مطابق ۲۰۲۷ء کے اوائل میں صدارتی انتخابات اور نومبر میں قانون ساز انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

Photo: X
 فلسطینی صدر محمود عباس

 فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ صدارتی انتخابات۲۰۲۷ء کے اوائل میں منعقد ہوں گے، ساتھ ہی اس سال نومبر میں قانون ساز انتخابات بھی ہوں گے، جو برسوں میں سب سے اہم انتخابی ٹائم لائن ہے۔پیر کو یہ اعلان تقریباً دو دہائیوں کے بغیر صدارتی ووٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ ۹۰؍ سالہ عباس۲۰۰۵ء میں چار سالہ مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے، لیکن اس کے بعد کوئی صدارتی انتخابات نہیں ہوئے، اور فلسطینی لیڈراس کے بعد سے فرمان کے ذریعے حکومت کر رہے ہیں۔ایک بیان میں، صدارت نے کہا کہ عباس نے صدارتی انتخابات کی تیاریوں کا حکم دیا ہے اور انتخابی طریقہ کار میں تبدیلیوں کا فرمان جاری کیا ہے۔جبکہ ایک علیحدہ بیان میں، عباس نے کہا کہ وہ فلسطینی نیشنل کونسل (پی این سی) کے لیے انتخابات کے انعقاد کے لیے ’’مکمل طور پر تیار‘‘ہیں، جس میں فلسطینی علاقوں اور بیرون ملک مقیم فلسطینیوں کے درمیان قانون ساز ووٹنگ بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جی۷؍ اجلاس: مودی کے استقبال کیلئے میکرون نے بالی ووڈ انداز اپنایا

واضح رہے کہ آخری قانون ساز انتخابات۲۰۰۶ء میں ہوئے تھے، جب حماس نے عباس کی فتح تحریک کو شکست دی تھی، جس نے فلسطینی سیاست کو نئی شکل دی جس کے بعد ایک طویل ادارہ جاتی تعطلپیدا ہو گیا۔سیاسی تجزیہ کار اور قانونی محقق محمود الافرنجی نے کہا کہ سیاسی ارادے اور بین الاقوامی دباؤ دونوں ہی فلسطینی قیادت کو انتخابات کی طرف مجبور کررہے ہیں۔تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم اور غزہ میں ووٹنگ کے انتظامات پر غیر یقینی صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے۔یہی مسائل۲۰۲۱ء میں انتخابی منصوبے کو پٹری سے اتار چکے تھے، جب عباس نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی شرکت کی ضمانتوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے قانون ساز اور صدارتی ووٹوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ جنگ بندی معاہدے کا دنیا بھر میں خیر مقدم

تازہ ترین اعلان اپریل میں مقبوضہ مغربی کنارے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد آیا ہے، جو اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے آغاز کے بعد پہلا فلسطینی انتخاب تھا۔یورپی یونین نے ان مقامی انتخابات کو وسیع تر جمہوریت سازی اور مضبوط مقامی حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔۲۰۰۶ء کے بعد سے کوئی صدارتی یا قانون ساز انتخابات نہ ہونے کے باعث، بہت سے فلسطینیوں اور بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک نئی اعلان کردہ ٹائم لائن ایک اہم امتحان ہے کہ آیا طویل عرصے سے وعدہ کی گئی سیاسی اصلاحات آخر کار آگے بڑھ سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK