• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈرافٹ لسٹ جاری ہونے کے ۱۲؍ دن بعد بھی انوملی پر ووٹروں کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا

Updated: September 12, 2026, 11:52 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

رائے دہندگان فکرمند۔ بی ایل او نے بتایا کہ انہیں تقسیم کرنے کیلئے نوٹس ملے ہی نہیں ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے یقین دہانی کرائی کہ اگلے ہفتہ سے نوٹس جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

There is no information yet regarding the notices given to the BLO for distribution among voters. Photo: INN
بی ایل او کو ووٹروں میں تقسیم کرنے کیلئے دیئے جانےوالے نوٹس کی کوئی اطلاع اب تک نہیں ہے۔ تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت پرمہاراشٹر میں اسپیشل انٹیسیوریویژن(ایس آئی آر) کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد۲؍ کرو ڑ  ۶؍ لاکھ۸۸؍ ہزار ۴۸۷؍ ووٹروں کے نام حذف کر دیئے گئے تھے اور وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ان ووٹروں نے اِنومریشن فارم بھرے ہی نہیں  تھے۔ جب ۳۱؍ اگست کو ڈرافٹ ووٹنگ لسٹ جاری کی گئی  تو مزید  ایک کروڑ ۲۰؍لاکھ رائے دہندگان کو  بے ضابطگی اور  اَن میپڈ قرار دےکر یہ کہا گیا تھا کہ ان ووٹروں کو نوٹس دیا جائے گا لیکن ڈرافٹ لسٹ جاری ہو کر ۱۲؍ دن گزر جانے کےباوجود اب تک انوملی اور اَن میپڈ ووٹر وں کو نوٹس جاری کرنے کا سلسلہ شروع نہیں کیا گیا ہےجس سے ان میں تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ  انہیں یہ معلوم کرنے کی کوئی سہولت نہیں دی گئی ہے کہ ان کا نام انوملی یا ان میپڈ ووٹر لسٹ میں شامل ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’حراستی تشدد پولیس کی ڈیوٹی کا حصہ نہیں، جرم ہے‘‘

اس ضمن میں مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے استفسار کرنے پر انہوں نے یقین دلایا کہ اگلے ہفتہ سے نوٹس دینے کا سلسلہ شروع کر دیاجائے گا اور ووٹروں کو درکار دستاویزپیش کرنے کا پورا موقع دیاجائے گا۔اسی دوران بوتھ لیول آفیسر ( بی ایل او) اپنی سطح پر ووٹروں کو مطلع کر رہے ہیںکہ جیسی ہی انہیں نوٹس موصول ہوگا، وہ اس کی تقسیم شروع کر دیں گے۔

واضح رہے کہ ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ ووٹرس جنہیں اَن میپڈ یا  بے ضابطگی والے زمرے کیلئے نوٹس جاری کئے جائیں گے، انہیں دستاویزات فراہم کرنے کیلئے ۲۹؍  اکتوبر تک کا وقت ہے لیکن انہیں نوٹس میں بتائے گئے وقت اور تاریخ پر ہی متعلقہ افسر کے سامنے حاضر ہونا ہوگا۔ اَن میپڈ کیٹیگری میں شامل افراد کو اپنے یا رشتہ داروں کےنام  اپریل ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔

میاں بیوی کا نام انو ملی میں لیکن کوئی نوٹس نہیں ملا 

مدنپورہ کے ایک ووٹر نے بتایاکہ شہریوں کو ایس آئی آر کی کارروائی کی اپ ڈیٹ دینے کیلئے ہمارے محلہ کا جو گروپ بنایاگیاہے ،اس میں انوملی اور ان میپڈ ووٹروں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ اس فہرست میںمیرا اور میری بیوی کا نام انو ملی میں شامل کیا گیا ہے۔ میرے نام میں جبکہ میری بیوی کی عمر میں فرق  بتایا گیا ہے لیکن اب تک بی ایل او کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں دیاگیا ہے۔

خاندان کے ۶؍ افراد کا نام انوملی میں شامل!

اسی طر ح چیتا کیمپ کے ایک ووٹر نے بتایا کہ ان کے خاندان کے ۶؍ افراد کا نام انوملی میں شامل کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ جس وقت انہوں نے ایس آئی آر کافارم بی ایل او کے پاس جمع کیا تھا اس وقت بی ایل او نے بے ضابطگی کی کوئی بات نہیں بتائی تھی،   اسی وقت مجھے یہ بتا دیا جاتا تو  اس  بے ضابطگی کو ختم کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: عدلیہ میں کالی بھیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ہر سطح پرعدالتیں اکثریت نوازی کی طرف بڑھ رہی ہیں

 ہمیں تقسیم کرنے کیلئے نوٹس نہیں ملا ہے: بی ایل او

اس ضمن میں نمائندہ ٔ انقلاب نے چند بی ایل او سے بھی رابطہ قائم کیا اور ان سے نوٹس تقسیم نہ کئے جانے کے تعلق سے استفسار کیا تو انہوںنے بتایاکہ اب تک  ہمیں انو ملی اور اَن میپڈووٹروں میں تقسیم  کئے جانے والے نوٹس نہیں ملے ہیں اور نہ ہی اس تعلق سے کوئی اطلاع دی گئی ہے کہ کب یہ نوٹس ہمیں ملیں گے جو ہم متعلقہ ووٹروں کو تقسیم کر سکیں۔‘‘

ممبرا میں ایس آئی آر کے تعلق سے سرگرم گروپ ’جاگروک ناگرک ‘کے بانی شاداب سر (خان) سے رابطہ کرنے پرانہوں نے بتایاکہ ’’افسران سے ایسا پتہ چلا ہے کہ ایس آئی آر کے ایپلی کیشن میں کچھ اپڈیٹ ہو رہا ہے اور اسی تکنیکی وجہ سے اب تک بی ایل او کو انوملی اور ان میپڈ ووٹروںکی فہرست جاری نہیں کی گئی ہے ۔ تکنیکی کام مکمل ہوتے ہی   نوٹس کی تقسیم اور سماعت بھی شروع ہو جائے گی۔‘‘

 چیف الیکٹورل آفیسر  نے کیا کہا؟ 

انوملی اور ان میپڈ ووٹروں کی فہرست اور نوٹس کے تعلق سے مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے استفسار کرنے پر انہوں نے یقین دلایا کہ اگلے ہفتہ  نوٹس کی تقسیم اور سماعت کا سلسلہ شروع کر دیاجائے گا۔

گھبرائیں نہیں : الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گھبرائیں نہیں،نوٹس ملنے کا مطلب نام کٹ جانا نہیں ہے، یہ صرف ایک انتظامی تصدیق کا عمل ہےتاکہ ہندوستانی باشندوں کا نام ہی ووٹر لسٹ میں شامل کیاجاسکے۔

یہ بھی پڑھئے: بینک ملازمین کی ملک گیر ہڑتال کے سبب بینکوں میں کام کاج بری طرح متاثر

کون سے دستاویز پیش کرنے ہوں گے ؟

ایس آئی آر  کا نوٹس ملنے پر ووٹر کو اپنی شناخت، عمر یا پتہ کی تصدیق کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے تسلیم شدہ مطلوبہ دستاویزات   اصل کاپی کے ساتھ پیش کرنے ہوں گے۔اہم اور قابلِ قبول دستاویزات (فہرست) آپ ان میں سے کوئی بھی درست دستاویز پیش کر سکتے ہیں:

(۱)ہندوستانی پاسپورٹ۔ (۲)پیدائش کا سرٹیفکیٹ: میونسپل کارپوریشن یا مجاز ادارے کا جاری کردہ۔ (۳)تعلیمی سرٹیفکیٹ: دسویںیا کسی تسلیم شدہ بورڈ/ یونیورسٹی کی مارک شیٹ یا سرٹیفکیٹ، (۴)سرکاری شناختی کارڈ: مرکزی، ریاستی حکومت یا پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ کا ملازمت کا کارڈ یا پنشن آرڈر۔ (۵)ذات کا سرٹیفکیٹ: درج فہرست ذات(ایس سی)، درج فہرست  قبائل( ایس ٹی) یا پسماندہ طبقہ( او بی سی) کا سرٹیفکیٹ۔ (۶)رہائشی یا خاندانی دستاویز: مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ یا سرکاری خاندانی رجسٹر،  (۷)جائیداد کا ثبوت: حکومت کی طرف سے جاری کردہ زمین یا مکان کے الاٹمنٹ کا سرٹیفکیٹ۔  (۸)پرانی ووٹر لسٹ کا ریکارڈ: گزشتہ برسوں(جیسے ۲۰۰۲ء سے۲۰۰۴ء کے درمیان) کی انتخابی فہرست میں اپنا یا والدین کا نام۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK