امریکی حملے میں کرج کے قریب مشرق وسطیٰ کے بلند ترین تباہ شدہ ایرانی پل کے انجینئر اس واقع پر رنجیدہ ہیں ، اس حملے میں ۱۳؍شہری جاں بحق ہوئے، عباس عراقچی نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 3:00 PM IST | Tehran
امریکی حملے میں کرج کے قریب مشرق وسطیٰ کے بلند ترین تباہ شدہ ایرانی پل کے انجینئر اس واقع پر رنجیدہ ہیں ، اس حملے میں ۱۳؍شہری جاں بحق ہوئے، عباس عراقچی نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔
امریکی حملے میں کرج کے قریب مشرق وسطیٰ کے بلند ترین تباہ شدہ ایرانی پل کے انجینئر اس واقع پر رنجیدہ ہیں ، اس حملے میں ۸؍ شہری جاں بحق ہوئےہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جمعہ کو ایرانی حکام کی جانب سے دارالحکومت تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں میڈیا ٹور کے دوران اس جگہ کا دورہ کیا۔ ایک ایرانی انجینئر روزبیک یزدی مشرق وسطیٰ کے بلند ترین پل کے ملبے میں کھڑے تھے، نے آنسو روکتے ہوئے کہا،’’ یہ پل ہمارے بچے جیسا تھا۔‘‘ایک اہلکار نے بتایا کہ گزشتہ روز حملے میں۱۲؍ بم گرائے گئے۔پل کے دو اہم ستون اب بھی کھڑے ہیں۔ جبکہ خوبصورت خطاطی میں لفظ ’’ایران‘‘ اب بھی اس کی چوٹی پر موجود ہے۔لیکن دھماکوں کی قوت نے پل کو درمیان سے دو حصوں میں منقسم کر دیا۔ جبکہ مزید حملوں نے پل کے ڈیک کے سروں کو تباہ کر دیا، اور مڑے ہوئے اسٹیل کے شہتیر اور کنکریٹ کے بلاک اب خلا میں لٹک رہے ہیں۔اس بابت ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ پل کی کبھی مرمت کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے ۴۸؍ گھنٹوں کی جنگ بندی مسترد کی، سفارتی کوششیں ناکام
بعد ازاں یزدی نے کہا، ’’ہم نے ان حصوں کو جوڑنے کے لیے سخت محنت کی۔ ہم روئے، ہم نے بہت پسینہ بہایا۔‘‘ واضح رہے کہ یہ پل اس موسم گرما میں کھلنے والا تھا۔قریب ہی دو کرینیں کھڑی تھیں جو ظاہر کر رہی تھیں کہ دو سال قبل شروع ہونے والا کام نامکمل تھا۔جبکہ پل کا ابھی تک کوئی سرکاری نام نہیں رکھا گیا تھا اور یہ صرف بی ون کے نام سے جانا جاتا تھا۔یزدی نے کہا، ’’ہم اس پل کو اپنا بچہ سمجھتے تھے، اور اسے بڑھتا دیکھ کر بہت فخر محسوس کرتے تھے۔‘‘ پل کے نیچے وادی میں خاندان گھاس پر پکنک منا رہے تھے جب دھماکہ ہوا۔اے ایف پی کے صحافیوں نے ایک مکان اور رہائشی عمارتیں دیکھیں جن کی کھڑکیاں ٹوٹ چکی تھیں، لیکن قریب کوئی فوجی تنصیب نہیں تھی۔
دریں اثناء سرکاری ایرانا نیوز ایجنسی کے مطابق، البورز صوبے کے شہداء فاؤنڈیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، حملے میں۱۳؍ شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ۴۱؍سالہ انجینئر حامد ذکری نے کہا، ’’امریکہ اور اسرائیل صرف ملک اور عوام کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر رہے ہیں۔ہم نے اس پل پر دو سال صبح و شام کام کیا۔ آخر کار ہماری کوششیں تین گھنٹے میں تباہ ہو گئیں۔‘‘انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ پل کی تباہی پر وہ اتنے غمگین ہیں کہ الفاظ نہیں مل رہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے پل پر بمباری کرنے پر ڈینگیں ماریں، حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا ۔ جبکہ اس حملے کے بعد انہوں نے ایک بار پھر ایران کو امن معاہدہ کرنے مجبور کرنے کا دعویٰ کیا۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ملبے کی ویڈیو کے ساتھ لکھا، ’’ ایران کا سب سے بڑا پل گر گیا،جو کبھی استعمال نہیں ہو سکے گا۔اب وقت آگیا ہے کہ ایران اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ایک معاہدہ کر لے۔‘‘ ساتھ ہی ٹرمپ نے توانائی کےمراکز اور دیگر عوامی دھانچے پر مزید حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔جبکہ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کیا،’’شہری ڈھانچوں پر حملہ کرنا، بشمول نامکمل پلوں کے، ایرانیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا: امریکی انٹیلی جنس، عالمی تیل سپلائی متاثر
ایران کے آئی ایس این اے نیوز ایجنسی کے مطابق،’’بی ون ‘‘ایران کا سب سے پیچیدہ انجینئرنگ منصوبہ تھا، جو ’’ایکسٹراڈوزڈ‘‘ نظام کے تحت بنایا گیا تھا جو ڈیک کو معطلی کی کیبلز اور محرابوں دونوں کے ذریعے سہارا دیتا ہے۔اس کا بلند ترین مقام زمین سے۱۷۶؍ میٹر بلند ہے اور یہ۱۰۵۰؍ میٹر طویل ہے۔پل کی تعمیر ایک بڑے موٹروے منصوبے کا حصہ تھی جس کا مقصد تہران اور شمالی ایران کے درمیان سفر کا وقت کم کرنا تھا، جو خاص طور پر بحیرہ کیسپین کی سیاحت کے لیے ایک مقبول مقام ہے۔ دوسری جانب فارس نیوز ایجنسی نے خطے کے اہم پلوں کی فہرست شائع کی جو ایرانی جوابی کارروائی کے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔فہرست میں سب سے اوپر کویت کا۳۶؍ کلومیٹر طویل شیخ جابر الاحمد الصباحپل ، اس کے بعد سعودی عرب اور بحرین کو ملانے والا کنگ فہدپل تھا۔