Updated: November 05, 2026, 7:04 PM IST
| New York
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ ساتھ اخراجات کو قابو میں رکھنے اور افرادی قوت کی تنظیمِ نو کا رجحان تیز ہوتا جارہا ہے۔ اسی سلسلے میں مائیکروسافٹ کے بعد اب گوگل نے بھی اپنے رضاکارانہ ملازمت چھوڑنے کے پروگرام کو پانچ ممالک تک وسعت دے دی ہے۔
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر سرمایہ کاری بڑھانے کے ساتھ ساتھ اخراجات کو قابو میں رکھنے اور افرادی قوت کی تنظیمِ نو کا رجحان تیز ہوتا جارہا ہے۔ اسی سلسلے میں مائیکروسافٹ کے بعد اب گوگل نے بھی اپنے رضاکارانہ ملازمت چھوڑنے کے پروگرام (Voluntary Exit Programme) کو پانچ ممالک تک وسعت دے دی ہے۔ گوگل نے کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان اور سوئٹزرلینڈ میں اپنی منتخب ٹیموں کے بعض ملازمین کو مالی معاوضے کے ساتھ کمپنی چھوڑنے کا اختیار دیا ہے۔ یہ پیشکش جون ۲۰۲۶ء میں متعارف کرائی گئی تھی، تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے ملازمین اس پروگرام کے اہل قرار پائے یا اب تک کتنے افراد نے اسے قبول کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آج کے دور میں سیکوریٹی کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے: سیف علی خان
گوگل کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ کمپنی کی بعض ٹیموں نے ۲۰۲۵ء میں امریکہ میں رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کے پروگرام متعارف کرائے تھے، جن کے تحت ملازمین کو ملازمت ختم کرنے کے بدلے مالی پیکیج دیا گیا۔ اس سال جون میں اس پروگرام کو چند دیگر ممالک تک وسعت دی گئی تاکہ کمپنی اپنے مستقبل کے اہم کاروباری منصوبوں پر توجہ مرکوز کرسکے۔ کمپنی کے مطابق یہ سہولت ان ملازمین کے لیے ایک متبادل راستہ ہے جو شاید گوگل کی تیز رفتار کام کرنے کی پالیسی یا مستقبل کی سمت سے خود کو ہم آہنگ محسوس نہیں کرتے۔ اس پروگرام کا اطلاق تمام ملازمین پر نہیں ہوتا بلکہ ملازم کے عہدے، شعبے اور ملک کے لحاظ سے اہلیت طے کی جاتی ہے۔
گوگل کے رضاکارانہ علاحدگی پروگرام کے تحت مالی معاوضے کی تفصیلات تمام پانچ ممالک کے لیے منظرعام پر نہیں آئی ہیں۔ تاہمسوئزرلینڈ میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق وہاں ملازمین کو کمپنی میں ہر سال کی ملازمت کے بدلے ایک ماہ کی تنخواہ دی گئی، جبکہ زیادہ سے زیادہ معاوضے کی حد ۱۲؍ ماہ کی تنخواہ مقرر کی گئی تھی۔ اس طرح ۱۲ ؍سال یا اس سے زیادہ عرصے تک کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین کو زیادہ سے زیادہ ایک سال کی تنخواہ کے برابر رقم مل سکتی تھی۔ سوئزر لینڈ میں جون کے وسط میں ملازمین کو اس پیشکش سے آگاہ کیا گیا، جولائی کے وسط تک درخواستوں کے نتائج بتائے گئے اور پیشکش قبول کرنے والے ملازمین نے اگست سے کمپنی چھوڑنا شروع کردیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق وہاں تقریباً ۵۰ ملازمین پر مشتمل ایک ٹیم کے کم از کم چار افراد نے اس پیشکش کو قبول کیا۔ البتہکنیڈا، فرانس، جرمنی اور جاپان میں معاوضے کی شرائط کیا ہوں گی، اس بارے میں گوگل نے تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:دبئی میں ہندوستان اور پاکستان کے باکسرز کے درمیان کشیدگی
گوگل کی اس حکمت عملی کا اہم پہلو یہ ہے کہ کمپنی ایک طرف بعض شعبوں میں ملازمین کو رضاکارانہ طور پر علیحدگی کی پیشکش کررہی ہے، تو دوسری طرف مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو مستقبل کی ترقی کے لیے ترجیح دے رہی ہے۔ الفابیٹ کی چیف فنانشل آفیسر اناط اشکنازی بھی مختلف مواقع پر واضح کرچکی ہیں کہ اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنی کی مستقبل کی بھرتیوں اور سرمایہ کاری کے اہم شعبے ہیں۔ گوگل کے اے آئی ریسرچ یونٹ ڈیپ مائنڈ اور گوگل کلاؤڈ کے ملازمین کو ماضی کے بعض رضاکارانہ علیحدگی پروگراموں سے باہر رکھا گیا تھا۔ سوئٹزرلینڈ میں بھی تازہ پروگرام کے تحت ڈیپ مائنڈ کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اپنے وسائل کو ان شعبوں کی طرف منتقل کررہی ہے جنہیں وہ آئندہ کاروباری ترقی کے لیے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔ گوگل کا یہ قدم ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مائیکروسافٹ نے بھی اپنے تقریباً ۶۰؍ ہزار ملازمین کے لیے رضاکارانہ علاحدگی کی پیشکش کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کمپنی کے اخراجات کو قابو میں رکھنا اور بدلتی ہوئی کاروباری ضروریات کے مطابق افرادی قوت کو منظم کرنا بتایا گیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے فیصلے اس وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے لیے ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور نئی ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں، جبکہ دیگر شعبوں میں اخراجات اور ملازمین کی تعداد کا جائزہ بھی لے رہی ہیں۔ گوگل کی جانب سے تازہ توسیع کے لیے جن پانچ ممالک کے نام بتائے گئے ہیں، ان میں ہندوستان شامل نہیں ہے۔ کمپنی نے فی الحال ہندوستانی ملازمین کے لیے اس مخصوص مرحلے کے تحت کسی رضاکارانہ علیحدگی پروگرام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اس لیے یہ پیشکش ہندوستان میں کام کرنے والے گوگل ملازمین پر لاگو ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر گوگل اور مائیکروسافٹ کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں سرمایہ کاری، بھرتیوں اور ملازمتوں کی پالیسیوں کو نئی شکل دینا شروع کردیا ہے۔