یہاں کے انجمن خیر الاسلام گرلز ہائی اسکول کی نہم جماعت کی ہونہار طالبہ شبیہت خان نے کم عمری میں بڑا ادبی کارنامہ انجام دیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 11:37 AM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Madanpura
یہاں کے انجمن خیر الاسلام گرلز ہائی اسکول کی نہم جماعت کی ہونہار طالبہ شبیہت خان نے کم عمری میں بڑا ادبی کارنامہ انجام دیا ہے۔
یہاں کے انجمن خیر الاسلام گرلز ہائی اسکول کی نہم جماعت کی ہونہار طالبہ شبیہت خان نے کم عمری میں بڑا ادبی کارنامہ انجام دیا ہے۔ وہ انگریزی میں فینٹیسی ناول لکھ کر علاقے میں موضوع بحث بنا گئی ہے۔ واٹ پیڈ پر شبیہت خان کے نام سے ابھرتی ہوئی مصنفہ کے طور پر پہچانی جانے والی شبیہت رومانس اور فینٹیسی فکشن لکھتی ہیں۔
شبیہت خان کا سب سے بڑا کارنامہ اس کا مقبول ناول ’بِنیتھ اے لائی‘ ہے۔ یہ ایک ڈارک فینٹیسی رومانس ہے جس کا مرکزی ٹراپ یعنی دشمنی سے محبت تک ہے۔ اس ٹراپ میں کہانی کے ہیرو اور ہیروئن شروع میں ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں لیکن بعد میں وہی نفرت محبت میں بدل جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مسافرخانہ کےبعد نل بازار میں بھی بی ایم سی کی انہدامی کارروائی
کہانی ولوریا سلطنت کی سیلسٹیل لوئس کے گرد گھومتی ہے جس کی شاہی منگنی کے بعد ایک پُراسرار چابی اور خطرناک شہزادہ ایتھر کالڈر اس کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد وہ جھوٹ، شاہی سازشوں اور ’دی رفٹ‘ نامی ممنوعہ طاقت کے جال میں الجھ جاتی ہے۔
انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے شبیہت خان نے کہا کہ بچپن ہی سے اسے مطالعہ اور لکھنے کا شوق ہے۔ اس نے لکھنے کی شروعات آٹھویں جماعت سے کی تھی۔ مذکورہ ناول کے پلاٹ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے خواب دیکھا تھا جس کے بعد یہ کہانی اس کے ذہن میں آئی۔ اس نے بتایا کہ یہ اس آمدنی کا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔
اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے انگریزی میں اس پایہ کا ناول لکھنا اساتذہ اور اہل محلہ میں سراہا جا رہا ہے۔