سیکڑوں غیر قانونی دکانوں، اسٹالوں، ڈھانچوں اور باکڑوں کو منہدم کردیا گیا ۔متعدد لائسنس یافتہ دکانوں کو بھی توڑنے کی شکایتیں۔ لاکھوں روپے کانقصان ۔ دکانداروں میں شہری انتظامیہ کیخلاف سخت ناراضگی۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 11:33 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
سیکڑوں غیر قانونی دکانوں، اسٹالوں، ڈھانچوں اور باکڑوں کو منہدم کردیا گیا ۔متعدد لائسنس یافتہ دکانوں کو بھی توڑنے کی شکایتیں۔ لاکھوں روپے کانقصان ۔ دکانداروں میں شہری انتظامیہ کیخلاف سخت ناراضگی۔
کرافورڈ مارکیٹ کے قریب واقع صابو صدیق روڈ(مسافرخانہ) علاقے میں گزشتہ دنوں ہونے والی انہدامی کارروائی کے بعد شہری انتظامیہ کے انہدامی دستہ نے بدھ اور جمعرات کو نل بازار کے فروٹ مارکیٹ میں زبردست کارروائی کی ۔ اس دوران سیکڑوں غیر قانونی دکانوں، اسٹالوں، ڈھانچوںاورباکڑوں کو منہدم کردیاگیاجن میں متعدد لائسنس یافتہ دکانیں بھی شامل تھیںجس کی وجہ سے ان دکانداروں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ان دکانوں میں انہدامی کارروائی سے لاکھوں روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
’’لائسنس ہونے کے باوجود میری دکان توڑ دی گئی‘‘
نل بازار کے فروٹ مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے ۵۰؍ سالہ محمد مسلم خان نے انقلاب کو بتایا کہ ’’میری دکان کا لائسنس والدہ کے نام پرہے۔ ہماری دکان تقریباً ۳۰، ۳۵؍ سال پرانی ہے ۔ سارے ضروری دستاویزات اپ ڈیٹ ہیں۔ ہم پابندی سے ہر سال لائسنس کی فیس بھی بھرتے ہیں، اس کے باوجود ہماری دکان کو بی ایم سی نے منہدم کر دیا ۔ میں نے سارے دستاویزات دکھائے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی ، کہا کہ آپ نے دکان کو قاعدے سے بنایا نہیں ہے ، اس لئے دکان توڑی جا رہی ہے۔ میں نے بڑی عاجزی کی لیکن بی ایم سی عملے نے دکان پر بلڈوز چلانے میں کسر نہیں چھوڑی ۔ پوری دکان توڑ دی جس کی وجہ سے میرا تقریباً ۵۰؍ہزار روپے کا مال برباد ہو گیا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: حیدری جامع مسجد اسلامی طرز تعمیر کی عمدہ مثال
’’غریب کاروباریوں کاکیا ہوگا؟‘‘
نل بازار فروٹ مارکیٹ اسوسی ایشن کے صدر علی نبی قریشی نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’غیرقانونی دکانوں اور اسٹالوں کےساتھ جوکچھ کیا گیا ، اسے ہم سمجھ سکتے ہیںلیکن لائسنس یافتہ دکانوں کو نہیں توڑنا چاہئے تھا ۔ انہدامی دستہ نے سبھی دکانداروں کو نقصان پہنچایاہے۔ حالانکہ بی ایم سی نے حال ہی میں پھیری والوں کو جو شناختی کارڈ دیا ہے ،اس اسکیم کے تحت مجھے بھی کارڈ دیا گیاہے ۔ میری بھی لائسنس یافتہ دکان کا کارڈ دکھانے کے باوجود اسے توڑ دیا گیا ۔ میں نے لائسنس انسپکٹر کو اپنا کارڈ دکھایا جس پر اس نے کہا کہ یہ کارڈ آفس میں آکر دکھانا، اس کے بعد بات چیت کی جائے گی ،فی الحال ہماری کارروائی میں مداخلت نہ کریں ،یہ کہہ کر انہوں نے میری دکان بھی توڑ ڈالی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’نل بازار فروٹ مارکیٹ میں تقریباً ۱۰۰؍ دکان ، اسٹال اور ٹھیلے والے ہیں۔ ان سبھی کی دکانوں کو منہدم کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں غریب بے روزگار ہوگئے ہیں۔ یہاں کا فروٹ بازار کافی پرانا ہے ۔ اچانک ان کی روزی روٹی چھین لی جائے گی تو غریب کاروباریوں کاکیا ہوگا؟ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ کچھ دکاندار ضرورت سے زیادہ جگہ گھیر لیتے ہیں جس کی وجہ سے راہگیروں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے لیکن چند کاروباریوں کی غلطی کی وجہ سے سب کی روزی روٹی بند کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟اس کے علاوہ جن دکانداروں کے پاس لائسنس ہے ، ان کی دکانوں کو توڑنے کا کیا مطلب ہے ؟ ۲؍دنوں کی کارروائی میں تقریباً ۱۰۰؍دکانیں توڑی گئی ہیں جس سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔‘‘