Updated: May 01, 2026, 6:03 PM IST
| Washington
جیفری ایپسٹین سے متعلق ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے افریقہ میں سیاسی و کاروباری اشرافیہ سے تعلقات قائم کر کے ’’دولت، طاقت اور خواتین‘‘ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے روابط سینیگال، لیبیا اور دیگر ممالک تک پھیلے ہوئے تھے، تاہم یہ تمام دعوے تحقیقات پر مبنی ہیں اور کئی پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
بدنام زمانہ امریکی مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین۔ تصویر: ایکس
بدنام زمانہ امریکی مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کے بارے میں سامنے آنے والی ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں افریقہ کے مختلف ممالک میں اثر و رسوخ بڑھانے، کاروباری مواقع حاصل کرنے اور ذاتی مقاصد کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک بنانے کی کوشش کی۔ یہ انکشاف ایک میڈیا تحقیق (خاص طور پر میامی ہیرالڈ کی رپورٹ) پر مبنی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایپسٹین نے افریقی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے اور انہیں مختلف سہولیات اور مالی مدد فراہم کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سینیگال کے سابق صدر عبداللہ وید کے بیٹے کریم وید کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کے دوران، ایپسٹین نے اس کی مالی اور قانونی مدد کی۔ اس میں امریکہ میں لابنگ کے لیے ایک اعلیٰ قانونی فرم کی خدمات حاصل کرنا بھی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ :مذاکرات درکنار، سخت بیان بازی شروع
ایک ای میل میں ایپسٹین نے کریم وید کو لکھا کہ ’’میں بہت خوش ہوں کہ آپ واپس آ گئے… ہم اپنے قید کے تجربات شیئر کر سکتے ہیں۔‘‘ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایپسٹین نے ۲۰۱۰ء کے آس پاس لیبیا کے سابق لیڈر معمر قذافی کے ساتھ تعلقات بنانے کی کوشش کی، اور بعد میں جب ان کی حکومت کمزور ہوئی تو مخالف گروہوں سے بھی روابط قائم کیے۔ اسی طرح، ۲۰۱۸ء میں اس نے ایک نائیجیرین نژاد کاروباری شخصیت کو امریکی پابندیوں سے بچنے کے طریقے بتائے۔ ایک مشورے میں اس نے کہا کہ ’’اگر آپ خزانہ محکمہ کے متعلقہ شعبے سے ملیں، تو شاید آپ اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔‘‘
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپسٹین نے افریقہ سے خواتین کو اپنے پاس بلانے کی کوشش کی، جن کے لیے اس نے سفر کے اخراجات ادا کرنے کی پیشکش کی۔ ایک ای میل میں اس نے لکھا کہ ’’میں ۲۵؍ سال سے کم عمر کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘ مزید برآں، ایک اور متنازع پیغام میں اس نے نسلی ترجیح کا اظہار بھی کیا، جس پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج میں خودکشی میں اضافہ: ہاریٹز
واضح رہے کہ یہ انکشافات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب Epstein Files Transparency Act کے تحت جاری ہونے والی دستاویزات نے ایپسٹین کے عالمی روابط کو مزید بے نقاب کیا ہے۔ ان دستاویزات میں افریقہ سمیت کئی خطوں میں اس کے اثر و رسوخ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ دیگر رپورٹس کے مطابق، ایپسٹین نے افریقہ میں سیاسی لیڈروں، سرمایہ کاروں اور حتیٰ کہ ماڈلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے ایک ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کی جس میں طاقت، کاروبار اور ذاتی مفادات آپس میں جڑے ہوئے تھے۔
یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ رپورٹ میں شامل تمام دعوے مکمل طور پر عدالتوں میں ثابت نہیں ہوئے، اور کچھ پہلو ابھی مزید تحقیقات کے متقاضی ہیں۔