• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جے رام رمیش کا بی جے پی پرجی رام جی دیہی روزگار اسکیم کے تحت جعلی حاضری کا الزام

Updated: November 05, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

جے رام رمیش نے بی جے پی پر جی رام جی دیہی روزگار اسکیم کے تحت جعلی حاضری درج کرنے کا الزام عائد کیا ہے، کانگریس پارٹی لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ اکتوبر میں گورکھپور کے بعد اب اتر پردیش کے سنت کبیر نگر میں بے ضابطگیوں کی اطلاع ملی ہے،انہوں نے پوچھا کہ ہندوتوا پارٹی ہندو دیوتا رام کے نام پر اور کتنے گناہ کرے گی۔

Congress leader Jairam Ramesh. Photo: INN
کانگریس لیڈر جے رام رمیش۔ تصویر: آئی این این

کانگریس لیڈر جے رام رمیش بی جے پی پر جی رام جی دیہی روزگار اسکیم کے تحت جعلی حاضری درج کرنے کا الزام عائد کیا ہے، انہوں  نے کہا کہ اکتوبر میں اسکیم کے تحت جعلی حاضری کا ایک معاملہ گورکھپور، اتر پردیش میں رپورٹ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے الزامات اٹھانے کے بعد حکومت نے وضاحت جاری کی تھی۔اس وقت، رمیش نے ریاست کے بہرائچ، چندولی اور غازی آباد اضلاع میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں ایک رپورٹ شیئر کی تھی۔رمیش نے کہا کہ اب اسی طرح کا معاملہ سنت کبیر نگر ضلع میں درج ہوا ہے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ کانگریس لیڈر کس رپورٹ کا حوالہ دے رہے تھے۔ واضح رہے کہ وکست بھارت-گارنٹی برائے روزگار اور آجیوکا مشن گرامین ایکٹ ایک جولائی کو نافذ ہوا۔ اس نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کی جگہ لی۔منریگا، جو۲۰۰۵ء میں کانگریس کی زیر قیادت یونائیٹڈ پروگریسو الائنس حکومت نے متعارف کرایا تھا، سالانہ۱۰۰؍ دن کے غیر ہنر مند کام کی ضمانت دی، جو ملک کے تمام اضلاع کا احاطہ کرتا تھا۔نئے قانون کے تحت، ضمانت شدہ کام کے دنوں کی تعداد بڑھ کر۱۲۵؍ ہو جائے گی، جبکہ اخراجات میں ریاستوں کا حصہ بڑھ کر۴۰؍ فیصد ہو جائے گا۔ مرکزی حکومت اجرت کے جزو کو برداشت کرتی رہے گی، ریاستوں کے ساتھ مواد اور انتظامی اخراجات کا اشتراک ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ: موتی نالے کے قریب نئے متوازی پل کا سلیب منہدم

بعد ازاں اپوزیشن کے زیر اقتدار پانچ  ریاستوں نے وی بی-جی رام جی ایکٹ کی مخالفت اور منریگا اسکیم کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے قراردادیں منظور کی ہیں۔بدھ کو، رمیش نے کہا کہ ’’کلون ایپس کے ذریعے جعلی حاضری درج کرنے کےمعاملے بار بار بے نقاب ہو رہے ہیں، جو ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔‘‘سابق مرکزی دیہی ترقی کے وزیر نے سوشل میڈیا پر کہا، ’’رام کے نام پر عطیات چوری اور نذرانے چوری، رام کے نام پر جعلی روزگار۔بی جے پی کے پاس رام کے نام پر ارتکاب کرنے کے لیے کتنے اور گناہ باقی ہیں؟‘‘دراصل رمیش ایودھیا میں رام مندر کو دیے گئے عطیات کے مبینہ غبن کا حوالہ دے رہے تھے۔ جبکہ ان الزامات کی تحقیقات سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’بہار میں کرائم ہوسکتاہے مگر اَپرادھ نہیں ہوتا‘

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن لیڈروں اور ایک وہسل بلوئر نے مندر میں عطیات کو سنبھالنے کے بارے میں سوالات اٹھائے۔جون میں اتر پردیش حکومت کو پیش کی گئی اپنی ابتدائی رپورٹ میں، ایک سابقہ تحقیقاتی ٹیم نے گنتی کے عملے کے نوٹوں کے بنڈل اور کھلے نقد کو اپنے کپڑوں، جیبوں اور جوتوں میں چھپانے کے کئی واقعات پائے تھے۔رپورٹ نے مندر کے ٹرسٹی انیل مشرا، جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لیڈرہیں، کو گنتی کے کمرے میں سیکورٹی پروٹوکول کو کمزور کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا لیکن ان کے خلاف کسی کارروائی کی سفارش نہیں کی۔ مشرا نے ٹرسٹ میں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔یاد رہے کہ آر ایس ایس بی جے پی کی بنیادی تنظیم ہے۔
مزید برآں اکتوبر کو، اتر پردیش کانگریس نے وی بی-جی رام جی اسکیم کے ڈیجیٹل حاضری نظام میں ۱۱؍ اضلاع میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان  اضلاع میں بہرائچ، چندولی اور غازی آباد کے علاوہ، ایودھیا بھی شامل تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK