• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اڈانی ٹوٹل گیس نے سی این جی کی قیمت میں۴۵ء۴؍ روپے فی کلو اضافہ کردیا

Updated: October 23, 2026, 8:04 PM IST | Ahmedabad

اڈانی ٹوٹل گیس لمیٹڈ (اے ٹی جی ایل) نے قدرتی گیس کی خریداری کی لاگت میں اضافے کے باعث احمد آباد میں کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمت میں ۴۵ء۴؍ روپے فی کلو کا اضافہ کردیا ہے۔

Adani.Photo:INN
اڈانی۔ تصویر:آئی این این

اڈانی ٹوٹل گیس لمیٹڈ (اے ٹی جی ایل) نے قدرتی گیس کی خریداری کی لاگت میں اضافے کے باعث احمد آباد میں کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمت میں  ۴۵ء۴؍ روپے فی کلو کا اضافہ کردیا ہے۔ اس اضافے کے بعد شہر میں سی این جی کی نئی خوردہ قیمت  ۴۷ء۹۸؍روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ کمپنی نے جمعہ کو قیمتوں میں ترمیم کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی منڈی میں گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ملک میں دستیاب قدرتی گیس کی مقدار میں کمی اور سپلائی میں مسلسل رکاوٹوں کے باعث گیس خریدنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل اگست  ۲۰۲۶ء میں بھی کمپنی نے سی این جی کی قیمت میں ۴؍ روپے فی کلو اضافہ کیا تھا، جس کے بعد قیمت ۲۰ء۹۴؍ روپے فی کلو ہوگئی تھی۔ تازہ اضافے سے سی این جی استعمال کرنے والے گاڑی مالکان، آٹو رکشا چلانے والوں اور دیگر صارفین کے ایندھن کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے۔
 اڈانی ٹوٹل گیس کے مطابق، عالمی سطح پر جغرافیائی اور سیاسی حالات میں تبدیلی، گھریلو گیس کی محدود دستیابی اور سپلائی میں مسلسل کمی نے قدرتی گیس کی خریداری کو مہنگا کردیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ ان حالات میں قیمتوں میں ترمیم ضروری ہوگئی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صارفین پر اضافی لاگت کے اثرات کو محدود رکھنے اور سی این جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کے ساتھ کمپنی نے سی این جی کو اب بھی نسبتاً کفایتی اور ماحول دوست ایندھن قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سیف علی خان اور ودیا بالن ۱۹؍ سال بعد پھر ایک ساتھ

 کمپنی نے وضاحت کی کہ نیو ویل گیس (این ڈبلیو جی) اور ہائی پریشر ہائی ٹمپریچر (ایچ پی ایچ ٹی) گیس کی دستیابی میں کمی کے ساتھ اسپاٹ مارکیٹ میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتیں بڑھنے سے سی این جی کے لیے استعمال ہونے والی گیس کی اوسط وزنی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اے ٹی جی ایل کے مطابق، عالمی اسپاٹ ایل این جی کی قیمت فروری  ۲۰۲۶ءمیں تقریباً ۱۰؍ سے۱۲؍ ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً ۳۰؍ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی ہے۔ اس اضافے سے درآمدی گیس کی لاگت پر خاصا دباؤ پڑا ہے۔ اڈانی ٹوٹل گیس نے بتایا کہ گیس پیدا کرنے والے اداروں کی جانب سے سپلائی میں مسلسل کمی کی جارہی ہے، جس کے باعث کمپنی کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل اور مہنگے ذرائع سے گیس خریدنی پڑرہی ہے۔ کمپنی کے مطابق، این ڈبلیو جی کی مختص مقدار میں حالیہ کمی سے سی این جی کی فروخت کے لیے مسابقتی قیمتوں پر دستیاب گھریلو گیس کی مقدار بھی کم ہوئی ہے۔مزید برآں،۱۹؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو جاری کردہ ایک دفتری یادداشت کے ذریعے ترجیحی شعبوں میں استعمال کے لیے دستیاب ایچ پی ایچ ٹی گیس کی مقدار بھی کم کردی گئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات نے گھریلو گیس کی فراہمی پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:لاس اینجلس اولمپکس کے کوالیفائر جنوری، فروری ۲۰۲۸ء میں ہوں گے

 احمد آباد میں سی این جی کی قیمت ۴۷ء۹۸؍ روپے فی کلو تک پہنچنے سے روزانہ گاڑی چلانے والے صارفین اور تجارتی گاڑیوں کے مالکان کے ایندھن کے بجٹ پر اثر پڑسکتا ہے۔ خصوصاً آٹو رکشا اور سی این جی سے چلنے والی دیگر گاڑیوں کے ذریعے روزگار کمانے والوں کے لیے ایندھن کی لاگت میں اضافہ اہم معاملہ ہے۔ تاہم، قیمتوں میں تازہ اضافے کے بعد مختلف گاڑیوں کے مجموعی اخراجات پر پڑنے والا اثر ان کے روزانہ سفر، ایندھن کی کھپت اور استعمال کی نوعیت پر منحصر ہوگا۔
اڈانی ٹوٹل گیس نے واضح کیا ہے کہ قیمتوں میں تبدیلی کا بنیادی سبب گیس کی خریداری کی بڑھتی ہوئی لاگت اور سپلائی کی صورت حال ہے۔ عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتوں اور ملک میں گھریلو گیس کی دستیابی میں ہونے والی تبدیلیاں آئندہ بھی سی این جی کی قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK