Inquilab Logo Happiest Places to Work

اڈانی گرین انرجی نے دنیا کا سب سے بڑا سنگل لوکیشن بیٹری اسٹوریج سسٹم شروع کر دیا

Updated: May 26, 2026, 8:06 PM IST | New Delhi

اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے منگل کے روز کہا کہ اس نے مجموعی طور پر۳۷ء۳؍ گیگا واٹ آور (GWh) کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) شروع کر دیا ہے۔

Adani Green Energy.Photo:INN
اڈانی گرین انرجی۔ تصویر:آئی این این

 اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے منگل کے روز کہا کہ اس نے مجموعی طور پر۳۷ء۳؍ گیگا واٹ آور (GWh) کا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) شروع کر دیا ہے، جو چین کے باہر دنیا کا سب سے بڑا سنگل لوکیشن بیٹری اسٹوریج سسٹم ہے اور عالمی سطح پر سب سے تیزی سے مکمل کیے جانے والے منصوبوں میں سے ایک ہے۔
اڈانی گروپ کی کمپنی نے بیان میں کہا کہ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم میں ۳۷ء۱؍گیگا واٹ آور کی اضافی صلاحیت مارچ ۲۰۲۶ء میں شامل کی گئی، جس کے بعد اے جی ای ایل کی گجرات کے کھاواڑا میں آپریشنل بی ای ایس ایس صلاحیت ۳۷ء۳؍ گیگا واٹ آور ہو گئی ہے۔
اے جی ای ایل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ساگر اڈانی نے کہا ’’بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنا ہندوستان کے صاف توانائی کے ٹرانزیشن کے اگلے مرحلے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ جیسے جیسے قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، قابل اعتماد اور چوبیس گھنٹے صاف بجلی فراہم کرنے کے لیے اسٹوریج انفراسٹرکچر انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔‘‘کھاواڑا میں۳۷ء۳؍ گیگا واٹ آور بی ای ایس ایس صلاحیت کے فعال ہونے کے ساتھ، اے جی ای ایل ایک لچکدار، قابلِ ترسیل اور مضبوط توانائی نظام کی بنیاد کو مضبوط بنا رہا ہے۔ساگراڈانی نے مزید کہا ’’بیٹری اسٹوریج میں ہماری سرمایہ کاری عالمی سطح پر مستقبل کے لیے تیار صاف توانائی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے ہماری طویل المدتی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’’چک دے انڈیا‘‘ کے اداکار رماکانت سنگین بیماری سے لڑنے کے بعد چل بسے


۳۷ء۳؍ گیگا واٹ آور بی ای ایس ایس صلاحیت اتنی بجلی ذخیرہ کر سکتی ہے جو اندور، چندی گڑھ یا پورے گوا جیسے شہروں کی زیادہ سے زیادہ بجلی کی طلب کو پورا کرتے ہوئے تقریباً دس لاکھ گھروں کو پورے دن کے لیے بجلی فراہم کر سکتی ہے۔ یہ مسلسل ۱۰؍ گھنٹے تک ۱۲؍ ملین سے زیادہ ایل ای ڈی بلب روشن رکھنے کے لیے بھی کافی توانائی فراہم کر سکتی ہے۔یہ ایک اہم پیش رفت (گیم چینجر) ہوگی کیونکہ بیٹری اسٹوریج قابلِ تجدید توانائی پر مبنی گرڈ کو مستحکم رکھنے اور چوبیس گھنٹے سبز توانائی فراہم کرنے میں مدد دے گا۔
کمپنی کے مطابق، اس منصوبے کو سائٹ پر تعمیر شروع ہونے کے صرف ۱۰؍ ماہ کے اندر مکمل کیا گیا، جو عالمی سطح پر سب سے تیز یوٹیلیٹی اسکیل بیٹری اسٹوریج تنصیبات میں سے ایک ہے۔ یہ کمیشننگ گرڈ کی قابلِ اعتمادیت کو مضبوط بنانے، پیک آور سپلائی کو بہتر کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کو بڑے پیمانے پر قابلِ بھروسہ اور مسلسل بجلی میں تبدیل کرنے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ: امریکہ کے انکار کے بعد میکسیکو ایرانی ٹیم کی میزبانی کیلئے تیار


اے جی ای ایل کا منصوبہ ہے کہ مالی سال ۲۰۲۷ء میں ۱۰؍گیگا واٹ آورسے زیادہ بیٹری اسٹوریج صلاحیت شامل کی جائے اور اگلے پانچ برسوں میں اسے۵۰؍ گیگا واٹ آور تک بڑھایا جائے۔ بی ای ایس ایس منصوبہ جدید انرجی مینجمنٹ سسٹمز کو لیتھیم آئن بیٹری ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط کرتا ہے تاکہ کارکردگی، قابلِ اعتمادیت اور گرڈ رسپانس کو بہتر بنایا جا سکے۔
دنیا کے سب سے بڑے قابلِ تجدید توانائی پلانٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اے جی ای ایل کا بی ای ایس ایس منصوبہ اسٹریٹجک طور پر گجرات کے کھاواڑا میں واقع ہے، جہاں اے جی ای ایل ۲۰۲۹ء تک ۳۰؍ گیگا واٹ کی ترقی کر رہا ہے، جس میں سے ۹ء۹؍ گیگا واٹ پہلے ہی فعال ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK