Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابھیشیک بنرجی کی اسپیکر سے ملاقات، باغیوں کیخلاف ۲۰؍ پٹیشن پیش کیں

Updated: June 20, 2026, 9:34 AM IST | New Delhi

تمام ۲۰؍ باغی اراکین پارلیمنٹ کو نا اہل قرار دینے کا مطالبہ ، ٹی ایم سی کو ایک ہی پارلیمانی پارٹی تسلیم کرنے اور کسی بھی باغی گروپ کو نہ تسلیم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

Abhishek Banerjee showing a copy of the petition. Derek O`Brien with him. (PTI)
ابھیشیک بنرجی پٹیشن کی کاپی دکھاتے ہوئے۔ ساتھ میں ڈیریک اوبرائن۔ (پی ٹی آئی)

ٹی ایم سی کے درمیان جاری بغاوت اورتنازعات کے درمیان پارٹی کے اہم لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے بالآخر لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کی اور انہیں باغیوں کے خلاف ۲۰؍ پٹیشن پیش کیں اور مطالبہ کیا کہ باغیوں کے کسی بھی گروپ کو تسلیم نہ کیا جائے۔ساتھ ہی انہوں نے ایک ایک باغی رکن پارلیمنٹ کے خلاف پٹیشن پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان اراکین کو پہلی فرصت میں  نااہل قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ۲۰؍ باغی اراکین  پارلیمان نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک الگ سیاسی گروپ ہیں اور انہیں اسی کے تحت منظوری دی جائے۔باغیوں نے ایک غیر معروف پارٹی ’نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا ‘کے ساتھ انضمام اور این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک ایم ایل سی الیکشن میں بی جے پی اتحاد کو دھچکا!

ابھیشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ ان باغیوں پر دَل بدلی قانون نافذ کیا جائے کیوں کہ ان سبھی نے پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی کو ایک ہی پارلیمانی جماعت کے طور پر تسلیم کیا جائے اور کسی بھی باغی گروپ کو الگ شناخت یا سہولت نہ دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی استدلال پیش کیا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کے بعد ’’اسپلٹ‘‘ یا علاحدہ   گروپ کی بنیاد پر تحفظ حاصل کرنا آسان  ہو گیا ہے اور اسی کی بنیاد پر پارٹیاں توڑی جارہی ہیں۔ اسی لئے اسپیکر قانون اور اخلاقیات کی پاسداری کرتے ہوئے ہی کوئی بھی فیصلہ کریں۔ میٹنگ کے بعد پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں ابھیشیک بنرجی نے مہوا موئترا اور ڈیریک اوبرائن کے ساتھ میڈیا سے گفتگو میں یہ تمام معلومات فراہم کیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK