Inquilab Logo Happiest Places to Work

توہم پرستی کے خلاف بیداری کے فنڈ کی تقسیم میں حکومت پر من مانی کا الزام

Updated: May 10, 2026, 10:54 AM IST | Chandrapur

تشکیل کردہ کمیٹی کی میٹنگ بلائے بغیر ہی ناتجربہ کار تنظیموں کو فنڈ تقسیم کر دیا گیا، ۴۴؍ سال سے سرگرم اندھ شردھا نرمولن سمیتی نظر انداز۔

Shyam Manu is the chairman of the committee but no opinion was taken from him. Photo: INN
شیام مانو کمیٹی کے چیئر مین ہیں مگر ان سے کوئی رائے ہی نہیں لی گئی۔ تصویر: آئی این این

اگرچہ مہاراشٹر میں انسانوں کی بلی اور اگھوری پوجا جیسی توہم پرستی کے خلاف سخت قوانین منظور ہوئے ایک دہائی سے زیا دہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت ان قوانین کو نافذ کرنے  سے زیادہ اس محکمے کے فنڈ کی تقسیم (اپنی مرضی سے) میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ توہم پرستی کے خلاف کام کرنے والی مشہور تنظیم’ اندھ شردھا نرمولن سمیتی‘ نے الزام لگایا ہے کہ مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کیلئے انسداد جادو ٹونا ایکٹ کی تشہیر کیلئے منظور شدہ ایک کروڑ ۷۷؍ لاکھ ۷۸؍ ہزار وپے کے فنڈ کی تقسیم کے دوران ۴۴؍ سال سے توہم پرستی کے خلاف سرگرم اند ھ شردھا نرمولن سمیتی اور دیگر تنظیموں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور حکومت نےاپنی پسندیدہ تنظیموں کو اس کام کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ جبکہ ان تنظیموں کاتجربہ  زیادہ سے زیادہ صرف ۴؍ سال کا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں بی جے پی کی پہلی حکومت قائم، بھگوا خیمہ سرشار

حکومت نے قانون کے نفاذ کیلئے انسداد جادو ٹوناایکٹ پروموشن کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں پروفیسر شیام مانو( اندھ شردھا نرمولن سمیتی کے سربراہ) کو جوائنٹ چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ریاست بھر میں ۲۳۶؍ تربیت یافتہ مقررین کو تیار کیا گیا جو توہم پرستی کے تعلق سے عوام میں بیداری پیدا کر سکیں۔ تاہم اس سال فنڈ کی تقسیم کے دورا ن کمیٹی کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ محکمۂ سماجی انصاف اور محکمۂ خصوصی امداد نے ۳۱؍  مارچ کو ریاست میں  ۷؍ مخصوص تنظیموں کا انتخاب کیا ہے اور ان میں فنڈ تقسیم کیا ۔

یاد رہے کہ حکومت توہم پرستی کے خلاف بیداری مہم چلانے اور اس تعلق سے منظو ر کردہ قانون کی تشہیر کیلئے سماجی تنظیموں کی خدمات حاصل کرتی ہے جو توہم پرستی کے خلاف کام کر رہی ہوں۔ اس میں خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ جو تنظیم جس علاقے میں اثر ورسوخ رکھتی ہو اسے اسی علاقے کی ذمہ داری سونپی جائے لیکن اس بار دھولیہ اور جلگاؤں جیسے ضلعوں میں کام کرنے والی تنظیموں کو امراوتی اور ناگپور ڈیویژن کے اضلاع میں عوامی بیداری کا کام دیا گیا ہے۔ شری ستیہ سائی سیوا منڈل (جلگاؤں) کو امراوتی ڈیویژن میں ۵؍ اضلاع، جوگی ماتا کلچرل منڈل (دھولیہ) کو ناسک ڈویژن میں ۵؍ اضلاع اور دیوموگرا مہیلا منڈل (دھولیہ) کو ناگپور ڈیویژن میں ۶؍  اضلاع دیئے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی میں ہیٹ کرائم ٹریکر کا اجراء، نفرت پر مبنی واقعات کا ڈیٹا یکجا ہوگا

تنظیم نے سوال کیا ہے کہ مقامی سطح پر کام کرنے والی تجربہ کار تنظیموں کو چھوڑ کر اور مقامی بولیوں اور رسم و رواج کو جاننے والے افراد کو نظر کرکےباہر کے اضلاع کی تنظیموں پر یہ احسان کیوں کیا گیا ہے؟ من پسند تنظیموں کو کروڑوں روپے بانٹنا، قانون کی تشہیر کی ذمہ داری سونپنے  کے معاملے میںتجربہ کار تنظیموں کو نظر انداز کرنا  ریاست  میںترقی پسندتحریک کی توہین ہے۔  انسداد جادو ٹوناایکٹ پروموشن کمیٹی کے رکن ہری بھاؤ پاتھوڈے کا کہنا ہے کہ ریاستی کمیٹی کی میٹنگ کے بغیر ودربھ میں کام کی ذمہ داری خاندیش کی تنظیموں کو سونپنا، شفافیت کو طاق پر رکھنا ہے۔  حکومت کے تربیت یافتہ  مقررین کو کام نہ دینا  سرکاری تجوری کا غلط استعمال اور توہم پرستی کو شے دینے کے برابر ہے۔ ‘‘ یاد رہے کہ اندھ شردھا نرمولن سمیتی کی بنیاد گووند پانسرے نے ڈالی تھی جن کے قتل کے بعد حکومت نے توہم پرستی مخالف قانون منظور کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK