• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آدتیہ پنچولی ہیرو کے بجائےمنفی اور معاون کرداروں میں مشہور ہوئے

Updated: September 12, 2026, 12:37 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

آدتیہ پنچولی کا شمار ہندی فلموں کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے مرکزی ہیرو سے معاون اداکار، اور پھر منفی کرداروں تک کا ایک طویل سفر طے کیا۔

Aditya Pancholi could not achieve much success. Photo: INN
آدتیہ پنچولی زیادہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ تصویر: آئی این این

آدتیہ پنچولی کا شمار ہندی فلموں کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے مرکزی ہیرو سے معاون اداکار، اور پھر منفی کرداروں تک کا ایک طویل سفر طے کیا۔ ان کی فلمی زندگی میں کامیابی بھی آئی، ناکامیاں بھی، شہرت بھی ملی اور تنازعات بھی ان کے ساتھ جڑے رہے۔ خاص بات یہ ہے کہ طویل عرصے تک فلموں میں کام کرنے کے باوجود وہ کبھی روایتی معنوں میں سپر اسٹار نہیں بن سکے، لیکن ان کی شخصیت اور اسکرین پر موجودگی نے انہیں ایک الگ شناخت ضرور دی۔ ان کی فلمی زندگی کا آخری نمایاں دور باجی راؤ مستانی، ہیرو، جئے ہو، ریس۲؍ اور مسافر جیسی فلموں میں معاون اور منفی کرداروں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ڈرافٹ لسٹ جاری ہونے کے ۱۲؍ دن بعد بھی انوملی پر ووٹروں کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا

آدتیہ پنچولی کا اصل نام نرمل پنچولی بتایا جاتا ہے اور ان کی پیدائش۱۲؍ستمبر۱۹۶۵ءکوممبئی میں ہوئی۔ ان کے والد راجن پنچولی فلم پروڈیوسر تھے۔ پنچولی خاندان کافلمی دنیا سے تعلق پرانا ہے اور خاندان کے بزرگوں نے تقسیم ہند سے پہلے لاہور میں فلمی سرگرمیوں اور اسٹوڈیو کے کاروبار میں بھی حصہ لیا تھا۔فلمی ماحول سے تعلق ہونے کےباوجود آدتیہ کے لیے اداکاری کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نےپہلے ٹیلی ویژن پر کام کیا اور ۱۹۸۰ءکی دہائی کے وسط میں فلموں کارخ کیا۔ ان کی ابتدائی فلموں میں سستی دلہن مہنگا دولہا، کب تک چپ رہوں گی، دیاوان اور مالامال شامل تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: دیویندو نے اپنے نام کی اسپیلنگ تبدیل کرنے کے پیچھے کا ’سائنس‘ بتا دیا

آدتیہ پنچولی نے فلمی کریئرکےابتدائی برسوں میں خود کو ایک روایتی ہیرو کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کی۔۱۹۸۰ء اور ء۱۹۹۰ء کی دہائی میںانہیں ایکشن اور ڈرامافلموں میں مرکزی یا اہم کردار ملے۔ سیلاب، ساتھی، زخمی زمین، یا د رکھے گی دنیا، صاحب زادے، تہلکہ، رام شاستر، راون راج، مقابلہ اورمعاملہ جیسی فلموں میں انہوں نے مختلف کردار ادا کیے۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جس زمانے میں آدتیہ فلموں میںمرکزی کردار ادا کر رہے تھے، اسی دور میں ہندی سنیما میں کئی بڑے ستارے اپنی جگہ مضبوط کرچکے تھے۔ ایسے میں آدتیہ کے لیے خود کو مستقل طور پر ایک بڑے ہیرو کے طور پر قائم کرنا مشکل ثابت ہوا۔ ان کی متعدد فلمیں ریلیز ہوئیں، لیکن وہ وہ مقام حاصل نہ کرسکے جس کی ایک مرکزی اداکار کو تلاش ہوتی ہے۔آدتیہ پنچولی کے کیریئر کا ایک اہم موڑ۱۹۹۷ءمیںآیا، جب عزیز مرزا کی فلم یس باس میں انہوں نے شاہ رخ خان اور جوہی چاولہ کے ساتھ کام کیا۔ فلم میں شاہ رخ خان مرکزی کردار میں تھے، جب کہ آدتیہ نے منفی کردار ادا کیا تھا۔یہ وہ مرحلہ تھا جب آدتیہ نے محسوس کیا کہ ان کی شخصیت اور اسکرین پریزنس منفی کرداروں میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ یس باس کامیاب ہوئی اور آدتیہ کے کردار کو بھی توجہ ملی۔ انہیں اس کردار کے لیے فلم فیئر کے بہترین منفی کردار کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا۔۱۹۹۰ءکی دہائی کے آخری برسوں میں آدتیہ پنچولی نے زنجیر: دی چین، دیوتا، ہفتہ وصولی، بے نام اور آیاطوفان جیسی فلموں میں کام کیا۔۲۰۰۰ءمیں سنجے گپتا کی جنگ اور باغی میں بھی ان کے کردار نمایاں رہے۔۲۰۰۴ءمیںسنجےگپتاکی فلم مسافر میں آدتیہ پنچولی نے ایک اہم منفی کردارادا کیا۔اس کے بعد دم مارو دم، باڈی گارڈ، رش، ممبئی مرر، ریس۲؍، جئے ہو، ڈشکیاؤں اور ہیرو جیسی فلموں میں وہ مختلف کرداروں میں نظر آئے۔ آدتیہ پنچولی شاید کبھی شاہ رخ خان، سلمان خان یا عامر خان جیسے سپر اسٹار نہ بن سکے، لیکن ان کا کیریئر اس بات کی مثال ضرور ہے کہ فلمی دنیا میں ہر اداکار کا سفر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK