اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ (اے پی ایس ای زیڈ) نے بین الاقوامی کاروبار کو وسعت دینے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نیدرلینڈز کی معروف کمپنی ایووس بی وی (Evos B.V.) کے ۱۰۰؍ فیصد حصص حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 10:02 PM IST | New Delhi
اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ (اے پی ایس ای زیڈ) نے بین الاقوامی کاروبار کو وسعت دینے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نیدرلینڈز کی معروف کمپنی ایووس بی وی (Evos B.V.) کے ۱۰۰؍ فیصد حصص حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
اڈانی گروپ کی کمپنی اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ (اے پی ایس ای زیڈ) نے بین الاقوامی کاروبار کو وسعت دینے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نیدرلینڈز کی معروف کمپنی ایووس بی وی (Evos B.V.) کے ۱۰۰؍ فیصد حصص حاصل کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس سودے کی مجموعی انٹرپرائز ویلیو ۲ء۵۶ ارب یورو، یعنی تقریباً ۲۷؍ ہزار ۲۰۰؍ کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اس حصول کے بعد اڈانی پورٹس کو یورپ کے پانچ ممالک میں واقع مائع ایندھن اور دیگر مصنوعات کے ذخیرہ کرنے والے آٹھ بندرگاہی ٹرمینلز کا کنٹرول حاصل ہوگا۔ یہ معاہدہ کمپنی کی عالمی توسیع اور بین الاقوامی بندرگاہی و لاجسٹکس کاروبار میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گوگل نے بھی ۵؍ممالک کے ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی پیشکش کی
نیدرلینڈز میں قائم ایووس یورپ کی دوسری سب سے بڑی آزاد مائع ذخیرہ کرنے والی کمپنی ہے۔ اس کے آٹھ ٹرمینلز نیدرلینڈز، جرمنی، اسپین، بیلجیم اور مالٹا میں واقع ہیں۔ یہ ٹرمینلز یورپ کے اہم توانائی اور صنعتی مراکز، بالخصوص ایمسٹرڈیم، روٹرڈیم اور اینٹورپ کے خطے، ہیمبرگ اور بحیرۂ روم کے علاقوں میں موجود ہیں۔ کمپنی کے پاس مجموعی طور پر ۶۳؍ لاکھ مکعب میٹر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ اس کے بنیادی ڈھانچے میں ۴۵۲؍ اسٹوریج ٹینک اور جہازوں و بارج کے لیے ۶۳؍ برتھ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اہم مقامات سے منسلک پائپ لائن نیٹ ورک بھی موجود ہے، جس میں شیفول ہوائی اڈے اور سینٹرل یورپ پائپ لائن سسٹم سے رابطے شامل ہیں۔ اڈانی پورٹس کے مطابق ایووس نے کیلنڈر سال ۲۰۲۵ء میں ۳۹۲؍ ملین یورو کی آمدنی حاصل کی، جبکہ اس کا ای بی آئی ٹی ڈی اے ۲۱۹؍ ملین یورو رہا۔ اس طرح کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے مارجن ۵۶؍ فیصد رہا، جو اس کے کاروبار کی مضبوط منافع بخشی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی مدت کے دوران ایووس نے ۳۷؍ ملین میٹرک ٹن مصنوعات کی نقل و حرکت اور ہینڈلنگ کی۔ کمپنی کے ٹرمینلز میں تجارتی استعمال کی اوسط شرح ۹۹؍ فیصد ہے، جبکہ اس کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ طویل مدتی معاہدوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ان معاہدوں میں بعض ایسے انتظامات بھی شامل ہیں جن کے تحت صارفین کو طے شدہ گنجائش کے لیے ادائیگی کرنا ہوتی ہے، خواہ وہ اسے مکمل طور پر استعمال کریں یا نہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی کے اشاریے سے منسلک معاہدے بھی آمدنی کے تسلسل کو مضبوط بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا رونالڈوآخری الوداعی میچ کھیلنے کے لیے دوبارہ میدان میں اتریں گے؟
ایووس کا کاروبار صرف روایتی ایندھن تک محدود نہیں ہے۔ کمپنی پٹرول، گیس آئل، بحری جہازوں کے ایندھن اور ہوائی جہازوں کے لیے جیٹ فیول کے ذخیرے اور انتظامات کے ساتھ ساتھ پائیدار ہوابازی ایندھن (ایس اے ایف)، حیاتیاتی ایندھن، میتھنول اور بایو ایتھنول جیسے متبادل ایندھن کے شعبوں میں بھی سرگرم ہے۔ یورپ میں صاف اور کم کاربن والے ایندھن کی طرف بڑھتے رجحان کے پیش نظر یہ کاروبار اڈانی پورٹس کے لیے مستقبل میں نئی ترقی کے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔ اس حصول سے کمپنی کو عالمی توانائی اور صنعتی مراکز میں اپنی موجودگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ نئے دور کے ایندھن کی سپلائی چین میں بھی حصہ لینے کا موقع ملے گا۔
اس حصول کے بعد اڈانی پورٹس کا عالمی نیٹ ورک ۱۰؍ ممالک میں ۲۸؍ بندرگاہوں اور ٹرمینلز تک پہنچ جائے گا۔ کمپنی کا مقصد بندرگاہی کاروبار کے ساتھ نقل و حمل، مال برداری، ذخیرہ اندوزی اور لاجسٹکس کی مربوط عالمی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ اڈانی پورٹس کے منیجنگ ڈائریکٹر کرن اڈانی نے اس معاہدے کو کمپنی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق ایووس کی شمولیت سے عالمی مائع ذخیرہ کرنے اور توانائی کے اہم مراکز میں کمپنی کی موجودگی نمایاں طور پر مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس حصول کے ذریعے اڈانی پورٹس یورپ کی پائیدار توانائی کی منتقلی میں بھی تعاون کرسکے گی اور ایک عالمی سطح کا مربوط ٹرانسپورٹ پلیٹ فارم بنانے کے اپنے ہدف کی جانب آگے بڑھے گی۔
یہ سودا مکمل طور پر نقد ادائیگی کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے، تاہم اڈانی پورٹس اس کے لیے قرض کے ذریعے مالی وسائل حاصل کرے گی۔ کمپنی کے مطابق ایووس کی ایکویٹی ویلیو ۱ء۱۸؍ ارب یورو ہے، جبکہ مجموعی انٹرپرائز ویلیو ۲ء۵۶؍ ارب یورو مقرر کی گئی ہے۔ جاپان کا مالیاتی ادارہ ایم یو ایف جی اس سودے کے لیے واحد انڈر رائٹر ہے اور اس نے ۲ء۸؍ ارب یورو تک کی مالی اعانت کے وعدے کیے ہیں۔ دونوں کمپنیوں کے مالی اعداد و شمار کی بنیاد پر مشترکہ ادارے کا خالص قرض اور ای بی آئی ٹی ڈی اے کا تناسب ۲ء۷۶؍ گنا رہنے کا اندازہ ہے، جسے مالی سال ۲۰۲۷ء تک تقریباً ۲ء۵؍ گنا تک لانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم اس حصول کو مکمل کرنے کے لیے متعلقہ حکومتی اور قانونی منظوریوں کے ساتھ ملازمین کی نمائندہ کونسلوں سے مشاورت کا عمل بھی ضروری ہوگا۔ اس لیے فی الحال اسے طے شدہ معاہدہ سمجھا جائے، مکمل ہوچکا حصول نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سیف علی خان نے’ جین زی‘ کے نئے اداکاروں میں سارہ اور ابراہیم کانام نہیں لیا
اڈانی پورٹس نے حالیہ برسوں میں ہندوستان کے علاوہ بیرون ملک بھی اپنے بندرگاہی اور لاجسٹکس کاروبار کو وسعت دی ہے۔ کمپنی کے مطابق مالی سال ۲۰۲۷ء کی پہلی ششماہی میں اس کے بین الاقوامی بندرگاہی کاروبار کی آمدنی ۳۵۸۶؍ کروڑ روپے اور ای بی آئی ٹی ڈی اے ۱۶۰۸؍ کروڑ روپے رہا۔ اس دوران بین الاقوامی بندرگاہوں پر مال برداری کا حجم بڑھ کر ۴۷؍ ملین میٹرک ٹن ہوگیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ ۱۷؍ ملین میٹرک ٹن تھا۔ ایووس کا حصول اس کاروبار کو مزید وسعت دینے اور آمدنی کے ذرائع کو مختلف جغرافیائی خطوں میں پھیلانے کی کوشش ہے۔ کمپنی کا طویل مدتی ہدف مالی سال ۲۰۳۱ء تک سالانہ ایک ارب ٹن مال کی ہینڈلنگ کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ مجموعی طور پر ایووس کا حصول اڈانی پورٹس کے لیے محض یورپ میں قدم جمانے کا معاملہ نہیں، بلکہ عالمی توانائی، بندرگاہی خدمات اور مائع ایندھن کے ذخیرے کے شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی ہے۔ اگر تمام ضروری منظوریوں کے بعد یہ سودا مکمل ہوجاتا ہے تو اڈانی پورٹس کو یورپ کے اہم صنعتی و توانائی مراکز تک براہِ راست رسائی ملے گی اور اس کے عالمی کاروبار میں جغرافیائی تنوع بھی بڑھے گا۔