Updated: April 05, 2026, 2:04 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی فوج میں نظریاتی تبدیلی پیدا ہورہی ہے، جس کی وجہ مذہبی گروہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا عملے کی کمی پوری کر نا ہے، جبکہ ان کے فرسودہ نظریا ت کے سبب قابض افواج کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں، اس کے علاوہ سخت مذہبی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی اکائی قائم کی گئی ہے۔
جرائم سے وابستہ اسرائیلی آبادکار اب فوج میں شامل ہورہے ہیں۔ تصویر: ایکس
خبروں کے مطابق، اسرائیلی فوج میں بڑھتی ہوئی عملے کی کمی ہیکل اور انتہاپسند یہودی گروہوں کے اثر و رسوخ کو مضبوط کر رہی ہے، جس سے فوج کا نظریاتی ڈھانچہ تبدیل ہو رہا ہے۔ قابض افواج کو نئی بھرتی کی ضرورت نے مذہبی گروہوں کو زیادہ نمایاں کر دیا ہے، اور تصاویر اور خبروں میں فوج کے اندر ان کی موجودگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔۲۰۲۵ء کے بعد سے، فوج میں چاباد-لوباویچ کے ارکان کی موجودگی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ مبینہ طور پر ان کی شرکت کو آسان بنانے کے لیے ایک خصوصی فوجی اکائی تشکیل دیا گیا ہے، جو سخت مذہبی اصولوں کے مطابقمرتب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہمارے حملوں سے ایران کی صنعتی صلاحیت متاثر ہوئی ہے:اسرائیلی دعویٰ
فی الحال تقریباً چاباد سے وابستہ ربی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں سے۲۰؍ سے زائد کپتان اور اس سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ اعداد و شمار سوالات پیدا کرتے ہیں کہ کیا فوج اپنے روایتی جمہوری ڈھانچے سے دور ہو رہی ہے۔واضح رہے کہ ہل ٹاپ یوتھ کی عسکریت پسندینتزح یہودا بٹالین جیسے یونٹس، جو انتہائیقدامت پسند یہودیوں کو فوج میں شامل کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، دوبارہ زیر بحث ہیں۔ خبروں کے مطابق اکائی کو مغربی کنارے میں تعینات کیا گیا ہے اور یہ انتہاپسند آبادکار گروہوں سے منسلک ہیں۔
دریں اثناء’’ ہل ٹاپ یوتھ‘‘ ایک انتہاپسند آبادکار گروپ ہے، جسے امریکہ نے بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے ،کی ان اکائی میں بڑھتی ہوئی شمولیت ظاہر ہو رہی ہے۔بعد ازاں ایک نئی اکائی جسے ’’ڈیزرٹ فرنٹیئر‘‘(صحرائی سرحد) کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر انہی دہشت گرد آبادکار گروہوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ چاباد تحریک مسیحائی عقائدکی نقاد ہے، جس میں مسجد اقصیٰ کمپلیکس پر’’ ہیکل سلیمانی ‘‘کیتعمیر کرنے کا عقیدہ بھی شامل ہے۔چنانچہ اس طرح کے نظریات علاقائی استحکام کے لیے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں،اس کے علاوہ یہ سیاسی و فوجی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بعد ازاں گزشتہ ہفتے، مغربی کنارے میں سی این این کی عملے پر حملہ کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کو چاباد تحریک سے وابستگی کے نشانات پہنے دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کو ۴۸؍ گھنٹے کا الٹی میٹم، ہرمز بحران عالمی تصادم کے دہانے پر
تاہم امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن نے اپنے پوڈ کاسٹ پر اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں میں جنگ کو مذہبی مقاصد کے حصول کے طور پر تعبیر کیا جا رہا ہے اور ’’ایران جنگ‘‘ میں چاباد کے کردار کے بارے میں الزامات پر غور کیا جانا چاہیے۔دراصل یہ بحث اس وقت سامنے آئی ہے جب۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والے امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں، جن میں ایران میں۱۳۴۰؍ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور اسرائیل کا لبنان میں زمینی حملہ جاری ہے، جہاں۲؍ مارچ سے اب تک۱۳۰۰؍ سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔