• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: حوثی حملوں میں ہندوستانی شہری ہلاک، ۴؍ ہزار عمرہ عازمین پھنس گئے

Updated: October 23, 2026, 12:04 PM IST | Riyadh

سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور تیل کے میدان پر حملوں کے نتیجے میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ پروازیں منسوخ ہونے سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تقریباً ۴؍ ہزار ہندوستانی عمرہ عازمین پھنس گئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سعودی عرب میں بدھ کو ایک ہوائی اڈے اور تیل کے ایک میدان پر حملوں میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک اور کم از کم تین دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا، یعنی یمن کی حوثی مسلح تحریک، جسے ایران کی حمایت حاصل ہے، نے سعودی عرب کے ہوابازی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ہندوستان نے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر روکا جائے۔ ان حملوں کے باعث ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جانے والے ہزاروں ہندوستانی عازمین وہاں پھنس گئے ہیں۔ علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سلامتی سے متعلق خدشات کے درمیان فضائی کمپنیوں کی جانب سے پروازیں منسوخ کیے جانے کے بعد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تقریباً ۴؍ ہزار ہندوستانی عازمین پھنسے ہوئے ہیں۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے حکومت اور ہوابازی کے نگران ادارے سے اپیل کی ہے کہ عازمین کی وطن واپسی کیلئے اضافی پروازوں کا انتظام کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: تجارتی معاہدہ کیخلاف کسانوں کی مسلح جدوجہد کی دھمکی

اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۴؍ ہزار عازمین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انڈیگو، آکاسا ایئر اور ایئر انڈیا کے ذریعے سفر کیا تھا، لیکن ان فضائی کمپنیوں کی پروازیں منسوخ ہونے کے باعث وہ وہیں رک گئے ہیں۔ اویسی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) سے مطالبہ کیا کہ فضائی کمپنیوں کو بڑے طیارے چلانے کی اجازت دی جائے تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو واپس لایا جاسکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستانی عازمین کو ان کے ٹور ایجنٹوں نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ اویسی نے حکومت سے فوری مداخلت اور متاثرہ افراد کی مدد کی اپیل بھی کی۔

وزارتِ خارجہ کی عازمین کی واپسی کے لیے کوششیں

وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دستیاب پروازوں کے ذریعے سعودی عرب میں پھنسے ہوئے تقریباً ۳؍ ہزار عمرہ عازمین ہندوستان واپس آچکے ہیں۔ اسی عرصے میں ۱۰؍ ہزار سے زائد دیگر عازمین بھی اپنی طے شدہ پروازوں کے ذریعے وطن لوٹے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانہ اور جدہ میں قونصل جنرل کا دفتر فضائی کمپنیوں اور ٹور آپریٹروں سے رابطے میں ہیں تاکہ باقی عازمین کی جلد از جلد وطن واپسی ممکن بنائی جاسکے۔ جیسوال نے کہا کہ دیگر عمرہ عازمین کی جلد واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے انتظامات پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہندوستانی سفارتی مشن مقامی برادری کے رضاکاروں کی مدد سے متاثرہ عازمین کو ہر ممکن امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مشکلات کا سامنا کرنے والے ہندوستانی شہریوں کی مدد کیلئے ۲۴؍ گھنٹے کام کرنے والے کنٹرول روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سفارتی مشن صورتِ حال سے آگاہ رکھنے کے لیے باقاعدگی سے ہدایات اور مشورے بھی جاری کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان: ہر پانچواں کالج طالب علم انٹرپرینیور ہے: آئی آئی ٹی منڈی سروے

دمام کے ہوائی اڈے پر حملے میں ہندوستانی ملازم ہلاک

بدھ کے روز دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون اور میزائل حملے میں اترپردیش کے گورکھپور سے تعلق رکھنے والے ۳۷؍ سالہ کملیش پانڈے ہلاک ہوگئے۔ وہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے دارالحکومت دمام کے ہوائی اڈے پر گراؤنڈ اسٹاف کے رکن کے طور پر کام کرتے تھے۔ حملے میں دو دیگر ہندوستانی شہری بھی زخمی ہوئے۔ ایک اور حملے میں شمالی صحرائے ربع الخالی کے کنارے واقع شایبہ آئل فیلڈ میں ایک ہندوستانی شہری زخمی ہوگیا۔ سعودی فضائی دفاعی نظام نے سعودی آرامکو کے زیرِ انتظام اس تیل کے میدان کو نشانہ بنانے سے پہلے ایک ڈرون کو روک کر تباہ کردیا۔ تاہم، ڈرون کے ملبے اور ٹکڑوں کے قریب گرنے سے دو کارکن ہلاک ہوگئے، جن میں ایک کا تعلق فلپائن اور دوسرے کا نیپال سے تھا۔ اس واقعے میں ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔

کملیش پانڈے کی ہلاکت سے قبل ۱۱؍ اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک حملے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ۳۷؍ سالہ آئی ٹی ماہر محمد یوسف بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ساتھ عمرہ ادا کرنے سعودی عرب جا رہے تھے۔ اس واقعے میں پانچ دیگر ہندوستانی شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ سعودی عرب میں تقریباً ۲۷؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار ہندوستانی مقیم ہیں، جن میں تارکینِ وطن مزدور، پیشہ ور افراد، تاجر اور حج و عمرہ کے لیے آنے والے زائرین شامل ہیں۔

انڈیگو اور آکاسا ایئر کی پروازیں معطل

علاقائی کشیدگی اور سعودی عرب کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد سلامتی سے متعلق خدشات کے باعث ہندوستان اور سعودی عرب کے کئی شہروں کے درمیان پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔ انڈیگو نے ریاض، جدہ، دمام اور مدینہ منورہ آنے جانے والی پروازیں ۲۴؍ اکتوبر تک منسوخ کردی ہیں۔ آکاسا ایئر نے بھی ریاض کیلئے اپنی پروازوں کی معطلی میں ۲۴؍ اکتوبر تک توسیع کردی ہے۔ ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی سعودی عرب کے لیے اہم فضائی راستوں پر پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شاہ چارلس سوم نے سلطانِ عمان کے اعزاز میں حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیا

پروازیں منسوخ ہونے کے باعث مسافروں کو اپنی واپسی کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ عمرہ عازمین کیلئے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں کیونکہ ان کی رہائش اور سفر کے انتظامات اکثر ٹور آپریٹروں کے ذریعے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے اور جدہ میں قونصل جنرل کے دفتر نے متاثرہ مسافروں سے کہا ہے کہ وطن واپسی کے انتظامات جاری رہنے کے دوران وہ اپنی فضائی کمپنیوں اور سفری خدمات فراہم کرنے والوں سے رابطے میں رہیں۔ فضائی کمپنیاں متعلقہ شرائط کے مطابق مسافروں کو رقم واپس لینے یا اپنی پروازوں کی تاریخ تبدیل کرنے کے متبادل بھی فراہم کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK